بلاگ

رشک اور حسد میں فرق- ریاض علی خٹک

  • 11
    Shares

رشک اور حسد میں بڑا بنیادی فرق ہے. آپ نے سڑک کنارے اچانک گاڑی کے پیچھے دوڑ پڑنے والے کتے دیکھے ہوں گے. کبھی آپ نے سوچا یہ کیوں بھونکتے ہوئے دوڑ پڑتے ہیں…؟؟

کتے کی شکاری فطرت میں یہ دوڑنا ہوتا ہے. بلی، خرگوش یا اور کسی چھوٹے جانور کو دیکھتے ہی یہ ان کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں . جھنڈ میں یہ اپنے سے بڑے جانور کے پیچھے بھی دوڑ پڑتے ہیں . یہ انکی شکاری جبلت ہے.

انسانی آبادیوں میں میں رہتے رہتے کتے بتدریج پالتو ہوگئے. محلے کے آوارہ کتے بھی اہل محلہ پر نہیں بھونکتے. ہاں کسی اجنبی کو دیکھ لیں یا کسی مفلوک الحال کو تب یہ خود بخود سارے محلے کی ذمہ داری اپنے کندھوں کا بوجھ سمجھ کر بھونکنا شروع کردیتے ہیں. لیکن چلتی گاڑی کے پیچھے یہ آج بھی اپنی فطرت سے مجبور اچانک دوڑ پڑتے ہیں.

حسد کی مثال گاڑی کے پیچھے دوڑ پڑنے والے کتے جیسی ہے. کتے کو بھی اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی کہ بالفرض میرے بھونکنے سے یہ گاڑی کھڑی ہوگئی تو میں اسکا کروں گا کیا…؟؟ حسد کرنے والا بھی یہ نہیں سوچتا کہ دوسرے کے نقصان میں میرا کیا فائدہ سوائے شیطان کی شیطانی تسکین کے…؟؟

رشک انسان کا فطرتی عمل ہے. آپ سڑک کنارے کھڑے ہوں ایک اچھی گاڑی اچھا سوار دیکھتے ہیں. آپ کو پسند آتا ہے. آپ خواہش کرتے ہیں.. کاش میرے پاس بھی ایسی سواری ہو.. یا کاش میں بھی اس سوار جیسا ہوتا. ہم کہہ سکتے ہیں رشک ایک موٹیویشن ہے. حسد ایک مکمل غلط فطرتی عمل ہے. قران شریف میں جیسے آیا ہے. وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ اور حسد کرنے والے کے شر سے،جب وہ حسد کرنے لگے. یعنی حسد ایک مکمل شر ہے. یہ وہ آگ ہے جو خواہش کرنے والا دور چاہتا ہے لیکن سلگ سلگ کے راکھ اس کی اپنی ذات بھی ہو رہی ہوتی ہے.

حسد کے بیج کو جڑیں پکڑنے نہ دیں. کیونکہ جڑ پکڑتے ہی یہ بھونکتا ہوا تناور درخت بنتے دیر نہیں لگاتا. ایک ایسا درخت جس کے اندھیر کے نیچے شعور سسک سسک کر دم توڑ دیتا ہے.


  • 11
    Shares