مشال خان کیس ، جماعت اسلامی اور انصاف پسند لبرل!

ad



ad

لکھاری میرے مطابق

مشال خان کیس ، جماعت اسلامی اور انصاف پسند لبرل!

  • 29
    Shares

پاکستان میں مولوی اور لبرل کا مجموعی تاثر بہت عجیب و غریب ہیں.مولوی کو لوگ شدت پسند اور لبرل کو تعصب پسند گردانتے ہیں. مولوی سے کافی عرصے پہلے شناسائی ہوئی اور لبرل سے چند سال قبل.

مولوی جن اصولوں کو مانتا ہے. اس پر کھڑا ہوتا ہے. خیر تمام کے تمام ایک جیسے نہیں ہوتے. یہ رائے بھی ناقص ہے کہ تمام مذہبی شدت پسند ہوتے ہیں. اعتدال کے بہترین نام بھی بے شمار ہیں.

لیکن لائن کے دوسرے طرف لوگوں نے بالکل مایوس نہیں کیا. انہوں نے ہمیشہ ہی تعصب پسندی کا مظاہرہ کیا ہے. مثلاً کل مشال خان کیس کا فیصلہ تھا. جو ملزم تھے. انکو سزا سنائی گئی اور جو بے قصور تھے انکو رہا کیا گیا. تمام جماعتوں کے لوگوں نے استقبال کیا اور جماعت اسلامی بھی شامل تھی چونکہ عدالت نے بے قصور قرار دیا.

ہاں جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا پوسٹر میں الفاظ کے چناؤ میں ضرور غلطی ہوئی ہے. اسکی وضاحت امیر ضلع مردان مولانا عطاء اللہ کی وضاحتی ویڈیو موجود ہے.

ویڈیو کا لنک :

https://m.facebook.com/story.php…

لیکن اس غلطی کا سرزد ہونا تھا. لبرل اور سیکولر لٹ لے کر جماعت اسلامی کی جانب لپکے. آپ کسی کی بھی دیوار جھانک کر دیکھیں. شدت پسندی اور جاہلیت کے فتوی شلوار کی طرح لٹکائے ملیں گے.

حالانکہ ایک سیکولر جماعت کے ذمہ دار اس کیس کے اصل مجرم ہیں لیکن چونکہ لبرل تعصب پسند ہوتا ہے لہذا اس نزدیک ANP کا یہ جرم قابل معافی ہے.

( ثبوت تصاویر میں ہیں اور لنک آخر میں)

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے. شارخ قتل کیس میں دیت پر طنز و مزاح خوب کیا گیا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے قتل کی وکالت اور حمایت کو صرف نظر کیا گیا ہے. کیوں؟ کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک سیکولر نظریے کی حامل جماعت ہے.

جماعت اسلامی کا آفیشل موقف پہلے بھی آگیا تھا. اب بھی وہی ہے. کہ یہ کام عدالت کا ہے وہ فیصلہ کرے کون گستاخ ہے اور کون ہے.

لنک :
جی آئی ٹی روپوٹ میں اے این پی کے اسٹوڈنٹ ونگ کے عہدے داران کو ذمہ داران ٹھہرا

عوامی نیشنل پارٹی کی خاموشی


  • 29
    Shares