وہ بھینسا اور جماعت اسلامی کا امیر

ad



ad

لکھاری میرے مطابق

وہ بھینسا اور جماعت اسلامی کا امیر

  • 96
    Shares

کل رات ہی شیخ چلی کو فون گھمایا اور جماعت اسلامی مردان کے امیر پر سخت تنقید کرڈالی ،شیخ سنتا رہا اور جب میں چپ ہوا تو شیخ نے کہا جان کی امان پاؤں تو کچھ سوالات کے جواب چاہوں گا، مابدولت بھی سخی واقع ہوئے ہیں اس لئے فوراً اجازت دے ڈالی۔ تو کمبخت شیخ چلی نے پہلا سوال کیا کہ بھینسسسا موچی اور روشنی نامی پیجز سے توہین رسالت ہوئی اور مقدس ہستیوں کی شان میں انتہائی گند ی زبان استعمال کی گئی ،اور اس حوالے سے سلمان نامی پروفیسر ،وقاص گورائیہ سمیت کچھ بالکل واضح بلاگرز کو اٹھالیا گیا،جن میں سے کچھ کو چھوڑ دیا گیا اور کچھ کو بعد ازاں عدالت نے بے قصور قراردیا،

اس دوران “ہم سب”نے یہ واویلہ کیا کہ بھائی کی جان ابھی تو صرف الزامات لگے ہیں ،ثابت تو ہونے دو،الزام لگانے سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، بعدازاں جب یہ رہا ہوئے تو خوشی کے شادیانے بجائے گئے ،دعوتیں اڑائی گئیں،حالانکہ یہ سب توہین رسالت کے الزام میں اٹھائے گئے تھے مگر استقبال ہوا اور پھر اسلام پسندوں کے لتے لئے گئے ،بعدازاں انہی لوگوں نے موچی پیج چلانے کا اعتراف کیا مگر بیرون ملک میں سیاسی پناہ لینے کے بعد۔

اب صورتحال یہ تھی کہ مشال کے قتل کے الزام میں بے قصور لوگ گرفتار تھے ان بے قصوروں کو ایک عرصہ رگڑا دیا گیا،ان بے قصوروں کو اس لئے گرفتار کیا گیا کہ یہ بے قصور ایک ایسے شخص کے قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں جس پر گستاخی رسول کا الزام تھا،اب اس صورت ان کو پاکستان کے زمینی حقائق کے لحاظ سے غازی کہنا الفاظ کا غلط چناؤ تو ہوسکتا ہے مگر ان کا استقبال کیونکر غلط ہوسکتا ہے ؟؟

بھینسے موچی کا استقبال کرنے والے کس منہ سے ان بے قصوروں کے استقبال پر اعتراض کررہے ہیں ؟؟؟ اگر سلمان اور وقاص گورائیہ توہین رسالت جیسے سنگین الزام میں باہر نکلیں تو ان کا استقبال درست ہے ، مگر یہ لوگ بیگناہ اور ایک ایسے شخص کو جس پر توہین رسالت کا الزام تھا اس کے قتل کے الزام میں بے قصور نکلیں اور رہاہونے پر ان کااستقبال کیونکر غلط ہوسکتا ہے ؟؟؟
کہاں ہے تحریک انصاف کا کونسلر اور کہاں ہے اے این پی مردان کا صدر جو اعلانیہ مشال کے قتل کو اون کرتے رہے ہیں ۔استقبال بھی سب نے ہی کیا۔

مگر تمہیں ملا تو مردان جماعت اسلامی کا امیر ہی ملا ۔ تف ہے تم پر تنویر اعوان
ہے میرے سوالوں کا جواب
شیخ کے سوال سن کر
میں نے فون بند کردیا کہ میرے پاس جواب نہیں تھا


  • 96
    Shares