لکھاری لکھاری » کالم » عصر حاضر میں نوجوانوں اور مساجد کا رشتہ

ad




ad




اشتہار




کالم لکھاری

عصر حاضر میں نوجوانوں اور مساجد کا رشتہ

  • 233
    Shares

دین اسلام کے مطابق سات سال کی عمر میں بچے کو نماز سکھانے کا واضح حکم ہے. دس سال کی عمر میں نہ پڑھنے کی صورت میں سختی کی بھی تاکید کی گئی ہے. دینی احکام پر عمل کے تعلق سے ہمارا دین بہت سہل ہے. ہمارے بزرگوں کی کوششوں سے سنت اور فقہی احکامات کے باعث ہر زمانے اور ہر طرح کے حالات میں دین پر عمل کرنا آسان بنا دیا گیا ہے. اس کے باوجود دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ معاشرے کے عام عدم برداشت کے ماحول کے باعث دیگر مشکلات کی طرح دین پر عمل بھی مشکل بنایا جا رہا ہے.

ایک مسجد میں نمازِ عصر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جماعت ختم ہونے کے بعد غالباََ امام صاحب کے درس کا وقت ہوا تھا۔ امام صاحب نے کچھ دیر تسبیح میں مشغول رہنے کے بعد پچھلی صفوں میں موجود چند نوجوانوں کی طرف بڑی حقارت آمیز نظروں سے دیکھا اور انتہائی نفرت آمیز لہجے میں کہا “استغراللّٰہ، کیا زمانہ آ گیا ہے۔ مسجد آنے کی تمیز تک نہیں نوجوانوں کو۔ کپڑے پہننے کی تمیز نہیں اور نماز پڑھنے آگئے ہیں ۔۔۔۔۔” غرض اسی طرح کے چند سخت جملے کہے۔ یقینا وہاں موجود ہر نوجوان جو ٹی شرٹ میں ملبوس تھا اور ننگے سر تھا وہ شرمندہ ہوگیا۔ ساتھ ہی نہ صرف امام صاحب بلکہ اُنکے پیچھے موجود کچھ مُرید ٹائپ لوگوں نے بھی انتہائی تیز نظروں سے نوجوانوں کو گھورنا شروع کردیا اور تاسف سے سر ہلانے لگ گئے۔ اُن نوجوانوں نے بھی جلدی جلدی نماز ختم کرنے میں ہی عافیت جانی۔

مسجد سے باہر نکلتے ہوئے میری نظر ایک بورڈ پہ بھی پڑی جس پہ انہائی سخت قسم کے فتوے تحریر تھے. یعنی کوئی فرد پہلی مرتبہ مسجد آبھی جائے تو محض حلیہ کی وجہ سے وہ واپس لوٹ جائے
کچھ اسی طرح کا تھانیدارانہ تفتیشی انداز ہمارے پڑوس کی مسجد میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک بزرگ نماز سے. کافی دیر قبل پہلی صف میں آ کے بیٹھتے ہیں. اُس کے بعد اُن کا کام یہ ہوتا ہے کہ مسجد کے گیٹ سے داخل ہونے والے ہر نوجوان کو اپنی نظروں کی “اسکریننگ “سے گزاریں۔ مسجد کا احترام نظر انداز کرتے ہوئے کئی مرتبہ اُنہوں نے بلند آواز سے نوجوانوں کو ٹوپی نہ پہننے پہ ڈانٹا۔ ایک روز تو حد ہوگئی کہ ایک چھوٹا بچہ جو کہ بہت شوق سے صف میں بیٹھا تھا. موصوف پہلی صف سے نکل کے پیچھے آۓ اور اس معصوم کو ٹوپی نہ پہننے پر اتنی زور سے ڈانٹا کہ وہ بری طرح سہم گیا. جلدی سے اٹھ کر ٹوپی پہن کے واپس آ گیا. مجھے پورا یقین ہے کہ اس واقعہ کے بعد اُسکے دل میں خوف مکمل گھر کرچکا ہوگا۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد دینی طبقہ پہ تنقید کرنا ہرگزنہیں. مگر بعض اوقات بےجا سختی اور رویہ کے اندر لچک کا نہ ہونا فائدے کے بجاۓ نقصان دیتا ہے۔
میری معلومات کے مطابق حضرت حسن رض اور حضرت حسین رض بھی نماز کے دوران حضور محمد ﷺ کی پیٹھ پہ چڑھ کے اٹھکیلیاں کرتے تھے. مگر کبھی بھی آنحضور ﷺ نے اُنہیں ڈانٹا نہیں۔ اس دور میں اگر نوجوان نسل سے یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ وہ راہِ راست پر نہیں. تو اس کے لیے معاشرے کا ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے. ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر تبدیلی لانا ہوگی. اس تبدیلی کی نصیحت اگر منبر سے کی جائے گی اور وہیں سے برداشت اور تحمل کا درس دیا جائے گا تو وہ یقیناََ اثرانگیز بھی ہوگا. نوجوان نسل کو دین سے قربت بھی محسوس کرے گی۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے۔
اپنے رب کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔(سورۃ نحل ۔آیت نمبر 125)

اس وقت اہم مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں اور بچوں کو مسجد تک کیسے لایا جائے۔باقی تربیت بعد کا عمل ہے جو کہ یقینا مناسب اور اچھی نصیحت سے مکمل کیا جاسکتا ہے۔ منبر سے ہونے والے وعظ نے مسلمانوں کی تاریخ میں ہمیشہ نوجوانوں کو تبدیل کیا ہے.مولانا طارق جمیل کا خوبصورت انداز بیاں اور نوجوانوں میں اسکی مقبولیت ایک واضح دلیل ہے۔

دور حاضر کی بڑھتی ہوئی بے راہ روی میں مسلمانوں کی نوجوان نسل کے اندر بیداری کی لہر پیدا کر کے اُنہیں دوبارہ مسجد کی طرف جوڑنا ایک مشکل امر ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔مناسب انداز بیاں سے یہ کام باآسانی کیا جاسکتا ہے پھر وہ دن بھی آئے گا کہ اس معاشرے میں دوبارہ امام ابو حنیفہ،شیخ سعدی ،فضیل ابن عیاض جیسے کردار جنم لیں گے جن کے اعمال کی برکتوں سے یہ معاشرہ مستفید ہوگا۔


  • 233
    Shares