مبشر زیدی کا خدا کوئی اور ہے اور ہمارا خدا کوئی اور

  • 50
    Shares

زعم سیکولری میں مبتلا عصر حاضر کے نام ور دانشور اور 100 لفظوں کی کہانی سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے مبشر علی زیدی صاحب نے ایک دن خدا سے برات کا اعلان کیا اور اگلے روز خدا کو بینچ پر بٹھایا،مسجد ،مندر،چرچ گھمایا اور پھر شراب خانے پر پہنچا دیا ،آخر میں ان کے خدا نے ان کے گلاس میں شراب بھی ڈال دی۔وہ لوگ جو امیر دعوت اسلامی جناب الیاس قادری صاحب کی سنت سے محبت کو ڈھونگ کہتے نہیں تھکتے ،ان کی چھوٹی سی چھوٹی بات پر بھی آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں ،مدنی تکیہ ہو کھیرے کاٹنے کا سنت طریقہ ہر ایک عمل پر سخت تنقیدکرتے اور تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں ،الیاس قادری ہوں یا مولانا طارق جمیل صاحب اگر ان میں سے کوئی بھی دین سے محبت پیدا کرنے کیلئے کوئی واقعہ بیان کردے تو اسے ان کی زہنی اختراع بتلایا جاتا ہے ۔

ان سے توقع یہ تھی مبشر علی ذیدی صاحب کی بھی گرفت فرمائیں گے مگر افسوس کہ ہمیں جملہ بالا لوگوں کی واہ واہ ہی دیکھنے کو ملی،بڑے بڑوں نے اسے ادبی شہ پارہ قرار دیا۔بلکہ ارشاد ہوا کہ “ممتاز مفتی نے خدا کو سیڑھیوں پر بٹھایا تھا زیدی صاحب نے بینچ پر بٹھادیا ” مزید بتایا گیا کہ صوفیاء نے خدا کو جہاں جہاں لٹایا اوربٹھایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ بلکہ فتویٰ ملا کہ ہم نے روایت پسند لٹریچر اور مبنی بر تصوف ادب لٹریچر سے بھی خود کو بے نیاز رکھا ہوا ہے۔ ابن عربی اور اسماعیل الحروی جیسے آئمہ کو سن کر طبعیت بحال کی جائے۔

اہم بات یہ ہے کہ ہمارے لئے ممتاز مفتی کا کہا حجت نہیں ہے ،ہمارے لئے ابن عربی کا کہا حجت نہیں ہے ۔کسی کے غلط عمل کی دلیل دوسرے کے غلط عمل سے نہیں دی جاسکتی ۔اللہ سے محبت کے کچھ تقاضے ہیں ۔اللہ سے محبت کے اظہار کے بھی کچھ ضابطے ہیں ۔محمد مصطفیٰ ﷺ سے بڑھ کر اللہ سے کوئی محبت نہیں رکھتا اور اللہ محمد ﷺ سے بڑھ کر کسی سے محبت نہیں کرتا۔ایسی محبت جس کی نظیر نہیں ملتی ۔مگر اللہ نے جس انداز میں قرآن پاک میں محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان بیان فرمائی ہے وہ ہمارے سامنے ہے ۔اور اللہ کے نبی محمد مصطفیٰﷺ نے جس انداز میں اللہ کا زکر کیا ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہے ۔ ہمارے لئے اللہ کا کہا حجت ہے ہمارے لئے محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہر لفظ و عمل حجت ہے ۔ہمارے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا اجماع حجت ہے ۔

باقی عرض یہ ہے کہ ایسے ادبی شاہکار ہمیں اس کتاب میں کیوں نہیں ملتے جس کا نام قرآن پاک ہے ، جس کے متعلق اللہ جن و انس کو مخاطب کر کے فرماتا ہے “اس جیسی کتاب لاکر دکھادو”۔یعنی روئے زمین پر قرآن پاک جیسی کوئی کتاب نہیں ہے ،یہ سب کتابوں میں اعلیٰ ہے ،یہ اللہ کا کلام ہے ،قرون اولیٰ کا دور ہو،خلفائے راشدین ہوں ،حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ہوں یا اس زمانے کے مشاہیر ہوں ۔انہوں نے خدا کو کون سے بینچ پر یا سیڑھیوں پر بٹھایا۔ممتاز مفتی ہو یا مبشر زیدی ہو۔غلط کو غلط کہنا چاہیے،ادب کے نام پر سراسر بے ادبی کو علمی شاہکار کہنا صریح بدیانتی ہے ،میں مصنف مذکور سے کہتا ہوں کہ اللہ سب سے بڑا ہے ،اللہ کے آخری رسول محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں ۔تصور کیجئے اگر خدا کی جگہ آپ نے محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام لکھا ہوتا(نعوزباللہ)۔جب ہم یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ایسا اللہ کے بندے اور رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کے متعلق لکھا جائے تو کیسے خدا کے متعلق ایسا عامیانہ کلام لکھ کر اس پر ڈھٹائی سے دلائل بھی دئے جارہے ہیں ؟؟

