”لکھاری“ کیلئے…امتیازشاہین عباسی


کہتے ھیں کہ لکھنو میں ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے کہ جب بات کرنی ھو تو تشبیہات, استعارات, محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو.
ایک بار دورانِ تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رھے تھے.
اُنہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اُڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی. استادِ محترم اس آفت سے بے خبر تھے۔ اِسی اثنا میں یہ معاملہ دیکھ کر ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ھوا اور بڑے ادب سے گویا ھوا:
“حضور والا..!! یہ بندہ ناچیز حقیر فقیر, پر تقصیر ایک روح فرسا حقیقت حضور کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رھا ھے. وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رھے ھیں..
چند ثانیے قبل میری چشم نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاھدہ کیا کہ ایک شرارتی آتشی پتنگا آپ کی چلم سے افقی سمت میں بلند ھو کر چند لمحے ہَوا میں ساکت و معلق رھا اور پھر آ کر آپ کی دستار فضیلت پر براجمان ھو گیا. اگر اس فتنہ و شر کی بروقت اور فل الفور سرکوبی نہ کی گئی تو حضور والا کی جان و شان کو شدید خطرات لاحق ھو سکتے ھیں..”
اور اتنی دیر میں استاد محترم کی دستار ان کے بالوں سمیت جل کر بھسم ھو چکی تھی..


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *