اے مسلم خوابیدہ اٹھ بیدار ہو — انس انیس


img_20160707_184822.jpg
صاحب کب تک آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ رکھیں گے؛بغض وعصبیت پر مبنی فقرے کب تک برما شام کشمیر و افغانستان کے مسلمانوں کے سینے چھلنی کرتے رہیں گے کیا ان کے لیے چلتی گولیاں؛ پھٹتے بارود برستے راکٹ کافی نہیں تھے جو آپ یکطرفہ درد انسانیت لے کر بیٹھ گئے؛ کیا لبرلز وسیکولر ازم اتنا پستی میں گر گیا جو آپ اتنی سطحی باتیں کرتے لگے؛ بیگانوں کے حق میں آپ کے قلم پھول بن جاتے ہیں آپکی زبان شہد جیسی میٹھی ہو جاتی ہے؛ یہاں آپ کا مسلمانی والا ذرہ کہاں چلا جاتا ہے؟ جب آپ کا قلم اپنوں کے خلاف لوہا بن جاتا ہے آپکے الفاظ نشتر وزہر بن کر رہ جاتے ہیں آپکا لہجہ کرخت اور زبان شعلے اگلنے لگتی ہے کیا ساری نصائح مسلمانوں کے لئے ہیں؛ کیا سب خرابیوں بربادیوں کی جڑ امت مسلمہ ہے ؛فلسطینی مسلمانوں پر دن رات تنگ ہو گئے ان کا سکون چھن گیا؛ گھر مسمار؛ عورتوں کے دوپٹے نوچ ڈالے گئے؛ کشمیر کا نوجوان ہر طرح کے ظلم و ستم اور تشدد سہہ قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے کشمیر کے معصوم بچے بھارتی فوجیوں کے چہروں پر تھوک رہے ہیں؛سو سے زائد دن ہو چکے مسلسل روزانہ لاشوں پر لاشیں گرتی ہیں؛ ایک ہمارا روشن خیال طبقہ ہے اور ہمارا نوجوان ہے جس میں گرمی گفتار نہ رہی؛ سینے سے درد آٹھ گیا زبان خاموش اور قلم عشقیہ افسانے جنسی بے راہ روی کے واقعات لکھنے لگا ؛ جس کا دل شام کی ماؤں کی آہیں بہنوں کی سسکیوں سے دل زرا موم نہیں ہوتا؛ افغانستان وعراق میں جبر وبربریت پر دل پسیجتا نہیں؛ دماغ کھولتانہیں ؛ آنکھوں سے چند گرم آنسو تک نہیں ٹپکتے؛ اب برما میں ظلم ننگا ناچ رہا ہے صرف صوبہ رخائن پانچ دیہات راکھ بنا دییے گئے؛ 300ہزار مسلمان بےگھر ہو چکے 1250 گھر نزرآتش کر دئے گئے عورتوں سے اجتماعی جنسی زیادتی کی جا رہی ہے؛ بنگلہ دیشی ناگن حسینہ واجد برمی حکومت کی معاون بن چکی ہے؛ کوئی نہیں ہے بولنے والا ؛ امریکی لونڈی اقوام متحدہ کو جیسے سانپ سونگھ گیا؛ او آئی سی مردہ گھوڑے کی مانند کسی صحرا پر پڑی ہے مسلمان حکمران خواب غفلت وبےحسی کی تصویر بنے ہیں؛ آج اتنی بےحسی کہ ہم حکومت کے خلاف دھرنے دے سکتے ہیں سڑکیں جام کر سکتے ہیں فضا میں مکے لہرا سکتے ہیں؛ نہیں بول سکتے تو ان مظلوم مسلمانوں پر؛ کیا ان کا خون اتنا ارزاں ہو گیا؟ جس کی قیمت دو ٹکے کی نہ رہی یہ آگ کہیں ہم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے؛ دیکھیے یہ جو جل رہا ہے کہی تیرا ہی گھر نہ ہو


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *