الیکشن 2018 میں کونسی پارٹی جیتے گی ؟ مسلم لیگ ن کیلئے بڑی خبر ، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

ad



ad

بلاگ لکھاری

الیکشن 2018 میں کونسی پارٹی جیتے گی ؟ مسلم لیگ ن کیلئے بڑی خبر ، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

  • 578
    Shares

کچھ روز قبل ہی عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کے خلاف نااہلی کا فیصلہ پاناما کے بجائے اقامے پر دیکر ایک کمزور فیصلہ کیا ہے ۔اور بلاشبہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عمران خان میں عقل ہے مگر یہ عقل ہمیشہ ان کو لیٹ ہی آتی ہے کام کے وقتوں میں یہ عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے اسی وجہ سے وہ پہلے الیکشن جیتنے پر میاں نواز شریف صاحب کو مبارک باد دیتے ہیں اور بعد میں خیال آتا ہے کہ ہمارے ساتھ تو دھاندلی ہوگئی ہے اور دھاندلی دھاندلی کر کے دھرنا دیتے ہیں اور ضمنی الیکشن میں پہلے سے بڑے مارجن سے ہار جاتے ہیں ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا ہے ۔

Tanveer awan

تنویر اعوان

میاں محمد نواز شریف نے حالیہ عرصے میں ہر محاز پر کامیابی سے کھیلا ہے ۔حتیٰ کے ان کی طرف آتا ہر باؤنسر انہوں نے اس زوردار انداز سے کھیلا ہے کہ بال ہی گراؤنڈ سے باہر جاگری ہے ۔عوام میں نواز شریف کی مقبولیت کہیں ذیادہ بڑھ چکی ہے اور اس مقبولیت کا یقنی فائدہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو آئندہ الیکشن میں ہوگا ۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف کو نااہل کرا کر اور پارٹی صدارت سے ہٹا کر نواز شریف کو عوام کے دلوں سے نکالا جاسکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہی کہی جاسکتی ہے ۔حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔بلکہ حقیقت یہی ہے کہ میاں نواز شریف قوم کی آواز بن چکے ہیں اور عوام کے دلوں میں صرف نواز شریف کا ہی نام گونجتا ہے ۔نواز شریف بقول مریم اورنگزیب ایک نشہ بن چکا ہے ۔نواز شریف ایک نظریہ بن چکا ہے ۔نواز شریف ایک سوچ کا نام ہے ۔نواز شریف ایک پیغام ہے جو کہتا ہے کہ ووٹ کے تقدس کو پامال نہ کرو۔ووٹ کی عزت کرو۔عوام کے ووٹ کی حرمت کو پامال نہیں کرنے دوں گا۔ہمیں عوام نے ووٹ دیکر منتخب کیا ہے تو عوام ہی فیصلہ کرے کہ ہم اہل ہیں یا نااہل ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  : بس بہت ہوگیا اب اور نہیں ،مسلم لیگ ن کا تاحیات قائد بننے کے بعد نواز شریف نے انتہائی خطرناک اعلان کردیا ،کارکنوں اور عوام سےبھی ساتھ دینے کی اپیل کردی

 

نواز شریف عوام کی عدالت کی بات کرتے ہیں وہ عام آدمی کے اختیار کی بات کرتے ہیں ۔وہ فیصلے کا حق مانگتے ہیں ۔وہ فیصلے کا اختیار مانگتے ہیں ۔وہ حق حکمرانی مانگتے ہیں ۔وہ یس سر کے قائل نہیں ۔وہ سر اٹھا کر جینے کے قائل ہیں ۔نواز شریف نے ماضی سے سبق سیکھا ہے ۔اب وہ سیاست کے بے تاج بادشاہ ہیں ۔نواز شریف کے مقابلے پر اس وقت کوئی لیڈر نہیں ہے ۔نواز شریف کے مقابلے پر کوئی رہنما نہیں ہے ۔نواز شریف نے عوام کی نبض کو پکڑ لیا ہے نواز شریف وہی بولتا ہے جو عوام سننا چاہتی ہے عوامی آواز کا کا دوسرا نام میاں محمد نواز شریف ہے ۔نواز شریف ایک فلسفہ بن چکا ہے ۔ایسا فلسفہ جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ہے ۔اگر ہم ماضی کی بات کریں تو کل ہی کی بات ہے ۔کہ نواز شریف کو نااہل کیا گیا جب آمر پرویز مشرف نے انہیں اقتدار سے الگ کیا مگر نواز شریف واپس آیا اور حکومت بھی حاصل کی ۔

گوکہ میاں نوازشریف کی نااہلی سے قبل تمام معاملات درست سمت میں جارہے تھے ۔عمران خان کا بیانیہ مقبول ہورہا تھا ۔عمران خان کی جانب سے نواز شریف صاحب پر لگائے جانے والے الزامات سنگین تھے ۔عمران خان کامیاب دھرنا بھی دے چکے تھے ۔مگر پانامہ کیس نے سب الٹ پلٹ دیا۔پانامہ کیس میں جس بنیاد پر فیصلہ دیا گیا اسے خود قانونی ماہرین سمجھ سے باہر قرار دے چکے ہیں ۔

میاں نوازشریف پر کیس تھا پانامہ کا مگر جب فیصلہ آیا تو اقامہ نکل آیا۔معززجج صاحبان ایسا فیصلہ دیا جو کہ سالوں یاد رکھا جائے گا۔اس فیصلے کے خلاف نوازشریف سڑکوں پر نکل آئے ۔وہ عوام سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ “مجھے کیوں نکالا”۔جس کا جواب بھی میاں صاحب خود ہی دیتے ہیں کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔یہ بیانیہ عوام میں مقبول ہورہا ہے ۔اسی بیانیے کی کامیابی کی جھلک چکوال کے ضمنی الیکشن میں نظر آئی ،اسی بیانیے کو لودھراں کی عوام نے ایک لاکھ سے زائد ووٹ دیکر کامیاب قراردیا۔

پاکستان کے معروضی حالات کو دیکھا جائے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو اگلی باری پھر مسلم لیگ ن کی حکومت یقینی ہے ۔اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں ۔نواز شریف نے سی پیک ،ہزارہ موٹر وے،اورینج لائن،میٹروبس سروس،ملک بھروں میں سڑکوں کا جال،لوڈشیڈنگ کا دورانیہ جو 18 گھنٹے تک تھا اسے ذیادہ سے ذیادہ ساڑھے 3 گھنٹے تک کردیا ہے ۔اب ملک میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ ساڑھے 3 گھنٹے سے ذیادہ نہیں ہوتی۔دیگر ترقیاتی منصوبے اس کے علاوہ ہیں جو نوازشریف کے دور میں مکمل ہوئے ۔باقی جوہوانے والے تھے اس سے قبل ہی نوازشریف کو ہٹادیا گیا۔

کاکردگی کے لحاظ سے مسلم لیگ ن کی حکومت پی پی پی کی گزشتہ حکومت سے ہزار درجے بہتر ہے اور اس وقت نوازشریف پر کسی نے یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ نوازشریف نے بطور وزیر اعظم کرپشن کی ہو۔یا ان کی گورننس ٹھیک نہیں ہے ۔بلکہ سارا زور ہی اسی بات پر ہے کہ نواز شریف نے 70 اور 80 کی دہائی میں کرپشن کی ہے۔یہ الزام اب تک ثابت نہیں کیا جاسکا ہے ۔مگر کسی الزام کے ثابت نہ ہونے کے باوجود نوازشریف کی نااہلی نے عوام کے دلوں میں ان کی محبت بڑھادی ہے ۔کراچی کے عوام قیام امن کا کریڈٹ نوازشریف کو دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کراچی کی چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی اور سب کو حیران کردیا۔

نوازشریف اور مریم نوازشریف نے اس وقت جو جارحانہ حکمت عملی اپنارکھی ہے ۔اس کی عوام میں مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ ہر جلسہ پہلے والے جلسے سے بڑا ہوتا ہے،شاہے ہری پور ہزارہ ہو یا پھر ایبٹ آباد ، گوجرانوالہ ہو یا فیصل آباد ، چکوال ہو یا شیخوپورہ ہر طرف عوام کا سمندر مسلم لیگ ن کے جلسوں میں امنڈآتا ہے جو کہ میاں نوازشریف کے بیانیے کی کامیابی ہے اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہی صورتحال رہی اور کوئی ایڈونچر نہ ہوا تو مسلم لیگ ن کو 2018 میں حکومت بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے ۔

مسلم لیگ ن کو کامیابی کیلئے بنیاد پانامہ کیس کے فیصلے نے دی ہے ۔عمران خان نے نوازشریف کو نااہل نہیں کرایا بلکہ مسلم لیگ ن کو آئندہ پھر سے حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔اب نوازشریف عمران خان کی ہربال پر چھکا ماررہے ہیں اور بقول سعد رفیق کہ وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے نواز شریف سے رائیونڈ میں بیٹھا نوازشریف ذیادہ خطرناک ہے ۔سعد رفیق کی بات سے انکار اس لئے ممکن نہیں کہ جیسے جیسے دن گزرر ہے ہیں حالات نوازشریف کے حق میں ہموار ہوتے چلے جارہے ہیں اور عمران صرف انتظار ہی کرسکتے ہیں کہ کب ن لیگ ٹوٹے اور کب ن لیگ کے رہنما تحریک انصاف میں شامل ہوں اور کب وہ وزیر اعظم بنیں ۔

اہم بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے اریب قریب بھی کوئی دوسری سیاسی جماعت نہیں ہے ۔پیپلزپارٹی سندھ تک محدود ہوچکی ہے اور تحریک انصاف کی خود کے پی کے میں پوزیشن خراب ہے ایم ایم اے کی بحالی کے بعد غالب امکان یہی ہے کہ پختونخواہ میں تحریک انصاف کو ناکامی کا سامنے کرناپڑے اور گزشتہ انتخابات میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کو پڑنے والے ووٹ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پختونخواہ کے عوام میں یہ دونوں جماعتیں اتنی رسائی رکھتی ہیں کہ اگر مل کر الیکنش لڑیں تو حکومت بناسکتی ہیں۔میاں محمد نواز شریف حکومت بنائیں گے اور وزیر اعظم بھی انہی کا ہوگا۔


  • 578
    Shares