لکھاری لکھاری » پاکستان » نواز شریف کا بیانیہ کیوں مقبول ہورہا ہے ؟وہ وجوہات جس نے تحریک انصاف کی قیادت کو چکرا کررکھ دیا۔آپ بھی جان کر حیران رہ جائیں گے

ad

پاکستان تجزیہ

نواز شریف کا بیانیہ کیوں مقبول ہورہا ہے ؟وہ وجوہات جس نے تحریک انصاف کی قیادت کو چکرا کررکھ دیا۔آپ بھی جان کر حیران رہ جائیں گے

  • 818
    Shares

جذباتی اور جانب دار لوگوں کی بات دوسری ہے، لودھراں کے ضمنی انتخابات کے بعد آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ نواز شریف کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جسے بھی غیر جمہوری طریقے سے باہر اٹھاکر پھینکا گیا عوام نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ اب نواز شریف محض ایک سیاسی رہنما کا نام نہیں بلکہ پاکستان کی ایک بڑی اکثریت کا رومانس بھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جو مقبولیت اور چاہت نواز شریف کے حصے میں آئی ہے، شاید کوئی اور سیاسی لیڈر خواب میں بھی اس کا تصور نہ کرسکتا ہو۔لودھراں کا الیکشن موجودہ اسمبلیوں کا آخری انتخاب تھا۔

سیاست دانوں کا احتساب صرف عوام کرسکتے ہیں۔ اُلٹے سیدھے سوالات اور دلائل سے اب لوگوں کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی جمہوریت میں سیاسی معاملات میں عدالتیں غیر جانب دار ہوتی ہیں۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج اور دیگر قومی ادارے ووٹ کے تقدس کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب لوگ بار بار دیکھتے ہیں کہ وہ ایک شخص کو مینڈیٹ یا اسمبلی میں بھیجتے ہیں، بار بار اُسے غیر جمہوری طریقے سے سازشوں کے ذریعے باہر کردیا جاتا ہے۔ یوں لوگوں میں اداروں کے خلاف غصہ بڑھتا ہے، وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے ووٹ کا احترام ہی نہیں کیا جاتا۔ اُن کے ووٹ کا تقدس ہر بار پامال کیا جاتا ہے۔

پاناما کیس میں کیا صرف نواز شریف کا نام تھا اور بھی نام تھے، کسی کے خلاف نہ تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی ریفرنس فائل ہوئے۔ صرف ایک شخص کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وہ بھی اس لیے کچھ پس پردہ قوتیں اُسے جھکانا چاہتی ہیں۔ شاید وہ لوگ نہیں جانتے کہ غلام گردشوں میں پنپنے والی سازشیں قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ اب تو عام لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ دو سال پہلے مخدوم جاوید ہاشمی نے جو کہانی طشت ازبام کی تھی، اب اُس کے خدوخال واضح ہورہے ہیں۔

نواز شریف چالیس سال کے سیاسی تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تمام ادارے اگر اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو ملک ترقی کرے گا۔ اگر کچھ طبقات اپنی انا کی تسکین کے لیے وزیراعظم کے منصب کو بے توقیر کریں گے تو ملک کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ وہ بہت سے ملک جو ہمارے ساتھ یا ہمارے بعد آزاد ہوئے، آج وہ کہاں اور ہم کہاں ہیں۔ ہم نے نصف سیاسی زندگی آمریتوں اور سازشوں کی نذر کردی، وہ ممالک جمہوری راستوں پر آگے بڑھتے رہے۔

لودھراں کے حالیہ ضمنی الیکشن میں لوگوں نے دیکھا، ایک طرف دولت سے مالا مال انتخابی مہم تھی اور دوسری طرف شہباز شریف کی پنجاب میں بے مثال ترقی اور نواز شریف کا بیانیہ تھا، لوگوں نے محسوس کیا کہ نواز شریف کی سوچ ان کے دل کے قریب ہے، انہوں نے اپنے ووٹوں سے دولت کی طاقت کو شکست دے دی، تمام تر عدالتی فیصلوں کے باوجود نواز شریف میدان میں رہے اور عدالتوں میں بھی حاضر ہوتے رہے، ان کا بھرپور طریقے سے میدان میں موجود رہنا اور اپنے موقف سے لوگوں میں ہمدردی پیدا کرنا انہیں مسلسل کامیاب و کامران کررہا ہے۔ یہی سیاسی پریشانی مخالف سیاست دانوں کو لاحق ہوچکی ہے کہ نواز شریف کو اب کیسے روکا جائے۔ نواز شریف جیل جاتے ہیں تو جیل سے ہی لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کریں گے۔ گرائونڈ پر رہتے ہیں تو مخالفین کو چاروں شانے چت کردیں گے۔ ایک ایسا شخص جسے عدالت کے ذریعے نااہل کروایا گیا ہو۔ جس کے خلاف کئی مہینوں پر طویل میڈیا ٹرائل ہوا ہو، اس کا سیاسی میدان میں کامیاب ہونا اب ہضم نہیں ہورہا۔ لودھراں انتخابات کے نتائج نواز شریف کے مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ لوگ کرپشن کرپشن کے راگ الاپنے والوں کے بجائے ووٹ کے تقدس کے بیانیے کو اہمیت دے رہے ہیں۔

لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کون لوگ چور دروازے سے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ کون ہیں جو اسٹیبلشمنٹ سے اندرون خانہ راہ و رسم رکھتے ہیں۔ دھرنوں اور مظاہروں کے اسیر بیلٹ کی طاقت پر یقین نہیں رکھتے۔ لوگ اداروں سے یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ دو مرتبہ آئین توڑنے والا شخص علاج کے بہانے ملک سے باہر جاسکتا ہے، پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے اور دوسری طرف نواز شریف نے اقامہ فیصلے پر عمل کیا، عدالتوں میں حاضر ہوا،

وہ اپنی بیمار بیوی جو کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں، ان کی تیمارداری کے لیے شوہر اور بیٹی نہیں جاسکتے اور اس شخص کو ملک سے بھاگنے کی کیا ضرورت ہے جس کی پشت پر کروڑوں لوگ کھڑے ہوں، جو ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے، جس نے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں، جس کی مقبولیت کی لہر عروج پر ہو۔ نواز شریف اور اس کی بیٹی کبھی بھی عدالتوں سے غیر حاضر نہیں رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب کو اس قدر پختہ یقین کیوں ہے کہ نواز شریف کو سزا ملے گی۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی کوئی درخواست عدالت میں ڈالتے ہیں، مسترد کردی جاتی ہے۔ وہ حلقے جو نواز شریف کو جیل میں رکھ کر قابو کرنا چاہتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ مستقبل اور خود ریاستی اداروں پر اس کے کس قدر ہولناک نتائج مرتب ہوں گے، انہیں نوشتۂ دیوار پڑھنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ایسا نہ ہو تلافی کا وقت گزر جائے۔ ملک میں انارکی بڑھتے بڑھتے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلے۔ نواز شریف تو بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کشتیاں جلاکر ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے گھر سے نکلے ہیں۔ نواز شریف کے پاس کھونے کو اب کچھ نہیں، انہیں جتنا دبایا جائے گا وہ اسی قوت سے ابھریں گے۔

اب تو عالمی ذرائع ابلاغ میں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی رپورٹس چھپ رہی ہیں۔ سیاسی لیڈر کا مقابلہ سیاسی میدان میں کیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کو چالیس سال ہوچکے ہیں، وہ اپنی قبر سے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کررہے ہیں۔ لوگ آج بھی ووٹ ان کے نام پر دیتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے عوام کا جو رومانس تھا اسے کوئی ڈکٹیٹر یا عدالت ختم نہیں کرسکی۔

ہم گزشتہ کئی مہینوں سے کہتے اور سنتے آرہے ہیں تمام قوتیں آئینی حدود میں رہیں، پنڈورا باکس نہ کھولیں، اس میں سب کا نقصان ہوگا، شاید ریاستی اداروں کا زیادہ۔ اس ملک کے حال پر رحم کرو۔ نواز شریف نے محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت کر کے ماضی کی اپنی غلطیوں کا ناصرف اعتراف کیا بلکہ بہت ساری اچھی جمہوری روایات قائم کیں۔ اچھی بھلی حکومت چل رہی تھی۔ ترقیاتی منصوبوں کا ایک طوفان برپا تھا۔ بڑی بڑی سرمایہ کاری ملک میں آرہی تھی، لیکن یک جنبش قلم سب کچھ تلپٹ کردیا گیا۔2018 کے انتخابات کو چند ماہ باقی ہیں۔ جمہوریت اور سویلین بالادستی کا فیصلہ ہوجائے گا۔ تمام اداروں کو صبر سے کام لینا چاہیے۔

اب کردار کشی اور تہمت کی سیاست بند ہونی چاہیے۔ عمران خان کے کرپشن کے نعرے میں کوئی جان ہوتی تو علی ترین بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔ عمران خان کا نعرہ اب اپنی مقبولیت کھو رہا ہے۔ لوگ ایک ہی بات سن کر عاجز آچکے ہیں۔ نواز شریف نے پشاور میں جلسہ کرکے ثابت کردیا کہ وہ آج بھی چاروں صوبوں کے مقبول لیڈر ہیں۔ پیپلز پارٹی سکڑتے سکڑتے سندھ تک محدود ہوگئی ہے، جس پارٹی کو ڈکٹیٹر ختم نہ کرسکے اسے سندھ میں ہونے والی بے لگام کرپشن نے ختم کردیا۔ ایک اور بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نواز شریف کی سیاسی میدان میں کامیابیوں کی پشت پر ترقیاتی کاموں کا جال ہے۔

جب وہ کہتے ہیں کہ میں نے 2013 کے انتخابات سے پہلے جو دعوے کیے تھے، وہ ایک ایک کرکے سب پورے کردیے ہیں، تمام اداروں سے ہماری درخواست ہے کہ نواز شریف کے باب میں ہر قسم کی ہم جوئی سے باز رہیں۔ سیاسی اور جمہوری نظام کو چلنے دیں۔ وہ لوگ جنہیں نواز شریف اور مریم نواز کا چہرہ پسند نہیں ہے، وہ اپنی سوچ کو بدلیں، اپنی فکر میں مثبت طرز لائیں۔ یہ عوام کا حق ہے کہ وہ کسے چاہیں یا نہ چاہیں۔ آج نواز شریف کی سیاست سے زیادہ ملکی سلامتی کا ہے پھر ایسا شخص کہاں ملے گا جو ساری دنیا کی مخالفت مول لے کر ایٹمی دھماکے کردیتا ہے اور اب اسے اقتصادی ترقی کی سزا نہ دی جائے، ایسا نہ ہو کہ رونے کو وقت بھی نہ ملے۔

سینئرصحافی اکرم کمبوہ کا یہ کالم جہان پاکستان میں شائع ہوا ہے


  • 818
    Shares