ہم بھی دیکھیں گے–ابومحمدمعصب


تو مسلمانو وہ مہینہ بھی آ گیا جس میں خوب جلسے جلوس نکلیں گے، چراغاں کیے جائیں گے، مسجدوں کی دیواروں پر قمقمے ٹم ٹم کریں گے، سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں کے درودیوار جگمگا اٹھیں گے، میناروں پر بیٹھے لاؤڈ اسپیکرز چنگھاڑیں گے، محرابوں اور وسیع و عریض کمروں کے دامن سے درودوسلام کی صدائیں بلند ہوں گی، نعتیہ محافل منعقد ہوں گی، سویوں اور حلووں کی دیگیں پکیں گے، لنگر بٹیں گے، میٹھی میٹھی سنتوں پر گھنٹوں تقریریں ہوں گی اور ان پر سر دھنے جائیں گے۔
مگر جو بات دیکھنے کی ہے وہ یہ کہ آج جب امت کا انگ انگ لہو لہان ہے، برما میں انسانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے، شام میں آسمان آگ برسا کر معصوم بچوں کو بھون رہا ہے، ہزاروں عورتیں بیوہ بن چکی ہیں اور لاتعداد بچے روتی نگاہوں سے اپنے والدین کو تلاش کر رہے ہیں، ۔۔۔۔ ہم بھی دیکھیں گے کہ کتنے ثناخوان رسولﷺ ہیں جو لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ وہی مہینہ ہے جس میں وہ نبی تشریف لائے تھے جن کی ساری زندگی جدوجھد سے عبارت ہے۔ جنہوں نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنے کا صرف دعویٰ نہیں کیا بلکہ فی الواقع ان کے پیروں سے غلامی کی زنجیریں کاٹ کر رکھ دیں۔ جو ساری عمر طاغوت سے لڑتے رہے۔ ستر سے زائد جنگوں کا سامنا کیا اور پچیس سے زائد معرکوں میں خود اللہ کے شیروں کی کمان کی اور جب داعی اجل کی آواز پہ لبیک کہا تو اس وقت بھی ایک لشکر کوچ کرنے کو تھا اور یہ بھی کہ جب وقتِ فراق تھا تب بھی گھر میں چاہے دیا جلانے کو تیل نہ تھا مگر تلواریں تھیں کہ جو دیوار پر لٹک رہی تھیں۔

ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ وہ کون سے ثناخوانِ رسولﷺ ہیں جو لوگوں کو بتاتے ہیں کہ دنیا کے بہترین محل وقوع اور قدرتی وسائل سے مالامال پچاس سے زائد اسلامی ملکوں اور دو ارب سے زیادہ آبادی رکھنے والے مسلمان آج کیوں اتنے ہلکے ہو چکے ہیں کہ جیسے کوڑا کرکٹ ہوں اور جنہیں ہوائیں خزاں رسیدہ پتوں کی مانند اڑائے پھرتی ہیں۔

پھر ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ کون ہے جو لوگوں کو اس مرض کی اصل وجہ بتاتا ہے۔ جس کے بارے میں اللہ کے پیارے نبیﷺ نے آغاز ہی میں بتا دیا تھا۔ جب آپﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ غیر اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ حضور، کیا اس کی وجہ ہماری قلتِ تعداد ہوگی؟َ فرمایا، نہیں، تعداد میں تو تم سمندر کی جھاگ سے بھی سوا ہوگے مگر تمہیں ایک بیماری لگ جائے گی، جسے ’’وہن‘‘ کہتے ہیں۔

عرض کیا گیا کہ حضور! یہ ’’وہن‘‘ کیا چیز ہوتی ہے؟  فرمایا:

’’حُبُّ الدُنْیَا وَکَرَاہِیَۃُ المَوْت‘‘ 

دنیا کی محبت اور موت سے کراہت


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *