زہر—ماہ نور


15218368_345004399191592_160749072_n
اس نے آنکھیں کھولی مگر سر بھاری, سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری, وہ ایک ٹک چھت کو دیکھ رہی تھی, اردگرد دیکھا بڑا عالی شان کمرہ , ہلکی روشنی اور بیڈ پر اسکا بے دم وجود,
باہر سے مردوں کی آوازیں قہقہے ,ہنسی. مذاق کی آوازیں آرہی تھیں.
اسے یاد آیا. اس نے زرق برق لباس زیب تن کیا تھا, شوخ میک اپ ,لمبے بالوں میں موتیے کے پھول لگائے جب وہ بیوٹی پارلر سے نکلی تو بہت سے لوگ اپنا کام چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے.
کہ اچانک پانچ چھے نقاب پوش اسلحے سمیت ایک بڑی گاڑی سے اترے اور اسے کسی گڑیا کی طرح اٹھا کر گاڑی میں ڈالا.
صبا بیگم بہت چیخی چلائی مگر کوئی مدد کے لئے قریب نہ آیا. خود بھاگ کر آئی اور بیٹی کو بچانے کی کوشش کی تو ایک نقاب پوش نے بڑی دردی سے اسے دھکا دیا. گاڑی چلی گئی.
مہ جبیں نے گاڑی سے ماں کو دیکھا . چیخنے لگی کسی نے اسکے منہ پر رومال رکھا اسکا سر بھاری ہوگیا آنکھیں بند ہونے لگی اس نے ایک جھلک فراز کو دیکھا گاڑی میں , پھر ہوش نہیں رہا.
________________________________________
صبا بیگم بہت خوش تھی, ادھر ادھر نوکروں کو ہدایت دے رہی تھی. سجاوٹ پر خصوصی توجہ دے رہی تھی.
کمرے میں جھانک کر ایک نظر مہ جبیں کو دیکھا جسے ایک ماہر بیوٹیشن تیار کر رہی تھی.
صبا بیگم نے اسے بھی سمجھایا کہ آج بے بی حقیقت میں ماہ جبیں لگے.
حالانکہ یہ حقیقت تھی کہ ماہ جبیں جیسی کوئی لڑکی اس پورے علاقے میں نہ تھی وہ اپنے حسن میں یکتا تھی
مہمان آنا شروع ہوگئے. صبا بیگم ہر ایک سے بہت گرم جوشی سے مل رہی تھی اور سجے سجائے کمرے میں بٹھا کر آتیں.
آخر مہمانوں کی آمد ختم ہوئی.
ساز شروع ہوئے , مہ جبیں گھنگھروں باندھے محفل میں آئی , اسکا رقص اور حسن ایسا کہ سب دھنگ رہ گئے.
صبا بیگم کا کوٹھا ہمیشہ حسین ترین اور پڑھی لکھی طوائفوں کے لئے مشہور تھا.
اور آج کی محفل کی خاصیت یہ تھی کہ اس کی اپنی چھوٹی بیٹی کے رقص کی پہلی محفل تھی اور اس کی توقعات کے مطابق بہت کامیاب رہی.

_____________________________________________
مہ جبیں: – موم آپکے دوست تو مجھ پر جان نچھاور کررہے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں.
مگر ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ فراز بھی کسی سے کم نہیں دولت, رتبے اور خاندان کے لحاظ سے .لیکن آپ اسے یکسر نظر انداز کررہی ہیں. محفل میں بھی نوٹ پانی کی طرح بہائے. بعد میں ڈائمنڈ تک کے تحفے بھیجے. مگر ایک بار بھی آپ نے اس کو ہم سے ملنے نہیں دیا.
صبا بیگم : – بے بی ابھی تم نہ سمجھ ہو, جن سے ملنے کا کہوں ان پر دھیان دو. فراز جوان ہے خوبصورت ہے لیکن ایک بات یاد رکھنا, ہماری جوانی اور خوب صورت تماش بین کے لئے اہم ہے مگر ہمارے لئے انکی دولت اہم ہے.
مہ جبیں : – مگر موم فراز نواب ابن نواب فیروز کا اکلوتا بیٹا ہے. اور اس کے باپ کی عیاشی اور دریا دلی کے قصے تو بہت ہی مشہور ہیں۔
مہ جبیں نے شوخ اور معنی خیز نظروں سے ماں کو دیکھا.
صبا بیگم: – بس بے بی تمھارا تجربہ میرے برابر نہیں جو میں کہوں وہی کرو.
اس نے تحکم آمیز لہجے میں کہا اور چلی گئی.

_________________________________________
صبا بیگم کو کال آئی جلدی اور بے چینی سے ریسیو کی. دوسری جانب کسی نے کچھ کہا اور کال کاٹ دی.

گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر ڈرائیور کو ایڈریس سمجھا رہی تھی اور تیز چلانے کا کہہ رہی تھی۔
کچھ ہی پل میں مطلوبہ بنگلے میں پہنچ گئی.
سامنے فراز دوستوں کے ساتھ بیٹھا گپ شپ ہنسی مذاق اور قہقہوں میں مصروف تھا.
صبا بیگم کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی.
فراز :- آئیے آئیے , صبا جی یقیناً اپنی بےےےےبی کو لینے آئی ہو. ھاھاھاھا
تم دو ٹکے کی طوائف اور تمھاری حرام کی جنی ہوئی بےےےےبی مجھے نخرے دکھاتی ہو. تم جیسی گھٹیا ذات کو میں اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں,
چل ادھر کمرے میں پڑی ہے بڑی خاطر مدارت کی ہے بےےےےبی کی. اٹھا اپنی گندا تخم اور دفعہ ہو جا.
صبا بیگم کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی جو نفرت, اور طنز سے بھری ہوئی تھی .

صبا بیگم : – گندا تخم, ھاھاھاھا گندا تخم
تم کیا سمجھتے ہو, کہ رات کی تاریکی کی آڑ لیکر گناہ کرو گے اور وہ تاریکی تمھارے گناہ نگل لے گی.
تم کیا جانو کہ وہی تاریکی تمھارے گناہ دن کے اجالے میں اگل دیتی ہے اور پھر وہ مجسم صورت اختیار کر کے تمھارے سامنے آجاتی ہے .
یہ مت بھولو تمہارا باپ میرا عاشق تھا . جسے تم آج گندا تخم کہہ رہے ہو وہ کوئی اور نہیں تمھارے ہی باپ کا تخم ہے
میں نے کوشش کی کہ اس سلسلے کو بدل دوں مگر .
جب تک تم نسل در نسل عیاشی کرتے رہوگے تب تک تم اپنی ہی نسلوں کو برباد کرتے رہو گے .


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *