بنگلہ دیش میں ظلم کا راج ——سلیم منصور خالد


دنیا نے ظلم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور ظالم، ظلم کی آخری حدوں کو چھونے کا کھیل پوری شدت سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج کے بنگلہ دیش کا ہر دن ظلم کی نئی داستان لیے طلوع ہوتا ہے۔ یوں تو اُس سرزمین پر برپا ظلم کی ان داستانوں کے کئی عنوان ہیں، تاہم یہاں چند پہلو پیش کیے جارہے ہیں:

جیل میں یوسف علی کی رحلت
۱۸؍نومبر کو جماعت اسلامی جمال پور کے ۸۵ سالہ بزرگ رہنما ایس ایم یوسف علی، قید کے دوران ڈھاکا میڈیکل کالج میں انتقال کر گئے۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل انھیں بنگلہ دیشی ٹریبونل نے ’موت تک قید‘ کی سزا سنائی تھی۔
مرحوم یوسف علی ۱۹۷۰ء میں جماعت اسلامی کے جمال پور سے قومی اسمبلی کے لیے اُمیدوار تھے۔ اُن دنوں وہ سنگھ جانی باہمکھی ہائی اسکول جمال پور میں ہیڈماسٹر تھے۔ ۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد بھی وہ مسلسل اسی اسکول میں تعلیمی و تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس پورے زمانے میں ان کے خلاف کبھی کوئی فوجداری یا جنگی جرم کی نہ کوئی بات سنی گئی اور نہ کسی نے ان پر الزام لگایا اور نہ کہیں کوئی معمولی درجے کا مقدمہ ہی درج کیا گیا۔
۲۰۱۳ء میں یوسف علی صاحب کو ۸۲سال کی عمر میں ایک روز انھیں اچانک قید کر کے ڈھاکا سنٹرل جیل میں ڈال دیا گیا اور پھر خانہ زاد مقدمے کے تحت پہلے جنگی ملزم بنایا اور ۲۰۱۶ء میں جنگی مجرم قرار دے کر عمربھر کے لیے قید کی سزا سنا دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ظالموں کی قید سے رہائی دلا دی، انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔
اس سے ٹھیک ۲۴ روز قبل اسی طرح کا ایک اور افسوس ناک واقعہ یہ رُونما ہوا کہ ۲۵؍اکتوبر ۲۰۱۶ء کو مسلم لیگ کے ۸۵سالہ سلیمان مُلّا اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ۶۵سالہ ادریس علی کے خلاف متنازعہ ٹریبونل میں مقدمہ آخری مرحلے میں داخل ہوا۔ ۲۶؍ اکتوبر کو سماعت شروع ہوئی تو سرکاری وکیل نے ٹریبونل کو آگاہ کیا: ’’مسلم لیگ شریعت پور سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹی سے وابستہ ملزم سلیمان مُلّا کا گذشتہ رات جیل میں انتقال ہوگیا ہے۔ جس پر ٹریبونل نے یکم نومبر تک مقدمے کی سماعت ملتوی کردی‘‘۔(ڈیلی اسٹار، ۲۷؍اکتوبر)
اس سے پیش تر بھی بنگلہ دیش کی قاتل حکومت اور سفاک عدالت کے ہاتھوں تین اور رہنما اسی طرح موت کی آغوش میں چلے گئے، جن میں:
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ۸۵سالہ بزرگ رہنما عبدالعلیم خان کو ۹؍اکتوبر ۲۰۱۳ء کو ’موت تک قید‘ کی سزا سنائی گئی تھی، وہ پھیپھڑوں کے کینسر کے مریض تھے۔ اسی مرض میں قید کے دوران ۲۹؍اگست ۲۰۱۴ء کو انتقال کرگئے۔
جماعت اسلامی کے بزرگ رہنما اے کے ایم یوسف (پ:۱۹ مارچ ۱۹۲۶ء) کو قید کے دوران مذکورہ ٹریبونل نے ’موت تک قید‘ کی سزا سنائی۔ انھوں نے ۸۷برس کی عمر میں جیل ہی میں ۲فروری ۲۰۱۴ء کو رحلت فرمائی۔
جماعت اسلامی کے سابق امیر اور عالم اسلام کے مایہ ناز فرزند پروفیسر غلام اعظم (پ:۷نومبر ۱۹۲۲ء) کو اس ٹریبونل نے ۱۵جولائی ۲۰۱۳ء کے روز ’موت تک سزاے قید‘ سنائی تھی۔ پروفیسر صاحب نے ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۴ء کو ۹۱برس کی عمر میں دورانِ اسیری انتقال فرمایا۔
دوسری طرف ۲۶؍اکتوبر کو بنگلہ دیشی فورسز اور پولیس نے بہیمانہ کارروائی کرکے ضلع جھیناہدہ سے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کے سات کارکنوں کو شہید کر دیا۔ اس طرح گذشتہ چار ماہ کے دوران اسی ضلع سے تحریکِ اسلامی کے ۱۴کارکنوں کو قتل کیا گیا ہے۔ (’BD جماعت‘ ، ۲۷؍اکتوبر ۲۰۱۶ء)

نومنتخب امیرجماعت کے خلاف مہم
۱۷؍اکتوبر ۲۰۱۶ء کو خفیہ بیلٹ کے ذریعے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ۴۰ہزار ارکان نے جناب مقبول احمد کو امیرجماعت منتخب کیا۔ مقبول احمد، فینی کے ایک معروف مقامی اسکول میں بطورِ استاد ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔ اُن کے بارے میں والدین، بچوں اور اساتذہ کی راے ہے کہ وہ ایک شریف النفس انسان، متوازن، مشفق عالم اور سراپا معلم ہیں۔ جب امیرجماعت مطیع الرحمٰن نظامی کو حکومت نے قید کر دیا تو جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے انھیں چھے برس (۲۰۱۱ء-۲۰۱۶ء) تک بنگلہ دیش جماعت اسلامی کا قائم مقام امیر جماعت مقرر کیا۔
مقبول احمد صاحب جیسے ہی امیرجماعت منتخب ہوئے تو اگلے ہی روز انٹرنیٹ پر کسی نے یہ جملہ اُچھالا: ’’مقبول احمد بھی جنگی مجرم ہیں‘‘۔ پھر رفتہ رفتہ سوشل میڈیا پر جعلی کہانیوں اور جھوٹے الزامات کی ایک طوفانی مہم برپا کر دی گئی اور انھیں ’جنگی جرائم‘ میں گھیرنے کے لیے دائرہ تنگ کیا جانے لگا، حالانکہ ۱۹۷۱ء میں وہ جماعت کے کوئی نمایاں فرد نہیں تھے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ قائم مقام امارت کے پورے چھے برس ہی میں نہیں بلکہ اُس سے پہلے ۱۹۷۱ء سے ۲۰۱۱ء تک مقبول صاحب کو کبھی کسی فوجداری الزام کا سزاوار قرار نہ دیا گیا۔
چونکہ یہ سب کام اس منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے کہ جماعت اسلامی کو کسی بھی اعتبار سے قدم جمانے نہ دیے جائیں۔ اس لیے مقبول احمد صاحب کے امیرجماعت منتخب ہونے کے ۲۲ویں روز ’جنگی جرائم کی نام نہاد عدالت‘ کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر نورالاسلام نے ضلع فینی کا دورہ شروع کیا۔ یہاں پر جماعت کے مخالف اخبار کی یہ رپورٹ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے: ’’نورالاسلام نے منگل کی سہ پہر سرکٹ ہائوس پہنچ کر جماعت اسلامی کے امیر مقبول احمد کے خلاف ۱۹۷۱ء کے جنگی جرائم کی تلاش کا آغاز کیا‘‘ (ڈھاکا ٹربیون، ۸نومبر ۲۰۱۶ء)۔
پھر عوامی لیگی لیڈر میر عبدالحنان نے پریس کانفرنس سے خطاب میں اعلان کیا:’’ہم مقبول احمد کے خلاف شواہد اکٹھے کر رہے ہیں اور اس کے لیے انٹرنیٹ، اخبارات پر گردش کرنے والی رپورٹوں کو بنیاد بنارہے ہیں‘‘(ڈھاکا ٹربیون، ۱۵نومبر ۲۰۱۶ء)۔سوال یہ ہے کہ اگر اُن پر واقعی ایک نہیں بلکہ ۱۰ہندوئوں کو قتل کرنے کا الزام تھا،تو اس جنگی جرم کے خلاف ۴۶ برس تک کیوں کسی نے آواز نہ اُٹھائی؟ کس فائل میں یہ کیس دبا ہوا تھا، کہ اس کی تلاش کا آغاز پانچویں عشرے میں کیا جارہا ہے؟ مقتولین کے کسی وارث نے کیوں ۴۶برس تک کہیں کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی؟ ان سوالوںکا جواب دینے کے بجاے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مسلسل یہی پروپیگنڈا کرکے جماعت کی قیادت کو دبائو میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جنگی جرائم کے مقدمات میں عالمی شہرت کے حامل قانون دان بیرسٹر ٹوبی کیڈمین کا یہ بیان قابلِ توجہ ہے: ’’بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹریبونل اپنے قیام کے پہلے روز سے سیاسی انتقام اور عدل و انصاف کے قتل کی آماج گاہ بنے ہوئے ہیں۔ گذشتہ مہینے بنگلہ دیشی وزیرخارجہ محمدشہریار عالم نے اسٹیٹس پارٹیز کی ۱۵ویں اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اب ہمیں جنگی جرائم کے لیے عالمی سطح پر عدالت لگانے کے لیے ماضی کا رواج ترک کر دینا چاہیے، اور ملکی سطح پر ہی ایسے مقدمات چلانے کے رواج کو فروغ دینا چاہیے‘‘۔ یہ بیان عالمی انصاف اور عدالتی روح سے متصادم ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیشی حکومت کی بدنیتی آشکارا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسی دوران میں بنگلہ دیشی حکومت کی انتقامی سوچ نے جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر مقبول احمد کو بے بنیاد الزامات اور مقدمات کے گرداب میں پھنسانے کا عمل شروع کر دیا۔ وہ ہے بنگلہ دیش کہ جہاں ایک گھنائونے عدالتی ڈرامے میں انصاف کا قتل اور جماعت اسلامی سے انتقام ہرقیمت پر‘‘۔(ہوفنگسٹن پوسٹ، ۲۲نومبر ۲۰۱۶ء)
چند پہلو یہ بھی ملاحظہ کیجیے:
٭ بھارت ویسے تو بنگلہ دیشی شہریوں کے بھارت میں داخلے کے لیے نہایت سخت پابندیاں لگائے ہوئے ہے، لیکن اس ریاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے طویل المیعاد منصوبے پر عمل پیرا بھی ہے، جس کا نمایاں محاذ وہاں کی پڑھی لکھی قوت کو اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر : ’’ڈھاکا میں بھارتی ہائی کمشنر نے بنگلہ دیش سے کم از کم ۱۸سال کی عمر کے اُن تمام طالب علموں کو، جو بھارتی یونی ورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، جملہ پابندیوں اور ویزے کی رسمیات سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ: ’’بنگلہ دیشی طالب علم درخواست دیں تو انھیں فوراً بھارتی ویزا جاری کر دیا جائے گا‘‘۔ (ڈیلی اسٹار، ۱۹؍اکتوبر)
یہ چیز بھارت کے سیاسی عزائم اور مستقبل بینی کی دلیل ہے، جس میں عالمِ اسلام اور خود پاکستان کے لیے سبق موجود ہے کہ وہ اپنی یونی ورسٹیوں میں بنگلہ دیشی طالب علموں کے لیے وظائف کا اجرا کرکے انھیں اُمت سے جوڑنے کی بامعنی کوشش کریں۔
٭ ڈھاکا یونی ورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر ابوالبرکات (ماسکو یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی) نے بڑے زوردار انداز سے اپنی تحقیق پیش کی ہے: ’’بنگلہ دیش سے روزانہ ۶۳۲ ہندو بھارت منتقل ہورہے ہیں۔ یہ تعداد سالانہ ۳لاکھ ۳۰ ہزار ۶ سو ۱۲ بنتی ہے۔ ۱۹۷۱ سے قبل ۷۰۵ ہندو مشرقی پاکستان چھوڑ کر بھارت چلے جاتے تھے۔ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۸۱ء کے دوران یہ تعداد ۵۱۲؍افراد روزانہ تھی۔ ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۱ء کے دوران ۴۳۸ اور ۱۹۹۱ء سے ۲۰۰۱ء کے دوران ۷۷۴ ہندو بنگلہ دیش کو خیرباد کہہ رہے تھے۔ اس لیے میری تحقیق کے مطابق ۳۰سال بعد بنگلہ دیش کی سرزمین پر کوئی ہندو شہری باقی نہیں رہے گا‘‘۔ (ڈھاکا ٹربیون، ۲۰نومبر ۲۰۱۶ء)
یہ بے سروپا تحقیق جہاں مذکورہ پروفیسر کی ناقص معلومات کی دلیل ہے، وہیں خود بنگلہ دیش اور بھارت کے مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کو انتقام کا ہتھیار تھمانے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس بیان نے بھارت اور بنگلہ دیش میں مسلم ہندو آبادیوں کے مابین تنائو کی فضا پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خصوصاً برما کے مسلمان مہاجرین اور آسام میں مسلمانوں کے لیے سخت ناخوش گوار صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے۔ یہ ’تحقیق ‘ کمیونسٹ بہی خواہوں کی ذہنی اُپج اور انتشار پروری کی منفرد مثال ہے (مخصوص این جی اوز کی جانب سے وقتاً فوقتاً اسی نوعیت کا پروپیگنڈا سندھ میں ہندو آبادی کے حوالے سے کیا جاتا ہے، اور بھارت میں حقائق جانے بغیر مسلمانوں کو طعنے دیے جاتے ہیں کہ: ’’تم مسلمان پاکستان میں ہندوئوں کو تنگ کر رہے ہو‘‘۔ حالانکہ سندھ میں اس نوعیت کی کوئی فضا نہیں)۔
یہ ’تحقیق‘ اس پس منظر میں اُچھالی گئی ہے کہ ۳۰؍اکتوبر کو برہمن باڑیا اور ناصرنگر میں ہندوئوں کے مندروں پر حملے ہوئے، جن پر پہلے ہی بھارت اور بنگلہ دیش کی ہندو آبادی میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ ان افسوس ناک واقعات میں، عوامی لیگی حکومت نے جماعت اسلامی کو ملوث کرنے کی شرانگیز کوشش کی، جسے نہ صرف جماعت اسلامی نے مسترد کیا بلکہ مظلوم ہندوئوں کی بحالی کے لیے کوششیں کیں۔ دوسری طرف ڈھاکا کے ایک میڈیا ہائوس کی تحقیق کے مطابق: ’’برہمن باڑیا اور ناصرنگر میں ہندوئوں کے مندروں میں اور دکانوں پر حملے کا سرغنہ عوامی لیگی ممبر پارلیمنٹ عبدالمقتدر چودھری ہے‘‘۔ (بی ڈی نیوز24، ۱۲نومبر ۲۰۱۶ء)
٭ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کس نوعیت کے برادرانہ معاشی تعلقات ہیں؟ اس کی جھلک بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے: ’’۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء ہر دوممالک میں ۵ء۳۴ بلین ڈالر کی تجارت ہوئی، جس کے تحت انڈیا سے بنگلہ دیش کو ۴ء۷۷۶ بلین ڈالر اور بنگلہ دیش سے بھارت کو ۵۶۴ملین ڈالر کی اشیا بھیجی گئیں‘‘ (روزنامہ فرسٹ پوسٹ، ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۶ء)۔یہ چیز بذاتِ خود اس امر کی دلیل ہے کہ بنگلہ دیش ، بھارت کی محض ایک منڈی ہے۔
٭ عوامی لیگ کے بزرگ رہنما اور سابق وزیر عبدالرزاق نے سارک کلچرل سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’بنگلہ دیش کے دستور میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دینے کی شق محض اسٹرے ٹیجک مجبوری ہے، جسے ہم کسی بھی وقت نکال باہر کریں گے‘‘۔ (بی ڈی نیوز24، ۱۳نومبر ۲۰۱۶ء)۔اس سے عوامی لیگ کی سوچ اور عزائم نمایاں ہوجاتے ہیں۔
٭ اخبار نے خبر دی کہ حسینہ واجد نے ان ۲ہزار بھارتی فوجیوں کو اعزاز سے نوازنے کا اعلان کیا جو ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران پاکستان کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے۔یاد رہے کہ NDTV کی رپورٹ (۱۶دسمبر ۲۰۱۱ء) کے مطابق: ’’۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر ۳ہزار ۹سو بھارتی فوجی ہلاک اور ۹ہزار ۸سو۵۱ زخمی ہوئے تھے‘‘۔ (ڈیلی اسٹار، ۱۰نومبر ۲۰۱۶ء)
مذکورہ خبر پڑھ کر بنگلہ دیش کے قیام کو مکتی باہنی کا کارنامہ سمجھنے والوں کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ حقیقت کچھ اور تھی۔ دراصل مشرقی پاکستان کو چاروں طرف سے بھارتی فوجی یلغار کا سامنا تھا، اور ان کا مقابلہ پاکستان کے محض ۳۵ہزار جوان کر رہے تھے، جو عملاً آٹھ ماہ سے محصور تھے، جنھیں نہ تازہ کمک حاصل تھی، نہ اسلحے کی وافر کھیپ میسر تھی، بلکہ سفارتی و ابلاغی سطح پر بھارتی اور اشتراکی پروپیگنڈے کی زد میں تھے۔ گذشتہ برس بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا ڈھاکا میں یہ اعلان کہ پاکستان توڑنے میں بھارت نے کلیدی کردار ادا کیا، اور بنگلہ دیشی وزیراعظم کی یہ سپاس گزاری کہ: ’’ہم آنجہانی بھارتی فوجیوں کو اعزازت سے نوازیں گے‘‘، اصل کہانی بیان کرتے ہیں۔
یہ تمام پہلو بنگلہ دیش کی قومی اور سماجی زندگی پر چھائےظلم کے گہرے بادلوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ انصاف کے نام پر قتل کی داستانیں سناتے اور محکومی کی زنجیروں کی جھنکارکا پتا دیتے ہیں۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *