زینب کیلئے ہم کیا کرسکتے ہیں

ad



ad

کالم لکھاری

زینب کیلئے ہم کیا کرسکتے ہیں


کل شام ایک بچی کی تصویر نظر سے گزری ، شہزادی گڑیا کا نام زینب تھا .

زینب اب اس دنیا میں موجود نہیں ہے ، اس کا لاشہ تو قبر تلے دفن ہے پر اسکی روح اس دنیا میں نہیں ہے ، ویسے تو روح اور جسم کا تعلق موت کے وارد ہوتے ہی منقطع ہوجاتا ہے ، پر اس معصوم گڑیا کی روح تو تب ہی دنیا سے پرواز کر گئی ہوگی جب ایک مرد کو شیطان میں تبدیل ہوتے دیکھا ہوگا ..
پر اب میں کیا لکھوں ؟

مرد کی معاشرہ پر اجارہ داری کو لیکر پرانا منجن بیچوں ؟
زینب کے قاتل کی گرفتاری کی بات کر کے حجت پوری کروں ؟
یا پھر کوئی این جی او بنا لوں اور پاکستان میں ہونے والے بچیوں کے ریپ کو لیکر دنیا جہاں کے ٹور کروں اور اپنی جیب بھروں ؟
یا پھر وہ حل بتاؤں جو بطور ایک باپ ، بھائی ، بیٹا میں جائز سمجھتا ہوں ؟
چلیں میں اگر زینب کو اپنی بیٹی سمجھوں تو پتا ہے میں کیا چاہوں گا ؟؟

بیچ چوک پر پتھر مار مار کر سنگسار کر دو اس وحشی درندے کو !!
ارے منہ کیوں بنا رہے ہو ؟ اسلامی سزا کے نام پر آپکے ماتھے پر شکنیں کیوں پڑ جاتی ہیں ؟ کیا آپکو یہ غیر انسانی سزا لگتی ہے ؟
تو جناب جو حرکت زینب یا اس جیسی معصوم بچوں/ بچیوں کیساتھ ہوتی آئی ہے وہ ” انسانی” ہے ؟
چلیں ذرا ایک نظر ذرا روشن خیالوں کے قبلہ امریکہ کی جانب ڈالتے ہیں

ڈیڑھ سال قبل امریکی ریاست مغربی ورجینیا میں اسی طرح کا ایک واقعہ رونما ہوا جہاں 9 ماہ کی بچی کو اسکی ماں کے بوائے فرینڈ نے زیادتی کا نشانہ بنا کر مار ڈالا ، جی ہاں بلکل ٹھیک پڑھا آپ نے بچی کی عمر محض 9 ماہ تھی !

لہذا جو افراد اس وحشی عمل کو محض ” پاکستانی معاشرہ ” کا بگاڑ سمجھتے ہیں وہ خدارا اپنی ذہنی غلامی کو کچھ دیر پرے رکھتے ہوئے حقائق جاننے کی کوشش کریں ، اکثر لوگوں کو لکھتے دیکھا ہے کہ مغربی ممالک میں اگر برہنہ عورت بھی بس میں کھڑی ہو تو ساتھ بیٹھے مردوں کو فرق نہیں پڑتا ہے ، یعنی ان لوگوں نے لکھا اور ذہنی غلاموں نے اسے سچ بھی مان لیا ، جب کہ حقیقت تو یہ کہتی ہے کہ جتنا عورت کو جنسی طور پر ان ممالک میں حراساں کیا جاتا ہے اتنا کہیں اور نہیں ہوتا ہے حتیٰ کہ روشن خیال ترین فلم انڈسٹری ” ہالی وڈ ” کی بڑی اداکارائیں بھی اس جنسی امتیاز کا شکار ہو چکی ہیں .
خیر تو بات ہورہی تھی امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کی 9 ماہ کی بچی کی جسے اسکی ماں کے بوائے فرینڈ ” بینجامن ٹیلر ” نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد مار ڈالا ، اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد مغربی ورجینیا کی عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور عوام نے ملزم کی سرعام پھانسی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ، اب چونکہ ویسٹ ورجینیا میں سزائے موت کا قانون نہیں تھا لہذا فوری طور پر ایک کمپین شروع کی گئی جہاں پہلے دن ہی 3000 لوگوں نے پھانسی کی سزا کو لاگو کرنے کے لئے وائٹ ہاؤس بھیجی جانے والی پٹیشن پر سائن کیا .
تو کیا اب پورا مغربی ورجینیا ” غیر انسانی سوچ ” رکھنے والا ہوگیا ؟

ایک بات سمجھ لیجئے کہ قانون کی دی گئی سزا کبھی بھی انتقام/ بدلہ نہیں ہوتا ہے . بلکہ یہ انتباہ ہوتا ہے ان کے لئے جو اس طرح کا جرم کرنے کا ہلکا سا بھی ارادہ رکھتے ہیں . ریاست کو اپنا ہر شہری عزیز ہوتا ہے اگر وہ کسی شہری کو سزا دیتی بھی ہے تو اسکا مقصد باقی شہریوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے ، اسلام میں اگر چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے تو جناب جہاں جس شہر میں ایک چور کا ہاتھ کٹے گا وہاں اس شہر میں کوئی دوسرا شخص چوری کرنے سے قبل ایک لاکھ بار سوچے گا ، جہاں ایک زانی سنگسار ہوگا وہاں کوئی حیوان فطرت شخص کسی عورت کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے سے قبل ایک کروڑ بار جھجکے گا ، جس جرم کی سزا جتنی سخت ہوتی ہے مجرم اسکا ارتکاب کرنے سے اتنا ہی جھجکتا ہے .

لہذا ہم لاکھ مرد کی درندگی کو کوسیں .
عورت کی آزادی کے نعرے لگائیں

یا پھر فیس بک پر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے تین چار پلے کارڈ اٹھا کر پریس کلب پر 2 گھنٹے ٹائم پاس کرلیں ہونا کچھ بھی نہیں ہے ، یہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ ساری دنیا کا مسئلہ ہے ، گزشتہ سال کے آخر میں بھارت میں اس طرح کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں پچھلے نومبر میں ایک اور امریکی ریاست میں کانوے نامی شخص نے اپنی ننھی سگی ننھی بیٹی کے ساتھ اسی طرح کی درندگی دہرائی ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ مغربی ممالک یا بھارت اس سلسلے میں کیا اقدام اٹھا سکتے ہیں پر مجھے یہ معلوم ہے کہ بطور اسلامی ملک ہمارے پاس اس مسئلہ کا سب سے بہترین حل اسلام میں متعین کردہ سزا کا نفاذ ہے . پر مسئلہ صرف اتنا ہے کہ اگر اسلامی سزاؤں کا نفاذ ہوتا ہے تو بہت سے ایسے لوگ بھی اسکی پکڑ میں آئیں گے جو بظاھر مہذب دکھائی دیتے ہیں پر درحقیقت ان کا دامن بھی کسی نہ کسی جنسی بے راہ روی سے لتھڑا پڑا ہے یعنی “مہذب” مجرم خود ان صفحوں میں شامل ہے جو بظاھر مظلوم کیلئے انصاف کی بات کرتے ہیں لہذا لگتا تو یہی ہے کہ بس باتیں ہوں گی نعرے ہوں گے اور زینب جیسی معصوم شہزادیاں درندگی کا نشانہ بنتی رہیں گی … !!!