بچہ رزق لیکر آتا ہے لیکن ؟-محمد آصف


ہم لوگ اپنے بچےپیداکرنے میں سالوں لگادیتےہیں، اور خدانخواستہ اگر بیٹیاں پیداہونی شروع ہوجائیں تو ایک بیٹے کو پانے کی کوشش میں نوبیٹیاں سرپر بٹھا لیتےہیں۔ اور لوگ کہیں گے
دھیاں وی اللہ دی دین نیں۔ فیر کیہ ہویا
اللہ پُتروی دے دے گا
اور صاحبِ خانہ سرجھکاکر جی جی کیون نئیں اسی تے بڑے خوش آں۔کہہ کر جان چھڑارہے ہوتے ہیں۔
حالانہ خداجان رہا ہوتا ہے کہ یہ کتنے خوش ہیں۔
ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ ہم لوگ ایک دوبیٹا بیٹی ہوئے ہوں اور خدا کا شکراداکرتے ہوے یہ سوچا ہو کہ اے خدا تیری کرم نوازی ہے کہ تُو نے رحمت اور نعمت کا نزول کیا اب اس رحمت اور نعمت کے شکر کے طورپر ہم اب کسی ایسے بچے یا بچی کو پالیں گے اس کے ناز اور اخراجات اٹھائیں گے جو اس قابل نہیں کہ اچھی تعلیم حاصل کر سکے جو اس قابل نہیں کہ ایسی زندگی گزارسکے جو ہر بچے کا حق ہے۔
کیا وجہ ہے کہ ایسی سوچ میری معاشرے میں نہ توپیدا ہوتی ہے اور نہ ہی اسکی حوصلہ افزائی ہی کی جاتی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر خاندان اگر تین بچے پیداکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ دو پیداکرے، انسانی اقدارجس قدر تیزی سے تنزلی کی جانب جارہی ہیں، اپنے خاندان تک جس طرح سے ہم محدود ہورہے ہیں، ساتھ والے گھروں سے جس طرح سے لاتعلقی عروج پارہی ہے، انسانیت جس طرح دم توڑرہی ہے، کیا یہ سب چیزیں انسانی اقدار کو دوام بخش رہی ہیں؟ شائد لیکن تنزلی کی جانب۔
اگر ہم سوچیں تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں اس میں اولاد محفوظ ہونے کی علامت ہے۔ مرد اور عورت کی شادی کے بعد سب سے پہلی ترجیح اولاد ہے اور یہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ شادی نسل کی بڑھوتری کے لیے ہی کی جاتی ہے۔
اصل مسئلہ تب پیش آتا ہے جب ہم محض اس لیے تعدادبڑھاتےرہتےہیں کہ جو آئے گا اپنا رزق لے کر آئے گا۔
یہ درست ہے کہ وہ اپنا رزق لے کر آتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس کے رزق کی تقسم ہمارے زریعے سے رکھی گئی ہے۔ سسک سسک کر اور گھٹ گھٹ کر رزق دینے سے بہتر ہے کہ آپ محدود تعداد کے ساتھ چند بچوں کو رزق دیں اور بہتر طریقےسےدیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ غریب کو فراغت میں بچےپیداکرنے سے بہتر کوئی عمل نہیں ملتا۔ اور امیر اس جھنجٹ کو زیادہ پسند نہیں کرتا۔ حالانکہ جس کوپیداکرنے چاہییے وہ “پلاننگ”کررہاہوتاہے اور جیسے پلاننگ کرنی چاہیے وہ “پروڈیوسنگ”کررہاہوتاہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم بچے کے ہاتھوں کسی نادار اور ضرورت مند کی مدد کریں۔ کل کویہی بچہ بڑا ہوکر اُسی احساس سے سرشار سوچ لے کر اپنے بہترین عملی اظہارکے ساتھ معاشرے میں تبدیلی پیداکرےگا۔ انسان کا اصل جوہر اس کاوہ چھپاہوا خزانہ ہے جس کو ضمیر کہاگیا ہے۔ جس کو روح کا نام دیا جاتا ہے۔جب ہم اس کی پاکیزگی اور طہارت کا سوچتےہیں اس کے لیے کوشش کرتےہیں توسب سے پہلے اس کا تعلق ہمارے معاشرے پرپڑتاہے، ہمارا رویہ، انداز، میل جول اور تعلقات، یہ سب بدل جاتاہے۔ہمارے ہرعمل سے احساس پیداہوتا ہے۔
اور یہی احساس ہمیں دوسروں کی زندگیوں میں آسانی لانے کی تحریک پیداکرواتا ہے۔ اس کے بعد سمجھ لیں کہ خدا کی محبت کا ظہور ہے اور کچھ نہیں۔
آگے بڑھئے اور ایسے نادار اور مستحق بچوں کو اپنا نام دے کر منفرد ہوجائیں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *