کالم

ریاست کی ذمہ داریاں اوربنیادی حقوق–نجم الثاقب


پاکستان آئین کے آرٹیکل-194 38 کے مطابق ریاست عوام کے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی، فلاح و بہبود اور ان کی خوشحالی کی اصل ذمہ دار ہے۔ریاست پاکستان کو معرض وجود میں آئے سات دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں مگر ابھی تک شہریوں کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ملک کی ترقی و خوشحالی میں عوام ہی حکومت کے اصل موجدہوتے ہیں حکومت کی اولین ذمہ دار ی ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق و فرائض کو ادا کرے۔
فلاحی ریاست کے اندر تمام شہری حقوق و فرائض کے اعتبار سے برابری کا درجہ رکھتے ہیں ، امیر و غریب اور حاکم و محکوم میں کوئی تمیز نہیں ہے ۔ قانون اور آئین کی نظر میں ہر شخص پر یکسا ں قانون لا گو ہوتا ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب عدل و انصاف کا نظام شفاف اور موثر و جامع طور پر نافذ عمل ہو۔ دین اسلام عدل و انصاف اور مساوات کا درس دیتا ہے اس لئے تمام شہریوں کو بلا تفریق سماجی، معاشی اور اقتصادی حقوق برابری کی بنیاد پر حاصل ہو نے چاہئے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں اسلامی فلاحی ریاست ملک سے جرائم کا خاتمہ کرکے عدل وانصاف کے ساتھ ہر فرد کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ اٹھا سکتی ہے۔
ہمارے ملک میں ہر سیاسی جماعت و پارٹی کے لیڈرز اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے عوام کی مجبوریوں کو سولوگن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، شہریوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے عوامی مسائل کو حل کرنے کے سنہری خواب دیکھتے ہیں ۔ علاقے کا نمائند گان الیکشن مہم میں عوام کے بنیادی حقوق اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کے بلند و بالا دعووں کے قصیدے پڑھتے ہیں ،لیکن اقتدار ملنے کے بعد ان نام نہاد سیاسی لیڈرز کی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے کے قابل ہوتی ہے وہ جانتے ہیں کہ پانچ سالہ حکومت میں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے وہ اپنے تمام وعوے وعید کو پش پشت ڈال کر ذاتی مفادات کے لئے کاربندفرمارہتے ہیں۔ منتخب نمائندے سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہونے کے بعداتنی ہمت نہیں رکھتے کہ وہ عو ام کے مسائل اور فلاح و بہبود کے لئے ا یوان بالا اور اقتدار اعلٰی میں آواز اٹھا سکیں ۔ تمام بڑی سیاسی پارٹیاں کے اندر موروثیت کا اصول کارفرما ہے سیاسی جانشین بہت مضبوط و طاقت ور ہونے کی وجہ سے سیاہ و سفید کے مالک ہیں ۔ کسی سیاسی و پارٹی ورکر، رکن اور منتخب نمائندہ اسمبلی کے پاس جرات نہیں ہے کہ وہ پارٹی لیڈرز کی اجازت کے بغیر اپنے رائے کا اظہار تک سکتے، انھیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں شہشناہ معظم ناراض نہ ہوں جائیں۔
سیاسی پارٹیاں حکومت میں آنے کے لئے اپنی باری کے انتظار کے ساتھ مختلف سیاسی حربوں کا استعمال کرتیں رہتی ہیں تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ الیکشن کے لئے سیاسی پلے گراؤنڈ کی تیاری ممکن بنائی جا سکے۔ عوام کی ہمدردیاں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں نشہ اقتدار کے لئے یہ سلسلہ اس طرح عرصہ دراز سے جاری و ساری ہے۔ سیاست کے نام پر ایک دوسرے کے اوپر الزام لگائے جاتے ہیں وہ جانتے ہیں یہی اقتدار میں آنے کا واحد راستہ ہے جن کو کیش کراکر وہ باسانی حکومت کے مزے لوٹ سکتے ہیں۔
ریاست کے تما م شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پابندی، رکاوٹ، مداخلت کے بغیر باعزت طریقے سے ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے معاشی سرگرمیوں سر انجام دیں ،حکومت کے تمام ادارے ، بیورکریسی اور دیگرمشینری آئین پاکستان کے مطابق کام کرنے کے پابند ہیں تمام پبلیک ہولڈر کی ذمہ داری ہے کہ ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شہریوں کو بھرپور مدد کے ساتھ رہنمائی فراہم کریں لیکن عملی طور پر ایسا بہت کم نظر آتا ہے۔ عوام کے معاشی حقوق اصل میں معاشی آزادی سے منسلک ہیں ،عوام کے راستے میں رکاوٹیں ، پابندی اور مسائل کون پیدا کرتا ہے وہی جن کے پاس قوت، طاقت اور اختیار ہو، یہ پاور حکومت اور اس کے ماتحت ادارو ں وگروہوں کے پاس ہوتی ہے۔ یہی وہ عناصر جو حکومتی سر پرستی کے ذریعے اپنے ذاتی مفادات کے لئے معاشرہ کے توازن کو بگاڑتے ہوتے شہریوں کے حقوق سلب کرنے میں مشغول ہیں۔ ہمارے یہاں کرپشن، رشوت، لوٹ کھسوٹ اور سفارش کا استعمال عام سی روایات ہیں۔
دنیا کے تمام ترقی پذیر ممالک کے اندر عوام ہی ریاست کا اصل منبع ہوتے ہیں ایک فلاحی ریاست کے اندرشہریوں سے ٹیکس کی مدد میں اکٹھی ہوئی رقم کا بڑا حصہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے اوپر خرچ ہوتا ہے ہمارے یہاں ایساہوتا ہوا دیکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کی سب سے اہم ذمہ داری روزگار کے نت نئے موقعے پیدا کرناہے، کارخانوں ، فیکٹریاں اور صنعتوں کا قیام جس سے افراد زر میں کمی واقع ہوگی ، پڑھ لکھے افراد کے ساتھ ناخواندہ بھی بھرپور طریقے سے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے معاشرے میں اپنا رول ادا کر سکیں۔
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی کی سطح 57 فیصد جو بہت ہی کم ہے اس لئے ہم تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں۔ ناخواندگی کی کئی وجوہات ہیں جن میں حکومت کی عدم توجہ، یکساں تعلیمی نصاب کا نہ ہونا ، دیہی علاقاجات میں خواتین کا تعلیمی سرگرمیوں پر پابندی ہونا، گاؤں و دیہاتوں میں وسائل و سہولیات کی کمی، آبادی میں تیزی سے اضافہ، تعلیمی بجٹ فنڈ میں خرد برد جیسے مسائل شامل ہیں۔ پاکستان کے 45 فیصد افراد غربت کا شکار ہونے کے باعث آمدنی بہت ہی قلیل ہے اس لئے وہ تعلیم سے زیادہ مادی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں ۔تعلیم کے بارے میں عمومی یہ رویہ بھی ناخواندگی میں اضافہ کاسبب ہے جب لوگ اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کو بے روزگار دیکھتے ہیں تو تعلیم کے حصول کے لئے ان کارجحان منفی ہو جاتا ہے وہ تعلیم پرپیسہ خرچ کرناضائع سمجھتے ہوئے اپنے
بچوں کو کام کاج اور ہنرپر مجبور کرتے ہیں تاکہ روزمرہ کے خرچے کے سا تھ ساتھ ہنر سیکھ کر اپنے پیروں پر خود کھڑے ہو جائے۔ پاکستان کو بہت سے تعلیمی مسائل کا سامنا ہے جن کا حل چند اقدامات کے ذریعے ممکن ہے جن میں تعلیمی اداروں میں اضافہ کے ساتھ مفت تعلیم ، آمدورفت کی سہولیات، تعلیم نسواں کا حکومتی سرپرستی میں اہتمام، بچوں کے وظیفے، میرٹ پر استاتذہ اکرام کا تقرر، والدین میں تعلیمی شعور کی بیداری، تعلیمی بجٹ میں اضافہ، سیاسی اثر و رسوخ کا خاتمہ جیسے اقدامات پر عمل درآمد کرکے تعلیمی پسماندگی کے اوپر قابو پایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں حکومت کی عدم توجہ کی بدولت صحت عامہ کی حالت انتہائی مخدوش ہے ڈاکٹرز اور استا تذہ اکرام ہر معاشرے میں مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں جو آنے والی نسلوں کی تعمیری و ترقی میں قلیدی رُول رکھتے ہیں۔ ملک میں ہر سال ہزاروں ڈاکٹرز اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں جن کی اکثریت فیملی ڈاکٹرز کی ہوتی ہے جو پہلے سے موجود کلینک پر اپنی پریکٹس شروع کر دیتے ہیں ،بعض ڈاکٹرز حضرات کی خواہش بیرون ملک میں اپنا پروفیشن صلاحیتوں کا اظہاراولین ترجیح ہوتی ہے ، نیز ایسے ڈاکٹرز جو سرکاری ہسپتالوں میں سروسز کے حامل ہوتے ہیں وہ حکومت کی ملی بھگت سے اپنی پوسٹنگ بڑے شہروں میں کروا لیتے ہیں۔ وسائل و سہولیات کی کمی کے باعث دیہی علاقاجات میں صحت کا فقدان پایا جاتا ہے، مجبورا گاؤں ، دیہاتوں اور مضافاتی علاقے کے باسیوں کو علاج و معالج کے لئے شہروں کا رخِ کرنا پڑتا ہے ۔ ملک میں ایک ہزار ہسپتالوں میں ایک لاکھ تیس ہزار سے زائدبیڈز کی گنجائش موجود ہے ، پانچ ہزار سے زیادہ سرکاری ڈسپنسریاں، رول ہیلتھ سینٹر کی تعداد تقریبا تین ہزار سے زائدجب کہ ٹی بی سینٹر کی تعداد چار سو سے زائد ہیں، لیکن اکثر سرکاری سینٹر بند ملتے ہیں یا وہاں نرسنگ، پیرامیڈیکل سٹاف کا نمائندہ ہی ڈاکٹرز صاحبان کی سیٹ پر براجماں ہوتا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کا غائب ہونا، لیبارٹری ٹیسٹ کا باہر سے کروانا، سینئر ڈاکڑز کا مریضوں کو چیک اپ نہ کرنا، ادویات کے لئے مخصوص کمپنی کے نسخہ پر اصرار کرنا، وقت کی پابندی جیسے مسائل توجہ طلب ہیں۔ صحت کے شعبے میں گڈ گروننس کے ذریعے مطلوبہ کامیابی حاصل کر کے صحت عامہ کے مسائل کو باسانی حل کیاجا سکتا ہے۔