اسلام بلاگ میرا نقطہ نگاہ

کیاحلب کا صرف نوحہ ہی کرنا ہے ؟—-ثناء احمد


آج انباکس پر نظر پڑی تو عجیب و غریب میسج ملا ۔ میسج تنویر اعوان صاحب نے کیا تھا کہ آپ حلب کے حوالے سے لکھیں۔حلب کے لئے آواز بلند کریں۔پہلے تو بہت حیرانگی ہوئی کہ صاحب جانتے ہیں کہ میں ایسے موضوعات پرلکھنے کی الف اور ب بھی نہیں جانتی۔سیاست الگ چیز ہے اور سماجی مسائل الگ معاملہ ہے۔چونکہ عملی سیاست سے بہت واسطہ رہا ہے۔اورمسلم لیگ کے سوشل میڈیا وومن ونگ میں کام کرنے کا موقع بھی میسر رہا ہے اس لئے سیاست پر لکھنا آسان ہے۔

میں نے بہت سوچا لیکن مجھے الفاظ نہیں ملے۔آیا حلب کے لئے لکھوں گی تو کیا الفاظ دل سے نکلیں گے ؟ کیا ہمارے دل میں واقعی اتنادرد ہے جتنا ہم جتارہے ہیں ؟ اس سے قبل بھی بارہاں کئی موضوعا ت پر لکھا ہے ۔کاؤنسلنگ سے وابستہ رہ چکی ہوں ۔لیکن حلب کے لئے پھر بھی الفاظ نہیں مل رہے۔ اگر میں درددل حلب کے لئے ایک تحریر لکھ بھی دوں تو کیا ہوگا؟ دوسرے ہی دن میں اپنے معمولات میں مشغول ہوں گی۔پاکستان کی اسمبلی اگر حلب پر قراردادمنظور بھی کرلے تو کیا ہوگا؟ دوسرے دن پھر تحریک انصاف ادھم مچارہی ہوگی اور ہم آپسی ڈرامے دیکھ رہے ہوں گے۔

بہت سوچنے کے بعد فیصلہ کیا کہ چلیں اب محترم نے کہا ہے تو منافقت کے چند جملے لکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔سچ کہوں تو ہم میں کوئی حس نہیں ہے ۔ہم بالکل ہی بے حس ہیں ۔ہم جوکہتے ہیں وہ کرتے نہیں جو کرتے ہیں وہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا۔کتنا آسان ہے کہنا کہ وہ باغی تھے حکومت نے قبضہ واگذارکرایا ۔مثال سوات کی دی جاتی ہے۔کوئی صاحب نہیں بتاتا کہ سوات میں عوام نہیں مری سوات میں عام لوگوں کو گھسیٹ گھسیٹ کرنہیں مارا گیا سوات میں خواتین کی آبروریزی نہیں کی گئی۔

ریاست کی کیا بات کرتے ہیں۔ریاست ہم انسانوں کی بنائی ہوئی ہے۔یہ ملک سرحدیں ہم انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔جب ہم اللہ کے احکامات سے روگردانی کا دل گردہ رکھ سکتے ہیں تو پھربشار الاسدکی حکومت کس کھاتے میں آتی ہے۔ کسی کو باغی شیعہ سنی کہہ کر دردناک موت دینا کہاں کی انسانیت ہے اور کہاں کا انصاف ہے۔حلب میں بیگناہ مررہے ہیں ۔امریکہ روس فرانس ایران میں اتنی ہی ہمت ہے تو داعش پر بمباری کرے داعش سے مقابلہ کرے ان معصوموں پر کیوں بمباری کی جارہی ہے کیا یہ کسی کے بیٹے نہیں ؟ کیا یہ کسی کے والدین نہیں ؟ کیا یہ کسی کی بیٹیاں نہیں ؟ہم دہائی کہاں دیں؟کس سے انصاف مانگیں؟کس کے آگے ماتھا رگڑیں ؟ہمارے نصیب میں حلب کا نوحہ کرنا ہی رہ گیا ہے ؟

بات سادہ سی ہے کہ ہم عملاً کچھ کریں تنقید کرنا آپ کا حق ہے۔الزام لگانا آپ کا حق ہے۔لیکن آگے بڑھیں۔اسرائیل کو کیوں کوستے ہیں ؟یہودیوں کو کیوں کوستے ہیں؟صرف اس لئے کہ ان کی میڈیا پر اجاء داری ہے ؟ وہ آپ سے بہت آگے ہیں ؟
سوچیں ایک زمانے میں مسلمان سپر پاورتھے عالمی طاقت تھے تو کیوں تھے ؟ایک عرصے تک دنیا پر مسلمانوں کی حکومت کیوں رہی ؟کیوں کہ وہ دوسروں کو نہیں خود کو دیکھا کرتے تھے وہ خود پر محنت کرتے تھے ۔اسی لئے کہا جاتا ہے محنت کر حسدنہ کر۔سوچیں میڈیا پر ہماری اجاء داری کیوں نہیں ہے؟ہمارے پاس امریکہ اسرائیل جتنی ٹیکنالوجی کیوں نہیں ہے؟ ہم بھی کھانا کھاتے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں ۔

ہمیں بھی اللہ نے آنکھیں ناک کان دماغ دیا ہے اوران کو بھی آنکھیں ناک کان اور دماغ دیا ہے۔تمام ہی چیزیں برابرہیں تو پھر عملاً وہ ہم سے آگے کیوں ہیں؟؟؟ جب تک سوچیں گے نہیں جگہیں بدلیں گی۔غزہ کا وادی ہوگی،رابعہ کا میدان ہوگا،برما کی سرزمین ہوگی،کشمیرکی جنت ہوگی،چیچنیاکامحاذہوگا،افغانستان کے پہاڑ ہوں گے،عراق کے بازار ہوں گے،اور شام کا حلب ہوگا ۔خون مسلم بہتارہے گا بہتا رہے گا بہتا چلاجائے گا۔ روکنے والے باتیں کرتے رہ جائیں گے۔زرا سوچیں کہیں پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