افسانہ بچے

سرخ گلاب—-محمد نواز


تا حد نگاہ سرخ گلابوں کے پھول کھلے تھے،سرخ گلابوں کے اس کھیت کو انتہائی مہارت اور ہنر مندی کے ساتھ مختلف کیاریوں میں اگایا گیا تھا۔ ہر کیاری ایک عمر کو ظاہر کر رہی تھی۔ کیاریوں کے درمیان مستعدی کے ساتھ پگ ڈنڈیاں بنائی گئی تھیں ۔پہلی کیاری میں نرم و نازک کونپلیں نکالتے نرم پتوں والے گلاب اگائے گئے تھے۔ کیاری میں اگے گلاب کے یہ ننھے پودے ابھی اپنی گردنیں اوپر اٹھا رہے تھے۔ مالی نے ان کو دھوپ اور سردی سے بچانے کیلئے لاکھ جتن کر رکھے تھے۔ یہ پودے اتنے نازک تھے کہ ہاتھ لگانے سے مر جھا جانے کا خدشہ ان کے سروں پر منڈلاتا رہتا تھا ۔ پگ ڈنڈی پر آگے چلتے ہوئے نظروں کے سامنے دوسری کیاری، گلاب کے اُن پودوں کی اگائی گئی تھی جن پر کلیاں کھلنے کو تھیں ،اپنے پائو ں پر کھڑے ہوتے ہوئے یہ پودے اب کیاروں سے باہر جھانکنے لگے تھے،ان کو گرمی اور سردی کا احساس ہونے لگا تھا ۔ تیسری کیاری میں گلاب کے وہ پھول لگائے گئے تھے جو بہار کا جوبن دیکھ چکے تھے ان پر ہر طرف بہار ہی بہار نظر آتی تھی ۔ سرخ پیرہن میںلپٹے یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلا رہے تھے۔ اس کے بعد جہاں تک نظر جاتی تھی سرخ گلابوں کا ایک قالین فرش پر بچھا دیا گیا تھا ۔ سارے کھیت میں ہر سو خوشبو پھیلاتے سرخ گلاب مالی کی ہنر مندی کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔ مالی نے ان کی یوں کانٹ چھانٹ کی تھی کہ دیکھ نے والی ہر آنکھ داد دیئے بنا نہ جھپکتی تھی ۔
سرخ گلابوں کے اس کھیت کے عقب سے سات درندہ صف لوگ ہاتھوں میں تلواریں لیئے داخل ہوئے لمبے تڑنگے ،کالی رنگت والے دیو مجسم ،سرخ خون میں ڈوبی آنکھیں ، بانچھیں کھلی ہوئی جن پر خون کی رالیں تپکتی تھی ،ڈریکولا کی مانند خون کے پیاسے ۔سرخ گلابوں کی کیاریوں پر ٹوٹ پڑے۔ ان کو بے دردری سے تہہ تیغ کرنے لگے ۔ پھولو ں کی نرسری سے لے کر بہار میں جھومتے پھولوں تک سب ان کی بربریت کا نشانہ بنے ۔ تمام کیاریوں میں چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب کے سب سرخ گلابوں کے پودے اکھاڑ دیئے گئے ۔ تمام پھولوں کو ان کی شاخوں سے کاٹ کر اپنے غلیظ پیروں تلے مسل دیا گیا ۔ان سرخ گلابوں کو ان کے اپنے ہی خون میں نہلا دیا گیا ۔ چند ثانیئے پہلے جنت کا نظارہ کرنے والا یہ چمن ،یہ باغ یہ سرخ گلابوں کا کھیت اجڑے ہوئے ہوئے گلشن کی داستان سنا رہا تھا۔ ابھی چند لمحے پہلے جہاں چڑیوں نے واحدانیت کا گیت گایا تھا ،ابھی تھوڑی دیر پہلے صبح کی نوید سنانے کیلئے طوطی بولا تھا ۔ سورج کی پہلی کرن نے چلتی پھرتی زندگی کا راگ آلاپا تھا ،ابھی ابھی کوا کائیں کائیں کرتا ہوا نئے مہمانوں کا سندیسہ لایا تھا ،پھر اچانک کیا ہو گیا ؟ چڑیوں کی چہچہاہٹ آہوں میں بدل گئی طوطی کی آواز بھرا گئی اور کوے کی کائیں کائیں سسکیوں اور آہوں میں دب کر رہ گئی ۔ نسیم صبح ،باد سموم میں بدل گئی ۔ چمن اجاڑ دیا گیا غنچے مسل دیئے گئے ۔۔۔۔،شاخیں کاٹ دی گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنت میں جانے والے والوں نے جنت اجاڑ دی ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کس نے کہا تھا ’’ جنت میں جانا ہے تو جنت ویران کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یقینا! اس نے کہا ہو گا ،جس کو خود جنت سے نکال دیا گیا ،یا اس کے پیروکارو نے ۔ زمین میں فساد برپا کر دو،قتل و غارت کا بازار گرم کر دو ،خون کی ندیاں بہا دو۔ کھلے ہیں جو سرخ گلاب ان کو لتارڈ دو، تو تمھیں جنت ملے گی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنت کا خواب دکھا کر اپنے مظموم مقاصدپورے کرنے والے یہ بتانا کیوں بھول گئے جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ۔
132 سرخ گلاب تھے جو تہہ تیغ کر دیئے گئے ۔ 132انسان تھے جو جنت کے حصول کیلئے درندوں کی درندگی کا نشانہ بن گئے ۔ میں سوچتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبین شہید کی ماں کو رات نیند کیسے آتی ہو گی ۔ بیٹے بن کیسے نیند آنکھوں میں اترتی ہو گی۔ کیسے رات کروٹیں بدلتے ہوئے کٹتی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سوچتا ہوں ،شہزاد کے بغیر اس کا باپ کیسے مسکراتا ہو گا۔ بنا شہزاد کے کیسے وہ گلیوں میں ٹہلتا ہو گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔شہید طالب علم شیر گل کی بہن اب کس کے ساتھ کھیلے گا ۔ اب کو ن اس کی گڑیوں کو تہہ و بالا کرتا ہو گا ۔ اب کون اس کی شکایت بابا سے لگاتا ہو گا ۔ میں سوچتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ا ن مائوں کو قرار کیسے آتا ہو گا ۔ جن کے جگر گوشے ،جن کے راج دلارے ،آنکھوں کے تارے چمکنے سے پہلے ہی گل کر دیئے گئے ۔ بھائی اب تنہابھائی کے ساتھ تتلیاں پکڑنے کو ان کے پیچھے بھاگتا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہن بھائی اب کیسے رات کو جگنو پکڑتے ہو ں گے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خون آلود کتابیں اور ان کتابوں پر خون پرسے لکھے آخری الفاظ اب بھی پکار رہے ہیں ۔ ’’ بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بچا لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا مجھے بچا لو۔ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ۔ با با مجھے بچا لو مجھے پڑھنا ہے ۔مجھے آگے بڑھنا ہے ۔ مجھے افق کے اس پار جانا ہے جہاں پریاں اترتی ہیں ۔ جہاں ہوائیں گیت سناتی ہیں ۔
سوچتا ہوں ، ماں نے خون میں لت پت وہ یونیفارم ،وہ جوتے کیوں سنبھال رکھے ہیں ۔ کیوں ان کو اپنی زیست کی الماری میں ہمیشہ کیلئے سجا رکھا ہے ۔ شائد اس لیئے کہ سرخ گلاب یا باغیچہ میں اچھے لگتے ہیں یا پھر الماریوں نما قبروں میں ۔سرخ گلاب دونوں جگہ رنگ بکھیرتے ہیں خوشبو پھیلاتے ہیں ۔