میرے ہاتھ نوحے لکھ لکھ کر تھک چکے—زبیرمنصوری



آپ نے حلب پر کچھ نہیں لکھا؟
کیوں؟ یہ کتنا تکلیف دہ ہے؟آہ
اس کی آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی کہ وہ اپنےبھائیوں کے دکھ میں رات بھر سویا نہیں!
میں بہت دنوں سے اس سوال سے بچنا چاہتا تھا مگر بلآخر اس سوال کی تلخی نے میرے ضبط کے بندھن توڑ ڈالے
“میرے ہاتھ نوحے لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں ، انگلیاں شل ہو گئی ہیں دل زخمی ہے ،مگر میں کیا کروں ؟ کیوں ان بیچارے عام مسلمانوں کو طعنے دوں جو کچھ نہیں کر سکتے، بے بس ہیں، ان عوام نے بار بار امت کے غم میں ،کبھی ڈاکٹر عافیہ کے لئے کبھی توھین رسالت کے مسئلہ پر تو کبھی نظام مصطفی لئے گھروں سے نکل کر ،خون دے کر ،مال قربان کر کے ،دیکھ لیا انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی مسلسل بار بار کی ہار اور قومی قیادتوں کے دھوکوں، حماقتوں یا لانگ ٹرم وژن سے محرومی نے انہیں بری طرح مایوس کر دیا ہے
چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکے دئیے مجھ کو
کہ شوق گل بوسی میں میں نے کانٹوں پر زباں رکھ دی
یہ اب Immune ہو چکے ہیں ، بے حس اور شکست خوردہ ہیں انہیں اس سسٹم نے ایسی مصیبتوں اور معاشی چکروں میں جکڑ دیا ہے کہ اب ان کے پاس کوئی راستہ نہیں اس لئے اب یہ وہ کبوتر بن گئے ہیں جو ریت میں منہ چھپانے ہی کو عافیت سمجھ بیٹھتا ہے یہ بھی اب کبھی میلاد تو کبھی غم حسین تو کبھی شب برات منا کر خود کو دین داری کا دھوکہ دئیے رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔
میں نے کہا دیکھو ان عوام میں احساس کا رونا روتے رہنا بے کار ہے یہ کیا کریں ؟ باہر نکلیں؟ بیسیوں بار نکلے کیا ہوا؟ اب کیا ہو جائے گا؟ کیا کسی کے پاس کسی سطح پر کوئی نتیجہ خیز منصوبہ ہے؟ کوئی پلان جس سے کامیابی کی کوئی کرن پھوٹتی ہو؟ کسی میں اتنی زہانت اور استعداد ہے کہ وہ حالات کا گہرائی میں تجزیہ کر کے درست تشخیص ہی کر سکے؟
ہو تو سامنے آئے ورنہ امت کی قیادت پہلے کوئی طریقہ کار سوچے پھر لوگوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرے کیونکہ صلاحیت کے بغیر پیدا ہونے والی احساس ذمہ داری زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔۔۔۔
خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *