ِْْصنف نازک–ملک بلال اعوان


15226367_1536201649728579_640462236_n
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزدروں

عورت قدرت کا بنایا ہوا ایک ایسا شاہکار ہے جو اس کائنات میں انسان کے وجو د کا سبب بنی، گو کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا لیکن اس جہان دنیا کے ارتقاء کے لیے ایک ایسے مادی وجو د کی ضرورت درکار تھی جسے عام الفاظ میں عورت کہا جاتا ہے۔اور آج تک اس دنیا میں موجود ہر انسان کا وجود اس عورت کی مرہون منت ہے۔

قدرت نے اس مخلوق کو انتہائی عزت و تکریم سے نوازا ہے۔ ماں کے روپ میں جنت اس کے قدموں تلے ، اوربیوی کی شکل میں یہ دکھ سکھ کی ساتھی، بہن کے روپ میں سراپا شفت اور بیٹی کی شکل میں رحمت خداوندی ۔ایک نیک عورت والدین کے لئے باعث فخر، بھائیوں کے لئے باعث عزت، شوہر کے لئے دنیا کا قیمتی سرمایہ اور اولاد کے لئے عمدہ نمونہ ہے۔

عورت کے وجود کا اصل مقصدافزائش نسل اور معاشرتی زندگی میں سکوں کی وجہ بننا ہے اگر یہ مذکورہ بالا روپ دھارتی ہے تو اس سے ہی زندگی کے چمن میں خوشیا ں ، رعنائیاں اور چاشنی ہے۔دنیائے جہاں کی تمام مخلوقات میں سے اگر سب سے زیادہ محنت و مشقت کرنے والی کوئی مخلوق ہے تو وہ عورت ہے جو اپنی تمام خوشیو ں کی قربانی دے کر اپنے آشیانے کودوام بخشتی ہے، بیٹی کی حیثیت سے اس کی عمر کا ایک خاص حصہ والدین اور بہن بھائیوں کی خدمت میں گزر جاتا ہے جبکہ بقیہ تما م عرصہ حیات اپنی خانگی زندگی میں تکلیفیں ، مصیبتیںاور صعوبتیں برداشت کرنے میں گز ر جاتی ہے۔

اسکی زندگی میں سکون صرف اولاد کی خوشی اور خاوند کی محبت کی شکل میں ہی میسر آتا ہے۔بعض اوقات ازدواجی زندگی میں اسے تشدد کا بھی بڑی بہادری سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ اندر سے ٹوٹ بھی جائے تو ضبط کو برقرار رکھتی ہے اور آنسوں کو دل کے سمندر میں اتار دیتی ہے۔والدین کی عزت ، شوہر کی خدمت اور اولاد کی پرورش ہی اس کے فرائض منصبی ہیں ۔نیک سیرت،شرم و حیائ، پردہ، وفا، شفقت، الفت یہ تمام خصوصیات کا اس صنف نازک میں ہونا انتہائی ضروری ہے۔
نیک سیرت اور پاکیزہ عورت ہی اپنے والدین اور شوہر کے لئے اطمینان کا باعث بنتی ہے جبکہ اس کے لئے بہترین تحفہ عزت اور محبت ہے۔ کانٹوں سے بھرے پودے کو جس طرح ایک پھول خوبصورت بنا دیتا ہے اسی طرح ایک سمجھدار، نیک سیرت عورت اپنے غریب سے غریب گھر کو جنت بنا دیتی ہے۔

اگر یہ اپنی خوشیوں کو بالائے طاق رکھ کر سب کا خیال رکھتی ہے تو اسے بدلے میں بھی پیار محبت ، الفت اور شفقت درکار ہے۔دنیا کے کسی مذہب کی مقدس کتاب میں عورت پر کوئی مضمون درج نہیں لیکن اسلام نے عورت کو ایک ایسا بلند مقام عطاء کیا ہے جس کی مثال قرآن میں سورت النساء سے ملتی ہے۔

عورت کے تقوی کا تو عالم یوں ہونا چاہیے جیسے ایک زمانے میں امام احمد بن حمنبل کے پاس ایک خاتون حاضر ہوئی اور آپ سے ایک مسئلہ دریافت کیا۔خاتون فرمانے لگی کہ میں رات کو چاند کی روشنی میں سوت کاتتی ہوں جس سے میں اپنا گزر بسر کرتی ہوں اور جب میرے گھر کے قریب سے شاہی قافلہ گزرتا ہے تو ان کی مشعلوں سے کافی دیر تک میرے گھر میں روشنی رہتی ہے لہذا رات کے وقت اس روشنی کی وجہ میرے کام کرنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے، اور میرا کیا ہوا کام بھی بڑھ جاتا ہے۔ البتہ مجھے آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا اس پرائی روشنی میں جس پر میرا کوئی حق نہیں اس میں میرا کام کرنا جائز ہے یا نہیں ۔ امام احمد بن حمنبل مسئلہ سن کر بڑے حیران ہوئے اورکہا کہ اس مسئلے کا جواب تم اس وقت کے ولی کامل بشر حافی سے دریافت کرو ، اور پوچھا کہ اے خاتون تم ہو کون، فرمایا کہ میں بشر حافی کی بہن ہوں ۔ اتنی بات سن کر امام صاحب اس خاتون کا تقوی دیکھ کر زارو قطار رونے لگے اور فرمایا کہ تم زہد کے جس مقام پر ہو تمھارے لیئے یہ ناجائز ہے۔

دور حاضر میں میں عورت کا کردار انتہائی اندوہناک ہوچکا ہے، عورت ایک کھلونا بن چکی ہے، اس نے از خود اپنے تقدس کی پامالی کر دی ہے، گھروں میں لڑائیوںاور ناچاکیوں کا سبب بھی یہ عورت ہی بن رہی ہے، کوئی محفل ، کوئی جگہ ، کوئی بزم نہیں جہاں عورت کی عزت کی نیلامی نہ ہور ہی ہو، ڈراموں ،فلموں ، اشتہارات میں عورت اپنی عزت کا قتل خود کررہی ہے۔مزید برآں مغربی ممالک کے سیریلز کی اسلامی ممالک میں تشہیر بھی فحاشی کا سبب بن رہی ہے۔ ہر کمپنی اپنی پراڈکٹ کی تشہیر کے لئے اس عورت کاہی استعمال کررہی ہے، گوکہ عورت بذات خود ایک پراڈکٹ بن گئی ہے۔ میڈیا اور شوبز اس معاشر ے میں عورت کے کردار پر کلنگ لگانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ، مغرب نے ہمارے ملک میں سیکولرزم او ر لبرلزم کا بیج بو ڈالا ہے جس سے عورتیں اپنی خاندانی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر ماڈلز اور بازاری عورتوں کی تقلید میں مصروف ہیں اور معاشرہ تباہی کی طرف برق رفتاری سے گامزن ہے۔

غیر مسلم معاشروں کی نقل اور ترقی کی دوڑمیں عورت اپنی اقدار کھو رہی ہے، اپنے مقام اور تشخص کو بھول کر کئی حدیں پار کررہی ہے ، اور اپنے والدین اور معاشرے میں فخر کا سبب بننے کی بجائے ندامت کا باعث بن رہی ہے۔ البتہ اس تمام مشق میں ان کے والدین ہی کلی طور پر ذمہ دارہیں جنھوں نے اپنی زندگی کی مصروفیت سے کچھ وقت ان کی اچھی پرورش، تربیت اور اصلاح کے لئے صرف نہیں کیا۔

مخلوط نظام تعلیم، نمود ونمائش اورنام نہاد آزادی ہی اس معاشرے میں عورت کے زریعے بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔یہی عورت حق آزادی کی آڑ میں اپنی معاشرتی و مذہبی اقدار کا جنازہ نکال رہی ہے جو کہ اب ایک لمحہ فکریہء ہے۔اس کے سدباب کے لئے والدین کو اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت کی طرف خاص دہیان دینا ہوگا اور ان کی تربیت اسلامی اقدار کوملحوظ خاطر رکھ کر کرنا ہوگی۔ ایک باشعور ، عقلمند اور سمجھدار عورت ہی ایک پڑھے لکھے اور پاک معاشرے کو جنم دے سکتی ہے۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *