اے پی ایس نے پاکستان بدل کر رکھدیا ہے-رعایت اللہ فاروقی


نائن الیون کے نتیجے میں امریکہ نے صرف افغانستان پر فوجی چڑھائی نہیں کی بلکہ ایک جملہ بار بار بول کر پوری دنیا میں قانون کو جوتے کی نوک پر بھی رکھا۔ وہ کہتا
“نائن الیون نے دنیا بدل کر رکھدی ہے”
وہ پانچ پانچ سو ڈالر میں پوری دنیا سے لوگوں کو اغوا کراتا اور کوئی اس پر سوال اٹھاتا تو امریکہ کہتا
“نائن الیون نے دنیا بدل کر رکھدی ہے”
ان مغویان کو امریکہ کے بجائے گوانتاناموبے میں رکھا جاتا اور ایسا اس لئے کیا جاتا تاکہ وہ مغوی “امریکی عدالت” کے دائرہ اختیار سے بھی باہر رہیں اور کسی بھی طرح کی قانونی مدد حاصل نہ کر سکیں۔ لوگ سوال اٹھاتے تو امریکہ کہتا
“نائن الیون نے دنیا بدل کر رکھدی ہے”
مشرف دور میں سی آئی اے پاکستان کی گلی کوچوں میں سیاہ شیشوں والی گاڑیوں میں “اغوا آپریشنز” کرتی رہی۔ لوگ سوال اٹھاتے تو امریکہ کہتا
“نائن الیون نے دنیا بدل کر رکھدی ہے”
بنیادی انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں صرف پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں ہی نہیں کی گئیں بلکہ خود امریکہ میں “پیٹریاٹ ایکٹ” کی آڑ میں مسلمانوں کا جینا حرام کیا گیا اور ہر بار امریکہ یہی کہتا
“نائن الیون نے دنیا بدل کر رکھدی ہے”
پھر ہمارے ہاں بھی ایک نائن الیون ہو گیا جسے ہم “سانحہ اے پی ایس” کے نام سے جانتے ہیں۔ اس واقعے نے پاکستان کو بدل کر رکھدیا۔ ہم نے اپنا پیٹریاٹ ایکٹ “نیشنل ایکشن پلان” کی صورت تخلیق کیا، جس کے تحت ہم نے بھی قانون سے ماورا جانے کی روایت اختیار کی۔ لوگ اغوا ہوتے اور ان کے ہمدرد شور مچاتے تو ہم کہتے
“اے پی ایس نے پاکستان بدل کر رکھدیا ہے”
لوگ پولیس مقابلوں میں مارے جاتے اور ان کے عزیز واویلا کرتے تو ہم کہتے
“اے پی ایس نے پاکستان بدل کر رکھدیا ہے”
لوگ فوجی عدالتوں میں پیش کرکے کھڑے کھلوتے تختہ دار کی جانب روانہ کر دیئے جاتے اور کوئی سوال اٹھاتا تو ہم کہتے
“اے پی ایس نے پاکستان بدل کر رکھدیا ہے”
جب تک داڑھی والے بکرے اس کی زد میں رہے امریکہ اور کمرشل لبرلز خاموش رہے۔ جوں ہی بھینسے بھی اس کی زد میں آئے تو دیسی کمرشل لبرلز ہی نہیں بلکہ امریکی دفتر خارجہ کو بھی “تشویش کے دورے” پڑنے لگے ہیں۔ لگتا ہے امریکہ نے سنا نہیں۔ بلند آواز سے عرض گزار ہوں
امریکہ جی ! او امریکہ جی ! میں اخیا، اے پی ایس نے پاکستان بدل کر رکھدیا ہے !”


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *