حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ —محمدعزیزخان


ماضی کو بھلانا اور اپنے بزرگوں سے ناطہ توڑنا کسی قوم کی بربادی کیلۓ کافی ہے, بدقسمتی سے مسلم امہ اسوقت اس پرآشوب صورتحال سے دوچار ہے, ایسے میں مسلم قوم کی سامنے انکے پیشؤاؤوں کا تذکیرہ بھی ایک معنی خیز امر ہے, جن ہستیوں سے ہم نے نظریں چرالیں ہے ان میں ایک شخصیت مجدد العصر مجدد الف ثانی رح کا بھی ہے, آج اس ہستی کا یوم وفات ہے اس مناسبت سے اسکے سیرت پر ایک مختصر نظر پیش خدمت ہے!!

مجدد الف ثانی رح کا اس دارالفناء میں ولود سعود 14شوال 971ھ بمطابق 1564ع کو سرہند شریف میں ہوا!

نام احمد والد کانام عبدالاحد جبکہ امام ربانی اور مجدد الف ثانی سے مشہور ہے , آپکا سلسلہ نسب خلیفہ ثانی عمر فاروق رض سے جاکے ملتا ہے, اس نسبت فاروقی بھی کہلایا جاتا ہے!

کم عمری میں حفظ قرآن کے بعد ابتدائ تعلیم وتربیت اپنے والد گرامی اور علاقے کے جید علماء کرام سے حاصل کی, 17سال کی عمر میں علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغ ہوۓ, فراغت کے بعد آپ نے سرہند میں علوم دینیہ کے درس کا سلسلہ شروع کیا, اور مدت تک طلباء علوم کی علمی تشنگی دور کرتا رہا, آپ نے صرف شرعی علوم پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ روحانی تربیت سے بھی فیضیاب ہوۓ, اور روحانیت کی اس مقام تک رسائی ملی کہ آپ بیک وقت تصوف کے تین سلسلے سلسلہ نقشبندیہ, قادریہ, چشتیہ کے مرشد بنے, اور روحانی فیض سے بھی لاتعداد خلق خدا کو راہ راست پر لایا, صرف یہ نہیں بلکہ انہیں خلافت دیکر اطراف عالم میں دین الہی کے اشاعت کیلۓ بھیج دئیے!

آپکا سب سے عظیم کارنامہ اکبری دور کی بدعات, لادینیت اور خلاف شرع امور کے خلاف علم جہاد بلند کرنا, احیاۓ اسلام اور تجدید دین ہے, آپ نے اس پرفتن دور میں نہ صرف خود احیاۓ دین کیلۓ بھر پور جدوجہد کی, بلکہ ایسا منظم اور مربوط نظام قائم کردیا جس سے آپکے مقاصد کی تکمیل ہوئ, آپکے صدہا خلفاء تھے, جو دنیا کے کونے کونے میں آپکے افکار وخیالات کی ترویج میں مصروف عمل تھے, شیخ سرہندی کا عہد دسویں صدی ہجری کے آخری انتیس سال اور گیارہویں صدی ہجری کے تینتیس سال پر محیط ہے, یہ دور مسلمان ہند کا دور آزمائش تھا, اکبر نے دین محمدی منسوخ کرڈالاتھا, اپنا کلمہ ایجاد کیا تھا, شاہی محل میں سواۓ اسلام کے ہردین کے رسوم کو پروان چڑھایا گیا تھا,

بادشاہ کے رعب ودبدبے سے کوئ مسلمان حق گوئ بھی سوچ نہیں سکتا تھا چہ جائیکہ مزاحمت کرتا, مجدد الف ثانی رح ہی وہ مرد آہن بن کر ابھرا جس نے تقریر وتحریر سے دین اکبری میں وہ شگاف بناۓ جو اکبریت کی زوال کا سبب بنے, آپ ہی نے اسوقت علم حق تھاما, اس جرم کے پاداش میں آپ نے قفس بادشاہت سے بھی اعتناء نہیں برتا, بلکہ اس راہ میں ہر آزمائش کو خندہ پیشانی سے سہہ لیا, آخر کار یہ محسن امت دین محمدی کی حفاظت میں سرخرو ہوگیا, اور اسی کارنامے کی بدولت آپکا نام تاریخ کے اصحاب عزیمت میں درج ہوا, جو تاصبح قیامت یاد رکہا جائیگا!

آخر کار یہ سرمایہ ملت دارالفناء سے ہجر کرکے 28صفرالمظفر 1034ھ بمطابق 1626ع کو دارلعقبی وصال کرگۓ!

طیب اللہ ثراہ وجعل الجنۃ مثواہ!!

آپ رح کو انکے خدمات پر صاحب تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی رح, امام شاہ ولی اللہ رح, امام الہند ابوالکلام آزادرح, امام الادب مولانا ابوالحسن بدوی رح علامہ اقبال رح جیسے جبال العلم نے زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے!

یہاں بطور نمونہ امام ربانی رح کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلۓ علام اقبال رح کا کلام نقل کرتا ہوں :

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمئ احرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان
اللہ نے بروقت کیا, جس کو خبردار

(نوٹ)یہ تو صرف اجمالی تذکرہ ہے, امام ربانی رح کے تفصیلی سیرت پڑھنے کیلۓ مولانا ابوالحسن علی ندوی رح کا شاہکار تصنیف ,,تاریخ دعوت وعزیمت,, ملاحظہ فرمائیں!!


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *