بلاگ پاکستان لکھاری

متاع وقت انہی لوگوں کے نام–انس انیس


اشتیاق احمد حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا؛
وقت خداوند قدوس کی ایک عام نعمت ہے؛ جو ہر خاص و عام کو میسر ہے؛ امیر غریب؛ حاکم محکوم سبھی اس سے یکساں فائدہ اٹھاتے ہیں؛ وقت اپنے قدردانوں کے لیے باوفا؛ ناقدروں کے لیے از حد بے وفا؛ جن لوگوں نے اس کی قدر کی وقت نے انہیں اوج ثریا تک پہنچایا؛ دسیوں ایسے مشاہیر عالم کے واقعات وامثال ہمارے سامنے موجود ہیں کس قدر ان کے ہاں وقت کی قدر واحساس تھا؛ حیرت انگیز ان کا نظام الاوقات تھا؛ ٹائم پیس کی طرح ان کی زندگی تھی زندگی کے ایک ایک لمحے کو تول تول کر خرچ کرتے تھے راہ طلب میں وہ مرکھپ گئے؛ ناصر کاظمی نے انہی کے متعلق کہا؛
راہ طلب میں جو گمنام مر گئے ناصر؛
متاع وقت انہی لوگوں کے نام کریں؛
انہی مقتدر شخصیات میں سے ایک شخصیت مشہور ناول وافسانہ نگار جناب اشتیاق احمد کی بھی تھی ؛ اللہ نے ان کو کمال کا حافظہ؛ رواں قلم؛ تواضع وانکساری؛ سب سے بڑھ کر محبوبیت کی وہ نعمت عطا فرمائ جو خال خال کسی کے حصہ میں آتی ہے؛ ہمارے ہاں چونکہ الٹی گنگا بہتی ہے زندہ لوگ احترام کے قابل نہیں سمجھے جاتے اور مرے ہوؤں کو اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی ہے؛ احمد ندیم قاسمی بروقت یاد آ گئے؛
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن؛
یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ؛
اشتیاق احمد کی زندگی ان کی تعریفیں ایک ہی مکتبہ فکر کے ہاں سنی جبکہ ان کی وفات کے بعد معاملہ برعکس تھا؛ اشتیاق احمد اشتیاق احمد تھے بچوں جوانوں سب کے لیے باعث اشتیاق تھے واقعی اسم بامسمی تھے؛ ہفت روزہ بچوں کے اسلام کی ادارت کیا سنبھالی اس میگزین کو چار چاند لگا دیئے کچھ ہی عرصہ میں یہ شمارہ ملک کے صف اول کے شماروں میں شامل ہونے لگا؛ اشتیاق احمد اس میگزین کا مرکزی کردار؛ رونق میگزین کی جان انہی کے دم قدم سے تھی؛جب ہمیں شعور احساس نہ تھا؛ اشتیاق احمد کے افسانے جنسی آزادی؛ بےراہروی سے پاک ہوتے ہیں ہمارے ہاں جو ادب کے نام پر بےادبی کا سلسلہ جاری وساری ہے اشتیاق احمد اس سے کوسوں دور تھے ان کی ابتدائی زندگی جو تندرستی عسرت سے بھرپور تھی اس کی ایک کہانی انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے؛
ریلوے لاہور میں 60 روپے کی مزدوری اور اس کے بعد محمد حسین آڑھتی کے ہاں 100 روپے کی ملازمت بھی ہاتھ سے جاتی رہی تو میں حقیقی معنوں میں فٹ پاتھ پر آ گیا؛ رہے نام اللہ کا؛ اب میرے دونوں ہاتھ خالی تھے کسی اخبار وغیرہ میں ملازمت ملنے کے لیے سفارش کی ضرورت تھی یا رشوت کی؛ اور میرے پاس ان دونوں میں کچھ بھی نہیں تھا؛ اس صورت حال میں مجھے اس کے سوا کچھ نہیں سوجھا کہ سگریٹ کے پیکٹ بیچنا شروع کر دوں تاکہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچ سکوں؛ سو میں نے پان منڈی جا کر ریڈ لیمپ سگریٹ کا ایک ڈبہ خریدا اور بیچنے کے لیے منصوبہ بندی کرنے لگا؛ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ سگریٹ کی ڈبیوں کو کس چیز پر رکھوں کیونکہ سوچ و بچار کے باوجود مجھے اپنے دائیں اور بائیں کوئی ایسی چیز دکھائی نہ پڑی تھی؛ پریشانی کے عالم میں اپنے چھوٹے سے کمرے کو دیکھ رہا تھا کہ دیوار سے لٹکے فریم پر نظر پڑی؛ یہ میری میڑک کی سند تھی جو میرے لیے اس لحاظ سے بھی قابل فخر تھی کہ میں نے میڑک فرسٹ ڈویژن کے ساتھ پاس کیا تھا اس بنا پر میں نے اپنی یہ سند فریم کر وا کر رکھی تھی اس نہایت مایوسانہ صورت حال میں یہی سوجھی کہ اپنی اس فریم شدہ سند کو بطور ٹرے استعمال کیا جائے؛ بس اسے اتار کر ریڈ لیمپ سگریٹ کے پیکٹ اس پر رکھنے لگا جب تمام پیکٹ رکھ دییے تو اب بیچنے نکل کھڑا ہوا…… یہ ٹکڑا اس خود نوشت داستان سے لیا گیا ہے جو اشتیاق احمد کی میری کہانی کے عنوان سے شائع ہوئی؛ اس سے آپ ان کی ابتدائی زندگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کن کن مشکلات کی بھٹیوں سے ان کو گزرنا پڑا؛ آگ وخون کے دریا عبور کر کے اشتیاق احمد نے اتنا بڑا مقام و رتبہ پایا تھا؛