رہی بات صوفیاء کی تو کسی صوفی نے مولوی کو جلانے واسطے ،مولوی کا مزاق اڑانے واسطے ایسا عمل نہیں کیا،بلکہ کچھ تھے جس عشق میں بڑھ گئے تھے ،اور انہوں نے اگر کچھ کہا تو خدا کی محبت میں کہا ،یہاں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ مبشر علی زیدی کا مقصد صرف اور صرف مولوی مسجد مندر اور گرجے یعنی مذہبی پہنچان رکھنے والے مراکز اور مولوی،پنڈت اور پادری کا تمسخر بنانا ہے ۔ان کا مزاق اڑانا ہے ۔لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے خدا سے بھی نعوزباللہ تمسخر کیا ہے ۔خدا تو وہ ہے جس کی ایک تجلی کوہ طور پر برداشت نہ کرسکا۔جو قرآن حکیم کے متعلق فرماتا ہے کہ”اسے پہاڑوں پر نازل کرتے تو ریزہ ریزہ ہوجاتے “۔آپ کی بدبختی کہ اس خدا کو جس کی ایک تجلی اور کتاب کا یہ عالم ہے اسے آپ بینچ پر بٹھاتے ہی نہیں شراب خانے بھی لے جاتے ہیں اور شراب بھی ڈلواتے ہیں اور اس پر ظلم یہ کہ اسے ادبی شہہ پارہ قرار دیتے ہیں ۔یہ سراسر بے ادبی ہے ۔ایسی ہے بے ادبی ابلیس میں بھی پائی جاتی تھی ۔ابلیس سے بڑا عالم اس وقت کوئی نہ تھا۔فرشتوں کا سردار تھا۔مگر صرف اللہ کے بندے اور نبی آدم علیہ السلام کی بے ادبی نے ابلیس کو کہاں سے کہاں پہنچادیا۔

مانا کہ محبت ہوتی ہے ۔عشق ہوتا ہے ،جب یہ محبت حدوں کو چھو جائے تو کہنے والا یہ تک کہتا ہے کہ اللہ میرے سامنے ہوتا تو اس کے بالوں کی کنگھی کرتا۔مگر کہنے والے یہ کسی کو غلط ثابت کرنے والے کیلئے نہیں کہا۔کہنے والے نے کسی پر طنز کرنے کی غایت سے نہیں کہا ۔کہنے والے نے کسی کا تمسخراڑانے کیلئے نہیں کہا۔اس کے دل سے صدا نکلی۔اس کی نیت صاف تھی ۔صدق دل سے محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس کے الفاظ نکلے ۔مگر یہاں اگر دیکھیں تو مقصود صرف ایک ہی نظر آیا ہے کہ مولوی غلط ہے ،پادری غلط ہے ،پنڈت غلط ہے ،مسجد میں خدا کی جگہ نہیں ۔چرچ میں خدا کو رہنے نہٰیں دیا جاتا۔مندر میں خدا کا ٹھکانہ نہیں ۔اور تو اور خدا کو مے خانے میں لے جایا جارہا ہے اور خدا شرب بھی ڈال کردے رہا ہے ۔اسے کیسے آپ ادبی پارہ گردانت سکتے ہیں ؟؟؟ایسے ادبی شاہکار ہمیں قرون اولیٰ کے دور میں کیوں نہیں نظر آتے ؟؟ایسے فن پارے ہمیں اوائل اسلام کے بڑے بڑے ادیبوں کے ہاں کیوں نہیں ملتے ؟؟؟؟یہ اندازبیاں نیا ہے جناب جس کا ادب سے دوردور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ خدا ہمارے دلوں میں رہتا ہے ہماری شہہ رگ سے ذیادہ قریب ہے ۔جس سے ہم سب سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں ۔مگر جس انداز میں زیدی صاحب نے خدا کو پیش کیا ہے وہ شاید ان کا اپنا ہی کوئی خدا ہے ۔اور شاید زیدی صاحب کے نزدیک “خدا” کی اتنی ہی اوقات ہے ۔

ہمارا خدا تو کُن کہتا ہے اور ہوجاتا ہے ۔ویسے بھی سورہ کافرون میں کہہ دیا گیا ہے کہ تمہیں تمہارا دین مبارک ہمیں ہمارا دین مبارک ۔اس لئے زیدی صاحب آپ کو آپ کا خدا مبارک ہمیں ہمارا خدا مبارک ۔یہاں فرق ہی خدا کا ہے کہ آپ کے “خدا” کو کہیں جگہ نہیں ملتے اور کرائے کے پیسے بھی آ پ دیتے ہیں اور ہمارا خدا تو بے نیاز ہے وہ صرف دینا جانتا ہے ۔آج تک اس خدا نے ہمیں دیا ہی ہے ۔لیا کچھ بھی نہیں ۔


  • 50
    Shares

تنویراعوان

تنویر اعوان نے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے ،صحافت کے میدان میں کچھ نیا کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ،لکھاری ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر ہیں ،تنویر اعوان کا خیال ہے کہ اپنے لئے سب ہی جیتے ہیں لیکن زندگی کا مزہ تو جب ہے دوسروں کیلئے جیا جائے دوسروں کیلئے کچھ کیا جائے اسی خیال کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اکساتے ہیں

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *