لکھاری لکھاری » کالم » امراض قلب میں تشویشناک اضافے کو کیسے روکاجاسکتا ہے

ad

کالم لکھاری

امراض قلب میں تشویشناک اضافے کو کیسے روکاجاسکتا ہے


پاکستان میں امراض قلب کے مریضوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سالانہ ایک لاکھ افراد ہارٹ اٹیک کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ہمارا ملک جنوبی ایشیاء میں امراض قلب میں مبتلا مریضوں کی کی اموات کے لحاظ سے سرفہرست ہے دل کے دورہ کا شکار ہونے والے افراد کی عمروں کا تناسب 40 سے 60 سال کے درمیان ہے۔ دل کا دور پڑنے پر صرف تیس فیصد افراد ہسپتالوں تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ سترفیصد موقع پر یا ہسپتال منتقل کرنے کے دوران راستے میں ہی دم توڑجاتے ہیں۔ حکومتی سطح پر امراض قلب کے علاج کے لیے ناکافی سہولیات جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں مریضوں کو مہنگے علاج قلب کے ذریعے دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہاہے صورت حال خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ۔

ضلعی اور تحصیل سطح پر سرکاری طورپر قائم ہسپتالوں میں امراض قلب کے وارڈز بنانے اور ماہر امراض قلب ڈاکٹرز تعینات کرنے اور عوام میں اس مرض سے بچاؤ کے لیے ضروری تربیت ، آگاہی ، شعور بیدار کرنے کے لیے ہنگامی مہم وقت کا تقاضا ہے ۔ 2012 میں حکومت پنجاب کی طرف سے راولپنڈی شہر میں امراض قلب کے مریضوں کے علاج کے لیے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام ایک اچھی کوشش ہے ۔RICایک مکمل بہترین کمپیوٹرائزڈ ہسپتال ہے جہاں پر حکومت پنجاب کے امراض قلب میں مبتلا ء ہونے والے ملازمین کا علاج مفت کیا جاتاہے جبکہ ایمرجنسی میںآنے والے عام مریضوں اور زکوۃ کے مستحق افراد کو بھی علاج معالجہ کی سہولیات فری دی جاتی ہیں ۔

اس ادارے کی بہترین کارکردگی کا سہرا اسکے سربراہ میجر جنرل (ر)اظہر محمود کیانی کے سر ہے۔ جن کا شمار ملک بھر کے بہترین معالجین قلب میں ہوتاہے ۔ آج کل ادویات کے ناپید ہونے اور مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کی عدم دلچسپی کی شکایات بھی عام ہوتی جارہی ہیں۔تاہم مریضوں کا زیادہ بوجھ ادار ے کی کاکردگی کو متاثر کرنے کا باعث بنتا ہے ۔ لیکن ادارے کی خوبیاں بہر حال خامیوں پر غالب ہیں حکومت پنجاب کو اس ادارے پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظرپنجاب کے ہر ڈویژن سطح پر ایسے بڑے ہسپتالوں کا قیام ناگزیر ہے ۔ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اپنے قیام سے لے کر اب تک پانچ سال کے عرصے میں گیارہ لاکھ مریضوں کا معائنہ کیا گیا ، چار ہزار سے زائد ہارٹ سرجریز پچیس ہزار ، چار سو چونتیس مریضوں کی انجیو گرافی ، دو ہزار ایک سو پچاس کی فلورو سکوپیز اور چار ہزار مریضوں کا علاج نیو کلیئر کارڈیالوجی سے کیا گیا ہے ۔

جبکہ لاکھوں کی تعداد میں دیگر لیبارٹریز ٹیسٹ بھی کیئے گئے ۔ گزشتہ پانچ سالوں میں سے ہر ایک سال کے اعدادو شمار کا جائزہ لیا جائے تو راولپنڈی انسٹیٹیو ٹ آف کارڈیالوجی میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہاہے اور دوسرے صوبوں خصوصا کے پی کے ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر میں امراض قلب کے علاج کے اچھے ادارے نہ ہونے کی وجہ سے کے مریضوں کا انحصار بھی اسی ادارہ پر ہے ۔ ہمارے دوست صحافی جوہر مجید اس ادارے کے مسائل ، کارکردگی پر اپنی رپورٹس میں گاہے بگاہے نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ اور اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعے حکام بالا اور مریضوں کو آگاہی فراہم کرتے رہتے ہیں۔ معاشرتی ناہمواریاں ، غربت ، پریشانیاں اور ناقص غذائیں دل کی بیماری کی اہم وجوہات می شامل ہیں ۔ جبکہ سینے میں جلن ، تھکن کا احساس ، سانس لینے میں دقت ، متلی جیسی کیفیت ، چھاتی اور بازو میں درد پیدا ہونا دل کی بیماری کی علامات میں شامل ہیں ۔

دل کے مرض کے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر ان علامات پر توجہ نہیں دی جاتی اور علاج میں تاخیر زندگی سے محرومی کا باعث بن جاتی ہے۔ دل کے دورہ سے بچنے کے لیے ان علامات کی صورت کی فورا ماہر معالج سے رابطہ کرنے ضرورت ہوتی ہے تاکہ بلڈ پریشر ، کولیسٹرول لیول ، شوگر میں سے اگر کوئی بھی چیز حد سے تجاوز کرگی ہے تو اسے نیچے لانے کی کوشش کی جائے ۔بلڈپریشر ، شوگر ، کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے کے لیے ورزش کرنا ، سبزیوں ، پھلوں پرمشتمل صحت بخش غذاؤں کا استعمال اور چکنائی ، سگریٹ نوشی سے پرہیز نہایت ضروری ہے ۔ کھانے میں چربی والے گوشت ، گھی ، گردے ، کلیجی ، سری پائے، مکھن ، پنیر ، انڈے کی زردی ، بالائی ، تلی ہوئی اشیاء مثلا پراٹھے، سموسے ، حلوہ پوری سے پرہیز کریں چائے اور کافی کا استعمال کم کریں ، روزانہ پیدل چلنے کو اپنا معمول بنائیں کیونکہ زندگی بار بار نہیں ملتی اس کی قدر کیجئے ۔ نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومتوں نے اس جان لیوہ مرض سے بچاؤ کے لیے کبھی آگاہی مہم پر توجہ نہیں دی اور دیگر منصوبوں اور اپنی ذاتی تشہیر کے لیے اشتہارات پر اربوں روپے خرچ کیئے جاتے ہیں ۔