ہم جنس پرستی— اعزاز احمد کیانی


14681840_2171894652930806_4952095295185623106_n
یہ علم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکر ملوکانہ کی ایجاد (اقبالؒ )
دنیا کی ہزار سالہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیا کہ قدیم معاشروں اور قدیم اقوام میں جانداروں کے جوڑے نر اور مادہ سے ہی تشکیل پاتے تھے۔ دنیا میں جانداروں کے جوڑوں کا یہی طریقہ ہزاروں سالوں سے رائج ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ دنیا کی موجودہ تقریبا سات ارب آبادی اس بات پر دلیل مبین ہے کہ دنیا ئی آبادی کی اکثریت اسی طریقے کو فطری اور صیح طریقہ مانتی اور ہم جنسی پرستی کو نا صرف لعنت بلکے موجب گناہ سمجھتی ہے۔

یہ بات تو پتھر پر لکیر کی سی حقیقت رکھتی ہے کہ اولاد نر اور مادہ یعنی مرد و عورت کے جوڑے سے ہی وجود پاتی ہے تواگر قدیم دنیا میں یا موجودہ آبادی کی اکثریت میں ہم جنس پرستی کا رواج عام ہوتا تو پھر آج دنیا کی آبادی سات ارب کے بجائے سات ہزار یا سات سو ہوتی مگر فی الحقیقت ایسا نہیں ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا میں ایک مخصوص اور قلیل طبقے کے سوا تمام اقوام ہم جنس پرستی کو ایک لعنت سمجھتے ہیں۔

یورپی اقوام اور مغربی لوگوں کی جانب سے ہم جنس پرستی کی حمایت تو قابل فہم ہے اس لیے کہ ان اقوام نے اپنے ممالک رنگ، نسل، ذات، زبان اور علاقے کی بنیاد پر ھاصل کیے اور مذہب سے چٹکھارے کو ہی حقیقی آزادی سے تعبیر کیا ، مگر مسلمان معاشروں اور باالخصوص پاکستان میں ہم جنس پرستی کی حمایت کسی طور قابل فہم نہیں اس لیے کہ دوسری اقوام کے بر خلاف ہم نے اپنا ملک زبان، رنگ، نسل کے بجائے ایک نظریے اور مسلم اکثریت کی بنیاد پر حاصل کیا تھا اور ملک کو حصول میں جس چیز کو بنیاد بنایا تھا وہ مذہب ہی تھا۔

پاکستان میں مسلمان سکیولر اور لبرل طبقے کی جانب سے ہم جنس پرستی کا راگ الاپا جا رہا ہے قبل اس کے ہم جنس پرستی پر بات کی جائے بہتر ہے کہ ان سکیولر اور لبرل حضرات کی ذہنیت واضح کی جائے۔ پاکستانی لبرل عجب کنفیوسڈ لوگ ہیں جو ایک طرف مذہب کو ریاستی امور اور اجتماعی زندگی سے بے دخل کر کہ مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود کر تے ہیں اور دوسری طرف نجی اور ذاتی زندگی میں بھی سکیولر ازم کا اثر قبول کر رہے ہیں۔

شادی اور نکاح جو ذاتی اور پرسنل معمالات ہیں مگر یہ لوگ یہاں بھی ہم جنس پرستی کی خوب خوب تشہیر کر رہے ہیں اور معاشرے میں اس رواج کو عام کر کے جہاں ایک طرف خود اپنے موقف کی تردید کر رہے ہیں وہیں اس جمہوری دور میں عوام کی اکثریت پر مخصوص طبقے کی سوچ کو بھی جبرا مسلط کر رہے ہیں اور اسلام سے بھی کھلی بغاوت کر رہے ہیں۔

اگر ہم جنس پرستی کی تاریخ پر بات کی اجائے تو اس معمالے میں ہمیں ہماری تاریخ اور اسلام یہ بتاتا ہے ہم جنس پرستی سب سے پہلے قوم لوطؑ سے شروع ہوئی۔ اس قوم کے مردوں نے سب سے پہلے مردوں میں کشش اور رغبت کی تاریخ رقم کی اور یہی وہ قوم تھی جس کے مردوں نے سب سے پہلے عورتوں کے بجائے مردوں سے جنسی تعلقات قائم کیے۔اس کی پوری تفصیل اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں یوں بیان کی ہے:
“جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوطؑ کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے بہت غمگین ہو گئے دل ہی دل میں گڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بہت بڑی مصیبت کا دن ہے۔ اس کی قوم دوڑی ہوئی اس کے پاس آہ پہنچی، وہ تو پہلے ہی سے بد کاریوں میں مبتلا تھی، لوط نے کہا اے قوم کے لوگوں یہ ہیں میری (قوم ٰ)کی بیٹیاں جو تمارے لیے بہت پاک ہیں اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری لڑکیوں کی کوئی حاجت نہیں تو ہماری اصلیت سے خوب واقف ہے(سورہ یوسف آیات 77 تا 79)

اللہ تعالیٰ مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے اگلی آیات میں فرماتے ہیں
فرشتوں نے کہا اے لوط ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں نا ممکن ہے یہ تم تک پہنچ پائیں، پس تو اپنے والوں کو لیکر کچھ رات رہے نکل کھڑا ہو، تم میں سے کسی کو بھی مڑ کر نہ دیکھنا بجز تیری بیوی کے اسے بھی وہی پہنچے والا ہے جو ان سب کو پہنچنے والا ہے (سورہ یوسف آیت 81)

سورہ الحجر میں فرمایا:
مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو ضرور بچا لیں گے بجز لوطؑ کی بیوی کے ہم نے اسے رکنے اور باقی رہ جانے والوں میں مقرر کیا ہے(آیات 59،60)

مزید تفصیلا ت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
شہری لوگ خوشیاں مناتے ہوئے آئے لوطؑ نے کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو، اللہ سے ڈرو اور میری آبرریزی نہ کرو، لوط نہ کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو میری قوم کی بیٹیاں موجود ہیں، تیری(یعنی نبی محمدﷺ)عمر کی قسم وہ اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے(سورہ حجر آیات 67،68،69،71،72)

مندرجہ بالا آیات قرانی سے جہاں ایک طرف یہ بات واضح ہوتی کہ اللہ کے دین میں ہم جنس پرستی قطعا کوئی کنجائش نہیں اور سابقہ امتوں اور اقوام میں بھی یہ فعل ما سوائے قوم لوط کے کہیں رائج نہیں تھا وہاں ایک بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ گزشتہ شریعتوں اور اقوام میں مرد و عورت کا باہمی رشتہ ہی جوڑے کی بنیاد تھا۔مرد و عورت ہی جوڑے اور رشتے کی بنیاد ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ قران پاک میں فرماتا ہے:
لوگوں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اسکا جوڑابنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے(سورہ نساء آیت 1)

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اس نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے دیے (سورہ نخل آیت72)

لوگوں ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے (سورہ حجرات)

عام مشاہدے سے بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ جس طرح انسانی جوڑے مرد (نر) اور عورت (مادہ) سے تشکیل پاتے ہیں اسی طرح تمام جانداروں کے جوڑے بھی نر اور مادہ سے ہی وجود پاتے ہیں المختصر یہ کہ یہ وہ اصول ہے جو انسانوں سمیت تمام جاندار مخلوق میں رائج ہے

اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ فرنے قران پاک میں یوں بیان کیا :
آسمانوں اور زمینوں کا بنانے والاجس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے بنائے اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے اور اسی طرح وہ تمہاری نسلیں چلاتا ہے (سورہ شوریٰ آیت 11)

رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا مرد مردوں سے شہوت رانی کرنے لگیں گے، عورتیں آپس میں (یعنی عورتوں کے ساتھ) مشغول ہو جائیں گی، لڑکوں پر اس طرح فخر ہونے لگے گا جس طرح نوجون کنواری عورتوں پر اور مزید فرمایا خواہشات نفس کی پیروی کی جانے لگے گی۔

نبی اکرم ﷺ کی یہ پیش گوئی مغرب میں پوری صداقت کے ساتھ پوری ہو رہی ہے اور اسکے اثرات اور سائے برے ضغیر پاک و ہند اور افغانستان میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ہندوستان کی عدالتوں میں ہم جنس پرستی کے مقدمے سامنے آ رہے ہیں پاکستان میں ہم جنس پرست جوڑا تو اگرچہ فی الوقت سامنے نہیں آیا لیکن ہم جنس پرستی کا ہمایتی طبقہ موجود ہے۔

پاکستان کا لبرل اور سکیولر طبقہ جو خود بھی اپنی مسلمانیت کا اقرار کرتا ہے اور ہمیں بھی کم از کم انکی مسلمانیت میں کوئی شک نہیں لہذا ان کو چاہئیے کہ مغرب پرستی میں اندھی تقلید کے بجائے اپنے مذہب اسلام، اپنی تاریخ و روایات کے ساتھ عہد تجدید کریں ، پاکستانی عوام پر لازم ہے کہ وہ اس مغرب پرستی، اندھی تقلید اور ثقافتی یلغار کے خلاف خاموشی کے بجائے پر زور صدائے احتجاج بلند کریں اور حکومت وقت پر لازم ہے کہ وہ ایسے تمام واقعات کے رونما اور ظاہر ہونے سے پہلے ہی سد باب کے اسباب کرے، عوام پاکستان کو اعتماد میں لے اور اپنی صیح سمت اور دو ٹوک موقف کو واضح کرے۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *