اسلام بلاگ پاکستان میرا نقطہ نگاہ

حلب پاکستانی بھی ذمہ دار ہیں!!تنویراعوان



عالمی سطح پر کسی بھی ریاست کی نمائندگی اس کا سربراہ کرتا ہے. اس سربراہ کو عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتی ہے. اس طرح سربراہ مملکت اپنی عوام کا نمائندہ اور ترجمان ہوتاہے.
آج مسلمانوں ہر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں.مظالم کی انتہا کو دیکھ کر انسانیت شرم سے چلو بھرپانی میں اشنان کرنے کے بعدوفات پاچکی ہے. ہلاکوخان اورچنگیزخان کی روحیں خوف سے کانپ رہی ہیں. ہٹلرشرمندہ شرمندہ ساہے.
اس ساری صورتحال میں انسانی حقوق کے ٹھیکیدارغائب ہیں. شاید ہنی مون منانے گئے ہیں. اوہ –آئی سی کو موشن لگے ہوئے ہیں. آئل “وہاں” کے ساتھ ساتھ ناک سے بھی نکل رہا ہے.
پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے.اگر پاکستان چاہے تو اہم کردار ادا کرسکتا ہے. پاکستان کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے. بانی پاکستان کے بقول پاکستان اسلام کا قلعہ ہے. یہاں جمہوریت نافذہے. ووٹ کے ذریعے حکمران بدلے جاتے ہیں.
پاکستان کی 93فیصدآبادی مسلمان ہے. اسلام کے لئے مرمٹنے کو تیارہے. پوری امت کادردہمارے سینوں میں ہے. حلب کےلئے راتوں کو اٹھ اٹھ کرروتے ہیں. لیکن ہم کر بھی کیا سکتے ہیں اس لئے فیس بک پر اسٹیٹس ڈال کر دل پشوری کرلیتے ہیں. کہ دل بہلانے کو اسٹیٹس ہی اچھا ہے.
لیکن زرا ٹھریں! سوچیں! ریاست کا سربراہ دنیا میں ریاست کانمائندہ ہوتا ہے. اس کی آواز ریاست کی آوازسمجھی جاتی ہے. اس کو منتخب عوام کرتی ہے. ووٹ ہم لوگ دیتے ہیں. اگر ہمارا سربراہ خاموش ہے. آواز بلند نہیں کرتا تو ہم بھی زمہ دار ہیں.
ہم عجائب عالم میں سے ایک ایسی عجوبہ قوم ہیں. گھر کی رکھوالی کے لئے بھی ووٹ چور کو دیتے ہیں. میں دعوے سے کہتا ہوں حلب کے لئے رونے والے ووٹ پھر انہی ممنونوں کو دیں گے.
واقعی امت کا درد ہے تو پھر ان لوگوں کو ووٹ دیں جو آپ کی ترجمانی کرسکیں جو آپ کی زبان بولیں. ورنہ یہ ڈھکوسلے کرنا چھوڑ دیں.
یاد رکھیں! روزمحشر آپ سے بھی سوال ہوسکتا ہے. کہ بتائیں آپ دنیا کے اہم ترین ملک کے شہری تھے. آپ کا ملک بہترین جغرفیائی محل وقوع کا حامل تھا. آپ کا ملک ایٹمی طاقت تھا. آپ کے سربراہ مملکت کی اہمیت تھی.
آپ نے ووٹ ایسے لوگوں کو کیوں نہیں دیا جو اس ظلم کو رکوانے میں کردار اداکرسکتے تھے. آپ کا وزیراعظم کوشش کرتا تو اتنا خون نہ بہتا لیکن وہ خاموش رہا. اس کو ووٹ دینے والے آپ تھے اس لئے آپ بھی زمہ دار ہیں.
اگر ایسا ہوگیا تو یقین جانیں وہ بہت سخت وقت ہوگا آپ برداشت نہیں کرسکیں گے. اس لئے اپنی اہمیت کو پہچانیں. آپ کے ووٹ کی بہت اہمیت ہے آپ کا ووٹ دنیا پر اثراندازہوسکتا ہے. اپنی قدرکیجئے. انسانیت کا بھلا کیجئے.