بلاگ پاکستان

سکوت ڈھاکہ اور ہماری معاشرتی خرابیاں–فرازالحسن


دسمبر اگر پاکستان میں اب غم و تکلیف کا استعارہ بنتا جا رہا ہے تو اتنا غلط بھی نہیں۔ میری پیدائش سے پہلے پاکستانیوں نے سکوت ڈھاکہ دیکھ لیا تھا اس لئے شاید میں وہ تکلیف محسوس نا کر سکوں جو ہمارے بڑوں نے محسوس کی ہوگی، اپنوں سے دوری اور وطن کا ٹوٹنا کس مظلوم سے برداشت ہوا ہے آج تک، لیکن میں نے سکوت ڈھاکہ دیکھا ہے۔۔۔

جی ہاں میں نے نا صرف سکوت ڈھاکہ دیکھا ہے بلکہ مسلسل سکوت ڈھاکہ دیکھ رہا ہوں، بہت عجیب بات کر دی نا میں نے؟ جب میں اپنے شہر کراچی کی سڑکوں پر بارہ مئی ہوتا دیکھتا ہوں تو مجھے سکوت ڈھاکہ نظر آتا ہے۔۔ جب میں بلدیہ کی فیکٹری میں مظلوم مزدوروں کو زندہ جلتے ہوے دیکھتا ہوں تو مجھے سکوت ڈھاکہ نظر آتا ہے جی ہاں مجھے ماڈل ٹاؤن میں سیاسی بردہ فروشوں کے لیے عقیدت مندوں کو اپنی جانوں کی قربانی دیتے دیکھتا ہوں تو مجھے اس میں بھی سکوت ڈھاکہ نظر آیا تھا۔

کیا کیا بیان کروں کس غم کو بھلا دوں کس کو یاد کروں، لال مسجد کو روؤں یا قبائیلی معصوم بچوں کی لاشوں کو بین کروں، عافیہ کی ماں کا دکھ سوچوں یا آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کی چیخوں کو دباؤں، کراچی ائرپورٹ پر دہشت گردوں کے ہاتھوں زندہ جل جانے والے سول ایوی ایشن کے کارندوں کا ماتم کروں یا پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی اس فلائٹ کا انتظار کروں جو چلی تھی اسلام اباد کے لیے چترال سے لیکن اس کی منزل قیامت خیز آگ بنی۔۔۔

بھٹو زندہ ہے اس نے اقوام متحدہ کی قرارداد پھاڑ دی تھی بہت بہادر تھا بنگلہ دیش بننے دیا اور بنانے والوں میں اپنا نام بھی لکھوا گیا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے۔۔۔ سکوت ڈھاکہ
انصاف کا یہ معیار ہے کہ جج کیس سن کر کہتا ہے میں تو ریٹائر ہو رہا ہوں اور میری سردیوں کی شاموں کا بھی حرج ہوگا تو جاؤ انصاف کے لیے دوسرے جج کا انتظار کرو۔۔۔ سکوت ڈھاکہ
اس ہی جج کے بھائی کا نان میرٹ پروموشن ہوتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی سوموٹو نہیں ۔۔۔ سکوت ڈھاکہ
کہتے ہیں پاکستان کی حفاظت اللہ کرے گا میں کہتا ہوں اپ جھوٹے ہیں کیوں کہ اللہ بھی انکی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد خود کرنا چاہیں۔
ہم اتنے بزدل ہوگئے ہیں کہ ہمیں آج پینتالیس سال بعد بھی انتظار ہے تو ایک اور سکوت ڈھاکہ کا۔
اے اللہ پاک ہمارے دلوں کو بدل دے ہمیں راستہ دکھا نا کہ ہم پر اپنا عذاب نازل کرنا، میں اور میرے جیسے آج بھی تیری عنایت کردہ اس ارض پاک کا شکر بجا لاتے ہیں اور سکوت ڈھاکہ کا غم دل پر بوجھ لیے چلتے ہیں۔