اقبال کا تصور خودی –اعزازاحمدکیانی

  • 21
    Shares

خودی کو کر بلند اتنا کے ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟(اقبال)

علامہ اقبال ؒگزشتہ صدی کےعظیم مصنف، شاعر، قانون دان ، ما ہر معاشیات، صوفی ، فلسفی ، سیاستدان اور احیا اسلام کے داعی تھے ۔علامہ کی وجہ شہرت اگرچہ انکی اردو ، و فارسی شاعری ہے لیکن علامہ کا فلسفہء خودی بھی اپنی شہرت میں کسی درجے کم نہیں ہے ۔ علامہ نے خود اپنی زندگی میں بھی فلسفہء خودی کو خاص اہمیت دی اور علامہ کی وفات کے بعد بھی ان کے قدردان انکے اس فلسفے کو عام کرنے میں آج تک سعی مسلسل میں مصروف ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود عام عوام آج تک حکیم الامت اور اپنے قومی شاعر کے اس فلسفے سے بے خبر ہے۔

علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کے تشریح پر اپنے پاس سے کچھ کہنے سے بہتر ہے خود انہی کے خط کا ایک حصہ جو انہوں نے پروفسر نکلسن کو انکی فرمائش پر لکھا تھا نقل کردوں جسکو ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنی کتاب علامہ اقبال اور ہم میں نقل کیا ہے۔

” ظاہر ہے کہ کائنات اور انسان کے متعلق میرا نظریہ ہیکل ا ور اسکے ہم خیالوں اور ارباب وحدت الوجود سے بالکل مختلف ہے جن کے خیال میں انسان کا منتہائے مقصود یہ کہ وہ خدا یا حیات کلی میں جزب ہو جائے اور اپنی انفرادی ہستی کو مٹا دے ۔۔۔ میری رائے میں انسان کا مذہبی اور اخلاقی منتہائے مقصود یہ نہیں کہ وہ اپنی ہستی کو مٹا دے یا اپنی خودی کو فنا کر دے بلکے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی انفرادی ہستی کو قائم رکھے، قرب الہی کا مقصد یہ نہیں کہ انسان خدا کی ذات میں فنا ہو جائے بلکہ اسکے برعکس یہ کہ خدا کو اپنے اندر جذب کر لے میں نے افلاطون کے فلسفے پر جو تنقید کی ہے اس سے میرا مقصد ان فلسفیانہ مذاہب کی تردید ہے جو بقاء کے عوص فنا کو انسان کا مقصد قرار دیتے ہیں ، ان کی تعلیم یہ ہے کہ مادہ کا مقابلہ کرنے کے بجائے انسان کو ان سے گریز کرنا چاہئیے ۔ حالانکہ انسانیت کا جوہر یہ کہ کہ انسان مخالف قوتوں کا مقابلہ کریں اور انہیں اپنا خادم بنا لے ، اس وقت انسان خلیفتہ اللہ کے مرتبے تک پہنچ جائے گا۔
علامہ اقبال نے تصور خودی کی وضاحت پر ایک مستقل کتاب ( مسنوی) اسرار خودی تصنیف کی جو علامہؒ کے فلسفے کی بہترین تشریح ہے ذیل میں اسی کتاب سے خودی کے مختلف پہلوں کو بیان کیا جا رہا ہے۔

نظام عالم کی اصل خودی :
ہم یہ جہاں کہتے ہیں جسکو اصل میں یہ آثار خودی ہےاور آنکھ جو دیکھتی ہے وہ اسرار خودی ہیں جب تک خودی سوئی تھی خدا کے سوا کچھ بھی نہ تھا اور جب پیدار ہوئی تو ایک عالم پندار ہو گیا۔
خود نمائی خودی کی قدیم عادت اور اسکی طاقت سے ہر شہ پوشیدہ ہے یہ قوت اگرچہ خموش ہے لیکن بیتاب عمل ہے اور اور عمل کے ساتھ پابند اسباب عمل بھی ہے ، اس جہاں کی زندگی خودی سے وابستہ ہے ِ خودی جتنی مضبوط ہوگی اتنی زندگی مضبوط ہو گی۔ قطرے نے جب خودی کو پا لیا تو بے معنی قطرے سے قیمتی موتی بن گیا پہاڑ نے جب خودی کھوئی تو بلندی سے زوال اسکا مقدر بنا اور صحرا کی شکل اختیار کر لی۔ زمین نے جب خودی کو پایا تو چاند اسکے گرد طواف کرنے لگااور زمیں سے مضبوط ٹھہرا سورج جسکی روشنی کی زمیں بھی محتاج ہے۔

