پھول اور مالی —عبدالسبحان


پھولوں کی کھیتی کو انگریزی میں “Floricculture ” کہتے ہیں۔ پھول اس زمین کی زینت، رنگ و آہنگ ہیں۔ اللہ تعالی نے گل و رنگ سے اس زمین کی زیبائش و آرائش کی ہے۔ پھولوں سے ہماری اس زمین کو نگہت و رعنائی بخشی ہے اور چمن زاروں و گلستانوں سے دھرتی کا جبینہ معطر و خیرہ کن بنا دیا ہے۔ گلستانوں نے اس دھرتی کی حسن کو چار چاند لگائے ہیں۔ اگر چمن زار و گلزار اس زمین کے وجود کا حصہ نہیں ہوتے تو سجھ لیں کہ اس زمین کی خوبصورتی بے ناک انسان کی طرح رہ جاتی۔

ویسے تو ہر ایک پھول اپنی جگہ پر قدرت کی حسین تخلیق کا شاہکار ہے لیکن پھولوں میں بادشاہی کی حیثیت قدرت نے گلاب کے پھول کو بخشی ہے۔ گلاب کا پھول قدرت کی کمال تخلیق کا مظہر ہے۔ ” پنکھڑی ایک گلاب کی سی ” کے مصداق نہایت دلکش و دیدہ زیب صورت ہے۔ یہ پھول قدرت کی خوبصورتی کا ایک مظہر ہے۔ اس کی ہیئت، تشکیل، وجود و خوشبو اپنی مثال آپ ہے۔ انسان کے جملہَ حِسوں کو یہ پھول بھاتا ہے ۔ یہ پھول گلزاروں کا فخر اور گلستانوں و چمن زاروں کی زینت ہے۔ کھردری چٹانوں میں چمکتے ہیرے کے مثل یہ پھول نگریوں کا جمال ہے۔ اردو ویکی پیڈیا کے مطابق گلاب گھروں اور باغوں میں لگایاجانیوالا سب سے خوبصورت اور عام پھول ہے۔ اس کی خرید وفروخت کاسلسلہ بھی سال بھر قائم ودائم رہتا ہے۔ اس سے گل قند اور خوشبو بھی تیارکی جاتی ہے۔ گلاب کے سو سے زیادہ انواع و اقسام پائے جاتے ہیں۔ یہ سدابہارپھول ہے۔ گلاب کے پھول کے متعدد طبی فوائد بھی ہیں۔ اور ان گنت تریاق اس سے تیار کئے جاتے ہیں۔ جو انسانی صحت اور علاج معالجے کےلئے مستعمل ہوتے ہیں۔

گلاب کے پھول کو محبت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں محبت و الفت کے اظہار کےلئے اس پھول کا تحفہ منظورِ نظر لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ پھول عاشقوں کا محبوب بھی ہے اور شاعرانہ کلام کا بھی مشہور استعارہ ہے۔ محبت و الف لیلوی کہانیوں میں بطورِ خاص اس پھول کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

مالی پھولوں کی دیکھ بال کرتے ہیں۔ ان کی بروقت خدمت و نگہداشت کرتے ہیں۔ پھولوں کی آبیاری کرتے ہیں۔ ان پھولوں کی مہک، خوشبووں سے نتھونوں کے زریعے دل و دماغ کو معطر کرتے ہیں۔ ان پھولوں کی دید سے آنکھوں کی ٹھنڈک پاتے ہیں۔ غرض مالی کو ہر وقت ان پھولوں کی فکر رہتی ہے جیسے ایک باپ کو اپنے بچوں کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ انہیں اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ ان پھولوں کو تروتازہ اور شاداب نہ دیکھیں۔ پھول اپنے دل کش و جازبیت وجود سے انسانوں کا میلان حاصل کرتے ہیں۔اور ان کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔
پھولوں کا تصور کرتے ہی دل و دماغ میں ایک مسحور کن احساس سرایت کرجاتی ہے۔ پھولوں کو امن ومحبت کی علامتیں ماننے جاتے ہیں۔ ان کی ابتداء سے انتہا تک کی نگہداشت و آبیاری جان جوکھوں کاکام ہے۔ پھولوں کی سرسبزی و شادابی کےلئے مالی کا خون پسینہ خرچ ہوتا ہے۔


You may also like...

2 Responses

  1. مفتی عزیزالرحمان ملتان says:

    ماشاءاللہ
    بہت اچھا لکھا ہے
    اللہ کرے حسن رقم اور زیادہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *