لکھاری لکھاری » تجزیہ » نواز شریف کا مستقبل کیا ہوگا؟2018 میں کس کی حکومت بننے جارہی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے ؟عمران اور زرداری کا ایجنڈا کیا ہے ؟سینئرتجزیہ نگار نے مستقبل کا منظر نامہ بتادیا

ad




ad




اشتہار




تجزیہ

نواز شریف کا مستقبل کیا ہوگا؟2018 میں کس کی حکومت بننے جارہی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے ؟عمران اور زرداری کا ایجنڈا کیا ہے ؟سینئرتجزیہ نگار نے مستقبل کا منظر نامہ بتادیا

  • 173
    Shares

الیکشن 2018ء میں محض چند ماہ باقی ہیں، سیاسی میدان میں گرما گرمی اور گہما گہمی دن بدن بڑھ رہی ہے، صفیں تیزی سے ترتیب جا رہی ہیں

اور میدان میں موجود سیاسی قوتیں بھرپور داؤ پیچ چلنے میں مشغول ہیں اور ان کا پہلا بھرپور امتحان سینٹ الیکشن میں

اپنے نمائندے منتخب کروانا تھا اور اب اگلا امتحان اپنی مرضی کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ منتخب کروانا ہے۔

اس وقت میدان میں کون کون سی سیاسی قوتیں موجود ہیں اور ان کی کیا ممکنہ چالیں ہو سکتی ہیں اور آئندہ الیکشن میں یہ سیاسی قوتیں کہاں کھڑی ہوں گی، اس کا جائزہ پیش خدمت ہے۔

ہمارے ملک میں آدھا عرصہ فوج کی براہ راست حکومت رہی، اس لحاظ سے فوج جسے عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ بھی کہا جاتا ہے باقاعدہ ایک سیاسی حریف ہے جو میڈیا،

دیگر اداروں اور سیاستدانوں میں اپنے مہروں کے ذریعے اقتدار پر کنٹرول رکھتی ہے یا رکھنا چاہتی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ بنیادی طور پر ملک کی خارجہ پالیسی بالخصوص امریکہ، افغانستان و انڈیا کے بارے میں اپنا ایک مؤقف رکھتی ہے

اور سیاستدانوں کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ ان کو اگر کھل کھیلنے کا موقع دیا گیا

تو یہ معاملات سنوارنے کے بجائے بگاڑتے زیادہ ہیں۔ اس بات سے قطع نظر اس مؤقف میں کتنی سچائی یا مبالغہ ہے، ہم صرف اسٹیبلشمنٹ کا نکتہ نظر بیان کر رہے ہیں۔

اصولی بات تو یہی ہے کہ ووٹ کا تقدس اور اداروں کا اپنے دائروں میں کام کرنا یکساں اہم ہے۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کا چیئرمین سینٹ لانا چاہتی ہے

اور اس کے لیے بلوچستان سے منتخب ہونے والے “آزاد” سینٹرز میں سے کسی ایک شخصیت کے نام قرعہ فال نکالا جا رہا ہے

جبکہ اگلا مرحلہ نگران حکومت لا کر الیکشن کو عدالت کے ذریعے ٹالنا یا اگر یہ ممکن نہ ہو تو معلق پارلیمنٹ لا کر اپنی مرضی کا منظرنامہ ترتیب دینا ہے۔

میری نظر میں اس وقت گھمسان کی جنگ جاری ہے، ایک طرف تین بار کی حکمران جماعت ن لیگ تنی ہوئی رسی پر چل رہی ہے

جس کی ظاہر ہے کچھ ٹھوس وجوہات موجود ہیں، نواز شریف کو پتہ ہے کہ وہ فی الحال مائنس ہو چکے ہیں اور

انھیں مزید ڈیمیج کنٹرول کرتے ہوئے اپنی سیاست کو اپنی اگلی نسل کو منتقل کرنا ہے جس میں مضبوط جانشین ان کی بڑی صاحبزادی مریم نواز ہیں،

جبکہ دوسری طرف ان کے سگے بھائی شہباز شریف بھی ہیں جو محاذ آرائی کے بجائے رستہ بنانے میں اپنا فائدہ سمجھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور

اس چیز کا نوازشریف کو بھی پتہ ہے لیکن وہ سارے پتے اپنے ہاتھ سے کھونا بھی نہیں چاہتے، اور اس آگ کو اتنا بھی نہیں بھڑکانا چاہتے کہ معاملات کنٹرول سے باہر ہو جائیں۔

نواز شریف کے پاس بہرحال عوامی حمایت موجود ہے اور اگر الیکشن منصفانہ ہوتا ہے تو ن لیگ پنجاب میں دوبارہ واضح اکثریت سے جیتتی نظر آ رہی ہے۔

دوسری طرف عمران خان ہیں جو اپنی سیاسی نابلوغت، متلون مزاجی اور یوٹرنز کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں

اور مقتدر قوتیں انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال تو کرنا چاہتی ہیں لیکن ان پر داؤ کھیلنے پر آمادہ نہیں

لیکن وہ بہرحال نواز لیگ کے مقابلے میں ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ البتہ ایم ایم اے کی بحالی کے بعد خان صاحب خیبرپختونخوا میں مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں،

نیز بین الاقوامی سطح پر بھی وہ اپنی متلون مزاجی کی وجہ سے تاثر بنانے میں ناکام رہے ہیں، ایک طرف طالبان کے سرپرست کہلانے والے مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو کروڑوں کی امداد سے نوازنا،

پھر چینی اور ترک صدر کی آمد کے موقع پر دھرنا اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ انھیں مغربی اور علاقائی طاقتوں کے لیے ناپسندیدہ بناتی ہے۔

خان صاحب نے حال ہی میں پانچ بچوں کی والدہ کی روحانیت سے متاثر ہو کر انھیں طلاق دلوا کر تیسری شادی رچائی ہے

اور ان کے خیال میں شادی وزارت عظمیٰ میں موجود روکاوٹوں کا توڑ ثابت ہوگی،

جبکہ حال ہی میں ن لیگ کے کچھ ارکان اسمبلی کا تحریک انصاف میں شامل ہونا اور

سینٹ الیکشن میں خان صاحب کا وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اپنے ووٹوں کا اختیار دینا بھی عندیہ دیتا ہے کہ

اسٹیبلشمنٹ بہرحال انھیں بالکل گرنے دینا نہیں چاہتی اور ن لیگ کے مقابلے میں ابھی انھیں کھڑا رکھنا اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے۔ بہرحال اگر الیکشن منصفانہ اور وقت پر ہوتے ہیں تو

خان صاحب کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ن لیگ اور ایم ایم اے کی صورت سخت چیلنج درپیش ہے اور میرے لحاظ سے تمام جمع تفریق کے بعد بھی تحریک انصاف پہلے سے زیادہ سیٹیں جیتتی نظر نہیں آتی۔

پیپلز پارٹی پرانی سیکولر حکمران جماعت ہے اور ایک صوبے میں اسے مکمل اکثریت حاصل ہے۔

پیپلز پارٹی کے عملی طور پر سربراہ آصف علی زرداری نے سینٹ الیکشن میں اپنے جثے سے بڑھ کر حصہ حاصل کرکے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے

اور یہ ثابت کیا ہے کہ نواز شریف کے تجربے کاتوڑ صرف ان کی سیاسی چالوں سے ہی ممکن ہے،

یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کا سینٹ چیئرمین نہ بننے دینے کے لیے انھیں بلوچستان کے آزاد سینیٹرز سمیت بالواسطہ تحریک انصاف کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے۔

کم از کم سندھ کی حد تک کراچی میں ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد پیپلز پارٹی پہلے سے زیادہ سیٹیں جیتے گی،

جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے ناراض ارکان بھی پیپلز پارٹی کی جھولی میں ہی گریں گے جنہوں نے پہلے ہی سینٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو جتوا کر اپنے مستقبل کے عزائم کا پتہ دے دیا ہے۔

زرداری صاحب تیزی سے اسٹیبلشمنٹ کے مرکزی مہرے بنتے جا رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی سیاسی اثرات رکھنے کی وجہ سے

لگتا یونہی ہے کہ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کے زیادہ تر مہرے اگلے الیکشن می پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

جبکہ جنوبی پنجاب، اوکاڑہ، کھاریاں وغیرہ میں بھی پیپلز پارٹی چند سیٹیں نکالنے کی پوزیشن میں ہے۔

میری نظر میں اگلے الیکشن میں ن لیگ کے بعد ایک دفعہ پھر پیپلز پارٹی ہی پارلیمنٹ میں دوسری پوزیشن پر ہوگی۔

ایک طرف اب ایم ایم اے کی صورت میں مذہبی جماعتیں اکھٹی ہو کر کم از کم دو چھوٹے صوبوں میں اپنے اثرات رکھتی ہیں

اور کافی حد تک اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ اپنے مفادات کو مقدم رکھتی ہیں۔

پچھلے الیکشن میں بھی اگر مذہبی ووٹ بنک اکھٹا ہوتا تو سونامی کے تمام تر زور کے باوجود ایم ایم اے ہی خیبرپختونخوا میں سب سے بڑی جماعت ہوتی۔

ایم ایم اے کی دو سب سے بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہان

سراج الحق اور مولانا فضل الرحمٰن کےلیے پہلا بڑا امتحان سینٹ چیئرمین کا الیکشن ہے، اگر ن لیگ کی طرف پلڑا زیادہ جھکتا ہے تو

آئندہ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں موجود دیگر مذہبی جماعتوں کے ذریعے ہر حالت میں ایم ایم اے کا رستہ روکا جائے گا اور اگر اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملایا جاتا ہے تو عزت سادات کو خطرہ ہے۔

بہرحال مذکورہ بالا دونوں سیاسی رہنما ایک منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑی ہیں اور حالات کو اپنے جماعتی مفاد کے مطابق استعمال کرنا جانتے ہیں۔

آئندہ الیکشن میں ایم ایم اے خیبر پختونخواہ کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی نیز بلوچستان میں بھی اس اتحاد کی مناسب کارکردگی رہے گی،

جبکہ کراچی اور پنجاب میں دیگر سیاسی جماعتوں سے ایڈجسٹمنٹ کی صورت اس اتحاد کے ہاتھوں مزید نشستیں لگ سکتی ہیں۔

2018ء الیکشن کے بعد اگر یہ اتحاد مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھ سکا تو اسے آئندہ سیٹ اپ میں کافی زیادہ اہمیت حاصل رہے گی۔

مزید چھوٹے کھلاڑیوں میں ایم کیو ایم شامل ہے جو کسی دور میں الطاف حسین کی قیادت میں سندھ کے شہری علاقوں کی ناقابل تسخیر قوت کہلاتی تھی

لیکن الطاف حسین کی فاشسٹ قیادت کے خاتمے کے بعد اب کم از کم چار حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے،

مقتدر قوتیں ماضی میں فاشزم کی بنیاد پر اکھٹے ان گروہوں کو باوجود کوشش کےاکھٹا کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتیں

اور دن بدن ان گروپس کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جا رہی ہے،

دریں حالات آئندہ الیکشن میں مہاجر ووٹ کی تقسیم کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ تقسیم نظر آتا ہے

اور سندھ کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی ہی اسکا سب سے زیادہ فائدہ اٹھائے گی۔

ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کی صورت میں بریلوی اور اہلحدیث ووٹ بنک کو ن لیگ سے جدا کرکے

اسے پنجاب میں شدید جھٹکا لگانا مقصود تھا، نیز ایم ایم اے کا توڑ بھی سمیع الحق گروپ کو ان کے ساتھ جوڑ کر کیا جانا تھا،

لیکن پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشنز نے ثابت کیا ہے کہ یہ سوچ بیک فائر کر گئی

اور الٹا ان جماعتوں نے ن مخالف ووٹ بنک کو مزید تقسیم کرکے ن لیگ کا ہی رستہ ہموار کیا ہے،

نیز بین الاقوامی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے بھی اب اسٹیبلشمنٹ ان جماعتوں کی جارحانہ پشت پناہی سے پیچھے ہٹتی محسوس ہو رہی ہے،

انھی وجوہات کی بنیاد پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی جیسی جماعتیں بھی ان سے فاصلہ بنائے رکھنے پر مجبور ہیں۔

لگتا یونہی ہے کہ بریلوی اور اہلحدیث عصبیت کی بناء پر یہ جماعتیں اگلے الیکشن میں

ووٹ ضرور لیں گی لیکن بغیر کسی بڑی سیاسی جماعت سے ایڈجسٹمنٹ کے یہ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ق لیگ جو کبھی اسٹیبلشمنٹ کی کنگز پارٹی تھی اب چند الیکٹیبلز کی صورت ہی اپنی بقاء قائم رکھنے کی سر توڑ کوشش کرے گی،

پیپلز پارٹی، تحریک انصاف یا ایم ایم اے سے اس کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ اسے بھی چند سیٹیں جتوا سکتی ہے۔

مندرجہ بالا تجزیہ آئندہ آنے والے الیکشن کے ممکنہ رزلٹس کا ایک اجمالی جائزہ تھا،

بہرحال ماضی کی روشنی میں پاکستان کے سیاسی حالات پر حتمی طور پر کچھ بھی کہنا قطعاً قبل از وقت ہے۔ لہذا ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ “گیم آن ہے”.


  • 173
    Shares