حیات خودی مقصد زندگی سے وابسطہ ہے:
علامہ کے نزدیک خودی کی حیات کا دارمدار انسانی زندگی کے مقاصد پر ہے علامہ کے نزدیک زندگی کی بقا مدعا یعنی مقصد میں پوشیدہ ہے، یہی وجہ علامہ نے اپنی اس مسنوی میں دل میں پختہ آرزو کی موجودگی کو ہی اصل زندگی سے تعبیر کیا ہے اور بے آرزو آدمی کو ایک مردہ شخص قرار دیا ہے

خودی عشق سے مستحکم ہوتی ہے :
علامہ کے نزدیک خودی جذبہ عشق سے مضبوط ہوتی اور خودی کی قوتوں کا ارتقاء عشق سے ہوتا ہے۔ علامہ کے نزدیک ہر مسلمان کے دل میں ایک معشوق بستا ہے اور وہ ذات محمد مصطفیﷺ کی ہے ۔
علامہ کے نزدیک یہ عشق ہی تھا جس سے خاک ثریا پر پہنچ گئی ، عشق کی کیفیتوں میں جب وجد آیا تو تو زمیں سے خاک نجد نے نے آسماں کا سفر طے کیا۔ علامہ نے یہاں بایزید بسطامیؒ کی مثال دی جنہوں نے عشق مصطفیٰ میں خربوزہ کھانا ترک کر دیا اور مسلمانوں کے عشق کا معیا ربھی بایزید بسطامی کا عشق قرار دیا۔
خودی ضعیف ہوتی ہے:

علامہ اقبال کے نزدیک سوال کرنے ، دوسروں پر انحصار کرنے ، محنت، ہمت و کوشش کو ترک کرنے اور دوسروں کے احسان اٹھانے سے خودی صعیف ہوتی ۔علامہ مسلمانوں کو تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنی روزی آپ حاصل کر اوروں سے نہ مانگ ،بھیگ سے اجزاء خودی آشفتہ ہوتے ہیں ،چاند بن اور اپنی روزی اپنے پہلو سے حاصل کر لیکن یہاں علامہ نے ایک اور نقطہ بھی بیان کیا کہ چاند جو کہ سورج سے اپنی روزی ( روشنی) پاتا ہے اسلیے اسکے اپنے دل پر احسان کا داغ ہے ، مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں بھلے تمہیں پریشانیاں گھیر لیں تو بھی غیر کی نعمتوں سے روزی حاصل نہ کر تاکہ توروز حشر تو محمد مضطفیﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہو جب دل و جاں سب بڑی مشکل میں ہوں گے۔

تربیت خودی کے تین مراحل :
اول اطاعت:-

علامہ اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت کے تین مراحل ہیں جن میں پہلا مرحلہ اطاعت کا ہے ۔ اقبال کے نزدیک اطاعت اور فرمابرداری ہی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتی ہے ۔ اقبال نے اونٹ کو بطور مثال پیش کیا ۔ اونٹ ہر وقت محنت ، ہمت اور کوشش میں مصروف رہتا ہے ، صبر و استقلال کا دامن تھامے رکھتا ہے ، کوئی جنگل ایسا نہیں جس کی قسمت میں اسکے نقش پا نہ ہو اہل صحرا کی یہ کشتی جیسی بھی منزل ہو خوشی سے اپنے مالک کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کیے چل پڑھتی ہے۔ اقبال مسلم امت کو بھی تلقین کرتے ہیں کے اپنے فرائض سے رو گردانی نہ کر بلکےاطاعت کا دامن تھامے رکھو اور اپنے آپ پر جبر کرو تا کہ تمہیں خود پر اختیار حاصل ہو ۔

اطاعت معبود سے نا کس بھی کس ہو جاتا ہے اور سرکشی سے آگ بھی مانند خس ہو جاتی ہے، ہوا نے گل ( پھولوں ) کے زندان خانوں میں رہ کر خوشبو کی صفت پائی، قطرہ وصل کے آئین سے دریا بن گیا، ذرہ اسی آئین کی پابندی سے صحرا بن گیا ،اےغافل انسان جب کائنات کی ہر شہ نے آئین کی پاسداری و وفاداری سے قوی اور مضبوط دل حاصل کر لیے توتم کیوں آئین کی پاسداری سے غافل ہو، اے مسلمان خود کو آئین سے آزاد نہ کر بلکے اس آئین ( حق) کی زنجیر کو اپنے گلے کی زینت بنا لے اور آئین کی سختی کا گلہ نہ کر بلکے خود کو حدود مصطفیﷺ کا پابند کر۔

دوم )ضبط نفس: اقبال کی خودی کی تربیت کا دوسرا مرحلہ ضبط نفس ہے ۔ فرماتے ہیں تیرا نفس کس درجہ خود پرور ہے، خود سری اور خود پرستی سے اسکا سینہ پر ہے۔ زندہ مرد بن اور اپنے نفس کی مہار کو اپنے ہاتھوں میں لے اور دنیا میں اپنی عزت و وقار حاصل کر ،جو اپنے آپ پر فرماں روا نہ ہو وہ دوسروں کے احکام کے تابع ہو جاتا ہے ۔ تیرے دل میں عقبیٰ، دنیا، ایماں اور جان کا خوف ہے ، تیرادل دولت ، جاہ و منصب، وطن، فرزند، اقرباء اور زن کی محبت کا مسکن بنا ہوا ہے۔ تیرے ہاتھ میں جب تک لاالہ کا اعصا رہے گا ہر خوف و طلسم کو باطل بنائےگا، ایسے شخص کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور اسکا دل غیر اللہ کےڈر سے پاک ہو جاتا ہے۔ جو لاالہ کی حقیقت کو پا جاتا ہے وہ ہر فکر سے آزاد ہو جاتا ہے یہاں تک راہ حق میں اپنے بیٹے کی قربانی بھی اسکو گوارا ہوتی ہے۔لاالہ ایک صدف ہے گوہر جسکا نماز ہے ، مسلماں کے ہاتھ میں شمشیر ہے جس کا کام قتل فحشا اور نہی و منکر ہے۔ روزہ تن پروری کے خیبر کو برملا توڑتا ہے، مومن کی فطرت حج سے جلا پاتی ہے، زکوات دل کو حُب دولت سے پاک کرتی ہے اور مساوات پیدا کرتی ہے۔ یہ سب احکام اور تعلیمات تیرے لیے وجہ استحکام ہیں(یعنی ضبط نفس میں معاون ہیں ، ان احکام پر عمل ہی سے صبط نفس کے مرحلے میں کامیابی ممکن ہے ۔ راقم) اور تمہاری پختگی اور ضبط نفس بھی قائم ہوگی اگر اسلام تیرا محکم یعنی مضبوط ہے۔یا قوی کے ورد سے اپنی طاقت برقرار رکھ اور اشتر ( اونٹ) خاکی پر سوار ہو۔

سوم، نیابت الہی:اے مسلماں جب تو اس اونٹ پر سوار ہو جائے گا تو تیرے سر پر تاج ہوگا۔ حق کا نائب اس عالم کی جاں ہوتا ہے اور اسکا نام اسم اعظم ہوتا۔ وہ بڑھاپے میں شباب کی صفات پیدا کرتاہے، وہ زندگی کی نئی نئی تفسیریں اور تعبیریں بیان کرتا ہے۔ غرصیکہ زمانے کو جینے کا انداز سکھاتا ہے۔

عام شعرا کے برخلاف علامہ اپنے پیچھے اپنے دیوان اور انداز بیاں کے ساتھ ساتھ فلسفہ بھی چھوڑ گئے ہیں جنکو اہل علم اور اقبال شناسوں نے اگرچہ خوب سمجھا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کے امت کی اس خستہ حا لی اور اخلاقی زوال کے دور میں اقبال کی اردو اور فارسی شاعری کو عام کیاجائے، ٹی وی ،اخبارات ، سکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں،ادبی میلوں اور ادبی و علمی پروگراموں میں اقبالیات کو خاص اہمیت دی جائے اور قوم باالخصوص نوجوان نسل کو اقبال کے پیغام اور فلسفے سے شناسائی پیدا کی جائے ، بلاشبہ اقبال کے اشعار و خیالات قوم کے حق میں مانند آب حیات ہیں ، ، احیائے امت ،احیائے اسلام اور قومی تربیت کے لیے جام شفاء ہیں۔
نہ ستارے میں نہ گردش افلاک میں ہے
تیری تقدیر میری نالہ بے باک میں ہے
کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش کہ تری خاک میں ہے،(اقبالؒ)


  • 21
    Shares

You may also like...

1 Response

  1. June 2, 2017

    […] لیے انھیں ’’بڑے لوگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ (ادارہ) مزید پڑھیں اقبال کا تصورخودی علامہ اقبال Allama Iqbal اپنی قوم کو چھوڑ کر جوارِ رحمتِ […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *