لکھاری لکھاری » میرے مطابق » جماعت اسلامی کا مسئلہ کیا ہے؟

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

جماعت اسلامی کا مسئلہ کیا ہے؟

  • 43
    Shares

زرداری صاحب نے جب اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تو پیپلزپارٹی نے موقف اپنایا کہ یہ ان کی زاتی رائے ہے پیپلزپارٹی کی پالیسی نہیں۔یاد رہے زرداری صاحب اس وقت پارٹی کے شریک چیئرمین تھے۔

اے این پی مردان کے صدر نے اعلانیہ مشال کے قتل کی ناصرف حمایت کی بلکہ واقعے میں ملوث ملزمان کے ساتھ مکمل تعاون بھی کیا۔جبکہ اے این پی نے واضح کیا کہ یہ مردان کے صدر کی زاتی رائے ہے عوامی نیشنل پارٹی کا موقف نہیں۔

تحریک انصاف میں تو ایسے بیانات دینے والوں کی طویل قطار ہے جنہیں بعد میں پارٹی نے مسترد کردیا کہ یہ ان کی زاتی رائے ہے پارٹی پالیسی وہی ہے جو عمران خان کا اسٹیٹ. منٹ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ خان صاحب کے بیانات بھی بدلتے رہتے ہیں۔مگر پارٹی پالیسی پر فرق نہیں پڑتا۔مشال کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم پی ٹی آئی کا مقامی کونسلر ہے جو اب تک مفرور ہے۔عارف نے واقعے کے بعد غالباً ابتدائی ویڈیو میں قتل کا اعلانیہ اعتراف کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے اکثر رہنماؤں کے بیانات کو خود ن لیگ یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے کہ یہ پارٹی پالیسی نہیں ان کی زاتی رائے ہے۔

مگر یہ جان کر آپ حیران ہوں گے کہ جملہ بالا نکات پر آج تک کسی نے انگلی نہیں اٹھائی کوئی کہرام نہیں مچا۔کسی نے کالم نہیں لکھے۔کسی نے بلاگ نہیں لکھے۔کسی نے کسی بھی پارٹی کی طبعی عمر کے پورا ہونے کی پیشن گوئی نہیں کی۔کسی نے پوری پارٹی کو برا نہیں کہا۔کسی نے پارٹی تاریخ کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا۔

لیکن جماعت اسلامی مردان کا مقامی امیر سوشل میڈیا پر ایک بیان دیتا ہے۔جس میں اصل لفظ غازی متنازعہ ہے۔جو کہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔دوسرا ان کی وضاحتی ویڈیو بھی آگئی ہے کہ مشال کے قتل کے الزام میں گرفتار افراد رہائی کے بعد اسٹیج سے ایسی گفتگو کریں گے انہیں توقع نہ تھی۔انہوں نے ایسے ہی استقبال کیا جیسے دیگر سیاسی جماعتوں نے کیا۔باوجود اس کے کہ یہ سب امیر مردان نے زاتی حیثیت میں کیا۔جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ ان کی پالیسی یہ نہیں ہے۔امیرالعظیم جو جماعت پاکستان کے انفایشن سیکریٹری ہیں انہوں نے مردان کے امیر کے بیان کو یکسر مسترد کیا اور واضح کیا کہ سراج الحق سینیٹ اجلاس میں مشال کے قتل کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرچکے ہیں۔اور جماعت مشال کے قتل کی ہمیشہ سے مذمت کرتی آئی ہے۔یہی جماعت کی آفیشل پالیسی ہے کہ وہ مشال کے قتل کو بالکل غلط سمجھتی ہے۔

اب آپ منافقت کی انتہا دیکھئے کہ اس مقامی امیر کے بیان کو جماعت اسلامی کی پالیسی بناکر پیش کیا جارہا ہے۔جماعت اسلامی کی تاریخ پر ہی لعن طعن کیا جارہاہے۔کالم لکھے جارہے ہیں۔بلاگ لکھے جارہے ہیں۔طبعی عمر پوری ہونے کی پیشن گوئی کی جارہی ہے۔اول تو یہ مردان کے مقامی امیر کی زاتی رائے تھی۔مگر اس کو پارٹی پالیسی بنا کر پیش کرنا لوگوں کا بغض ظاہر کرتا ہے۔دوسرا اس زاتی رائے پر بھی مردان جماعت اسلامی کے امیر نے وہیں اسٹیج سے اپنا ویڈیق بیان جاری کیا اور اس بیان کے حوالے سے وضاحت بھی پیش کردی۔جس کے بعد ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان کی وضاحت تسلیم کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلینا چاہیے تھی۔

مگر آپ دیکھیں تو ایسا نظر نہیں آتا۔بلکہ گل وچوں ہور ہے کہ مصداق جماعت اسلامی کو اس مقدمے میں مرکزی ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ناکام سعی کی جارہی ہے۔کوئی بھی پی ٹی آئی کے کونسلر اور اس مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم اور اے این اپی کے عہدیداران کا نام نہیں لے رہا۔کوئی بھی زاتی رائے کو تسلیم نہیں کررہا۔کوئی بھی وضاحتی بیان نہیں مان رہا۔کوئی بھی جماعت اسلامی کے آفیشل بیان کو تسلیم نہیں کررہا ہے۔

پس ثابت یہ ہوتا ہے کہ دال کہیں نہ کہیں سے کالی نہیں بلکہ پوری کالی ہے اور ان لوگوں کا مسئلہ جماعت اسلامی مردان کے امیر کا زاتی بیان نہیں بلکہ جماعت اسلامی ہے اور آج سے نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ گزشتہ 70 دہائیوں سے چلاآرہا ہے۔ماضی میں جن نظریات کی قبریں جماعت اسلامی نے کھودی ہیں ان کی باقیات آج بھی جماعت اسلامی پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔اور جن دین بیزاروں کا راستہ جمعیت نے روکا وہ آج تک اس درد کو محسوس کررہے ہیں جس کا اظہار آپ کو نظر بھی آرہا ہے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ جماعت اسلامی والو حاجی ثناء اللہ بن کر کسی کونے کھانچے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی غلطی تسلیم کر کے مجرموں کی طرح کھڑے ہونے کا دور گیا۔آپ خود ہی ملزم بن کر خود ہی اپنا جرم ثابت کرکے مجرم بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔یقین کریں اس سے کوئی بھی آپ کی عظمت کا قائل نہیں ہوگا۔اس محاذپر کھل کر سامنے آئیں اور ڈٹ جائیں۔یہاں لوگ شراب کو شہد بنادیتے ہیں۔غلطی کر کے بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ ڈٹ کر دفاع کرتے ہیں۔آپ نے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے۔پھر یہ چھپنا چھپانا کیسا۔


  • 43
    Shares

About the author

تنویراعوان

تنویر اعوان نے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے ،صحافت کے میدان میں کچھ نیا کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ،لکھاری ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر ہیں ،تنویر اعوان کا خیال ہے کہ اپنے لئے سب ہی جیتے ہیں لیکن زندگی کا مزہ تو جب ہے دوسروں کیلئے جیا جائے دوسروں کیلئے کچھ کیا جائے اسی خیال کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اکساتے ہیں

Add Comment

Click here to post a comment