لکھاری لکھاری » میرے مطابق » پنجاب پولیس میں کیا تبدیلی آئی ہے ؟ پہلے کی اور آج کی پنجاب پولیس میں کیا فرق ہے؟ بلاگر و صحافی ملک ریاست کا آنکھوں دیکھا حال

ad




ad




اشتہار




میرے مطابق

پنجاب پولیس میں کیا تبدیلی آئی ہے ؟ پہلے کی اور آج کی پنجاب پولیس میں کیا فرق ہے؟ بلاگر و صحافی ملک ریاست کا آنکھوں دیکھا حال

  • 172
    Shares

تقریبا چھ سال قبل میں نے پاکستان کی بدنام زمانہ جیلوں میں ایک آڈیالہ جیل کا وزٹ کیا تھا۔دوران وزٹ قیدیوں کی حالت زار اور عملے کی قیدیوں سے بدسلوکی مجھے آج تک یاد ہے۔

اس کے بعد انھی دنوں میں ہی جھنڈا چیچی تھانے کا بھی وزٹ کیا تھا۔ قیدیوں کو کھلے عام کان پکڑوا کی کٹائی جاری تھی۔ہر ایک سوٹی کے بعد ایک گرج دار آواز آتی۔”سچ تے پوری گل دس اتھے ہور کی ہویا سی” ۔جبکہ وہ سخت سردی میں انتہائی بے بسی کی تصویر نظر آئے۔چونکہ وزٹ پر تھا۔اس لئیے کسی کو کچھ کہا نہیں۔

اور ویسے بھی اگر کچھ کہتا تو انھوں نے کونسی میری سن لینی تھی۔انتہائی غمگین دل کے ساتھ جب وہاں سے نکلا تو یہ دعا کی کہ یا اللہ کسی کافر کو بھی ان کافروں کے حوالے نہ کرنا۔پھر کہتا ہوں شائد انکی بھی کوئی مجبوری ہوتی ہو گی۔مگر جو کچھ بھی ہے۔انسانوں سے جانوروں والا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے بعد دوبارہ کبھی موقع نہیں ملا کہ کسی تھانے یا جیل کا وزٹ کر سکوں۔۔مگر گزشتہ دو روز سے راولپنڈی کے نیو ٹاؤن تھانے میں ایک ضروری کام کی غرض سے جانا ہو رہا تھا۔

گزشتہ کل جونہی تھانے میں انٹر ہوا تو ایک شیشوں والا کمرہ نظر آیا جس میں ٹائلز، اے سی اور واٹر ڈسپنسر سمیت اعلی قسم کی کرسیاں لگی تھیں۔اور وہاں ایک خوش شکل و خوش لباس شخص بھی بیٹھا نظر آیا۔جس نے مجھے دیکھتے ہی سلام عرض کیا۔مجھے اپنی انکھوں اور کانوں دونوں پر یقین ہی نہیں آیا کہ میں کسی تھانے میں موجود ہوں۔

اور ساتھ دل ہی دل میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کسی غلط جگہ پر تو نہیں آ گیا۔بعدازاں آج میرے ساتھ موجود میرے دوست نے وہاں بیٹھے شخص سے پوچھا کہ کیا پولیس میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔تو وہ کہنے لگا کہ آپ نے آج تک کسی پولیس والے کو ٹائی میں دیکھا ہے۔

یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے۔پھر ہم جس مقصد کے لئیے گئے تھے وہ کام بھی ہو گیا۔کسی نے کوئی رشوت نہیں مانگی۔اور نہ ہی ہمیں وہاں اس قسم کا کوئی تائثر ملا۔مزید معلومات لیں تو پتہ چلا کہ صوبہ بھر کے بیشتر تھانوں میں رپورٹس اور ایف ائی ار کا سارا نظام کمپیوٹر رائز ہو گیا ہے۔

جسے ہر شام آئی جی آفس میں آج جی پنجاب خود منیٹر بھی کرتا ہے۔واللہ یہ سب دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔میں نہیں کہتا کہ پنجاب پولیس بدل گئی ہے ۔مگر کچھ تبدیلی ادھر بھی نظر آئی ہے۔یا شائد میں نے دیکھی آج ہے۔۔بحرحال اسے سراعانا لازمی سمجھا۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔

اس کے علاوہ چند دن قبل کریمنل انوسٹیگیٹو صحافیوں سے بات چیت ہو رہی تھی۔تو انھوں نے بتایا کہ یہ بات عوام کو بتائی جائے بلکہ اسکا پابند بنایا جائے کہ اگر ان سے کسی قسم کا کوئی مس ایپ ہوتا ہے

تو وہ وہاں قریب تھانے میں درخواست ضرور دائر کریں۔یقین کر لیں کہ پولیس والے آپ سے کچھ نہیں کہیں گے۔یہ جرائم کے کنٹرول کے لئیے بہت لازمی ہے۔اس لئیے آپ کا ساتھ ضرور چاہیے۔۔


  • 172
    Shares