کیا قائداعظم سیکولر تھے؟—- انس انیس


15211797_343929095965789_1974900382_n
بہت سی اپنی تحریروں کے ضمن میں بحوالہ اس بات کو ثابت کر چکا ہوں کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کا سیکولر ازم سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا؛ اسی طرح ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا ایک کالم بھی اسی پر شاہد ہے جو انہوں نے قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے والوں کی رد میں لکھا بلکہ بہت سے کالمز کے ضمن میں انہوں نے متعدد دفعہ ٹھوس حوالہ جات سے اس بات کی تردید کی؛

قائد اعظم کے ذمہ اس بات کو منسوب کرنے والوں کے پاس قائد اعظم کی تقریروں کے اقتباسات ہیں اور بڑی ڈھٹائی سے وہ قائد کے خطبات اور اقوال میں تحریف کرتے ہیں اور عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکے کی کوشش کرتے ہیں یوں وہ علمی خیانت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں؛ میں اس موضوع پر پر تحریر رقم کرنا چاہتا تھا کہ پاکستان کا ابتدائی تخیل کس نے پیش کیا؟ مگر جب بہت سے ایسی کالمز کو پڑا تو ذہن اس عنوان کی طرف مائل ہو گیا؛

8مارچ 1947ء کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں قائد اعظم نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا؛ پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا یہ اس زمانے کی بات ہے جب مسلمانوں کی حکومت بھی قائم نہیں ہوئی تھی مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے وطن نہیں اور نہ ہی نسل ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا پہلی قوم کا فرد نہیں رہا بلکہ جداگانہ قوم کا فرد بن گیا ہندوستان میں ایک نئ قوم وجود میں گئی؛ سیکولر ازم پر ضرب کاری لگاتے ہوئے قائد اعظم نے اسلامی حکومت کی وضاحت یوں کی جب اگست 1941ء کو قائد حیدرآباد تشریف لائے تو طلباء نے ان سے اسلامی حکومت کی وضاحت چاہی

آپ نے یوں وضاحت کی؛ اسلامی حکومت کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہئے کہ اس میں اطاعت ومرکشی کا مرجع خدا کی ذات ہے جس کے تعمیل کا مرکز قرآن کریم کے احکام اور اصول ہیں؛ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ کسی پارلیمان کی اور شخص یا ادارہ کی؛ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست ومعاشرت میں ہماری آذادی وپاپندی کی حدود متعین کرتے ہیں؛ اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے؛ (حیات قائد اعظم)

اس اقتباس میں غور کرنے سے بخوبی علم ہو جاتا ہے کہ قائد اعظم سیکولر تھے یا وہ سیکولرانہ نظام نافذ کرنا چاہتے تھے؟
16 فروری 1947ء کو شاہ دربار سبی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا؛ میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر نے ہمارے لیے بنایا ہمیں چاہیے کہ ہم جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات و اصولوں پر رکھیں؛قائد اعظم کے خادمین نے بھی اس بات کی گواہی دی کہ ان کے ڈرائنگ روم میں تفسیر قرآن پڑی تھی اکثر اس کا مطالعہ فرماتے آپ غور فرمائیں تو قائد کے خطبات سے باقاعدہ اس کا اندازہ ہو جاتا ہے؛ یہ چند حوالہ جات ہیں جو بطور نمونہ راقم نے پیش کر دیے؛ باقی اور بھی گوشے ہیں جو کسی اور جگہ رقم کیے جائیں گے؛


You may also like...

1 Response

  1. ماشاءاللہ بہت اچھی تحریر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *