نوازشریف کی نااہلی سے کس کا کتنا نقصان اور فائدہ ہوا ؟

ad



ad

بلاگ لکھاری

نوازشریف کی نااہلی سے کس کا کتنا نقصان اور فائدہ ہوا ؟

  • 1
    Share

بھئی اگر آپ آنکھیں بند کرکے راۓ دینے کے شوقین ہیں تو راۓ دیتے جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا،لیکن یہی راۓ اگر آپ پنجاب کی Demographics اور ان لوگوں کی سوچ دیکھ کردیں گے تو آپکو پتا چلے گا کہ اگلے الیکشن میں بھی نون لیگ ہی جیتے گی۔۔۔۔۔۔

آپ لوگ نوازشریف کی نااہلی پہ خوش ہیں خوش ہونا بنتا بھی ہے مگر یاد رکھیں کہ نوازشریف نے الیکشن صرف ایک حلقے کی سیٹ کی خاطر لڑا تھا پورے پاکستان کے لیۓ نہیں سو اسکی نااہلی ایک حلقے کو ہی ایفیکٹ کرے گی،

اور اسکے علاوہ باقی حصوں پر جہاں جہاں بھی ن ليگی ایم این اےز اور ایم پی اےز ہیں انہوں نے اپنے حلقوں میں تین سال مسلسل فنڈز کھانے کے بعد پچھلے سال سے ترقیاتی کام کروانے شروع کئے ہیں جن میں روڈز کی بہتری،لوڈشیڈنگ میں کمی سکولز کی حالت کی بہتری سمیت بے شمار ایسے کام ہیں جو فقط بدصورت دلہن کے چہرے پہ موجود میک اپ کا کام کریں گے مگر پنجابیوں کی مجارٹی ہے ہی بھولی بھالی وہ دیکھتی ہی ظاہری ٹپ ٹاپ کو ہے کیونکہ اگر سارا سسٹم ٹھیک ہوگیا تو پھر ہر پنجابی کو قانون کی پاسداری کرنا پڑے گی،رشوت کے بغیر کام کروانے ہونگے،ہر بچے کو میرٹ پہ ایڈمیشن ملے گا،محنت کرنی پڑے گی اور یہ سب ہمارے پنجابی بھائی بڑی مشکل سے کریں گے سو وہ اسی سسٹم کا ساتھ دیں گے
جو اوپر سے تو بظاہر خوبصورت سڑکوں،ہسپتالوں سکولز وغیرہ کا عکس دے رہا ہو گا مگر اندر سے وہی رشوت سسٹم اور سفارش کلچر ہوگا

چونکہ پچھلے ایک سال میں نون لیگ نے سڑکیں،ہسپتال،تعلیمی اداروں کی ٹپ ٹاپ بنادی ہے اور لوڈ شیڈنگ کم کردی ہے اور اسکے علاوہ نوازشریف کو جان بوجھ کر کرپشن کیسز سے بچانے کے لیۓ فقط اقامے کی بنیاد پر نااہل کرکے اسکی پارٹی کو ہمدردی کا پوائنٹ دے دیا ہے سو اسکے پہلے سے زیادہ ووٹ لینے کا امکان ہے

اب آیۓ پی ٹی آئی کی طرف تو جناب پی ٹی آئی کی سوچ گو بہت ہی پاک صاف اور ترقی پسند ہے مگر آپ ایک عام پنجابی سے لیکر پڑھے لکھے سے پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ انکی سوچ تو اچھی ہے مگر انکی ٹیم اسی سسٹم کے کچرے پر مبنی ہے اسکے علاوہ خیبر پی کے میں خان کی پارٹی نے کوئی منفرد Unique منصوبہ نہیں شروع کروایا جو عام لوگوں کی توجہ حاصل کرسکے اسکے مقابلے میں بلین ٹری اور ڈیمز والے متنازعہ منصوبے جنکی تعداد کنفرم نا ہوسکے وہ شروع کروا دئیے جو کہ کسی کو بھی یقین نہیں دلا رہے،گو پی ٹی آئی نے صوبے میں بہت سے ریفامز کئے ہیں لیکن ان ریفارمز کا علم صرف مقامی لوگوں کو ہی ہو گا لہذا اس پر ووٹ مقامی لوگ ہی دیں گے،

اسکے علاوہ آپ پی ٹی آئی کی مقامی قیادتوں کو دیکھں لیں چاہیے آپ پنجاب کے کسی بھی ضلعے میں چلے جائیں ان میں گروپس بنے ہوں گے کیونکہ یہ لوگ مختلف پارٹیوں سے آۓ ہیں اس لیۓ ان کی سوچ بھی مختلف ہے اور اسی لیے یہ آپس میں اتفاق سے نہیں رہ سکتے، سو یہ بھی پی ٹی آئی کا مائنس پوائنٹ بن جاتا ہے۔

آخر الکلام نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ظاہری طور پر نظر آنے والی کارکردگی کی بنا پر اگلا الیکشن جیتا جاۓ گا چونکہ ن ليگ کی ظاہری کارکردگی ہے اور اسکے علاوہ ان کو نااہلی کی وجہ سے سیاسی مظلوم کا بھی درجہ مل چکا ہے سو ن لیگ اس سب کو کیش کروا سکتی ہے
اور خان صاحب اس بار بھی پنجاب میں نظر آتے ہوۓ دکھائی نہیں دے رہے

(نوٹ:- یہ میری ذاتی آبزرویشن پر مبنی تحریر ہے گو کہ تحقیق انتہائی قریبی ہے لیکن پھر بھی اگر اگر اگر ایمپائر اور بیوروکریسی نے ن لیگ کو ہٹانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر وہ کبھی بھی جیت نہیں سکتے مگر چونکہ آسمان پر موجود بادل بارش کی ہی خبر دیتے ہیں سو میں نے آپکو خبر دے دی،بافی میری بھی یہی خواہش ہے کہ اس سسٹم کو بدلنے والے آئیں ناکہ اس سسٹم کو میک اپ کرنے والے لیکن آپکو پتا ہوگا کہ ذاتی خواہشیں کبھی پوری نہیں ہوتیں سو لیٹس ویٹ


  • 1
    Share