لکھاری لکھاری » تازہ ترین » قصور میں بے قصور بچی کا قتل

ad




ad




اشتہار




بلاگ تازہ ترین لکھاری

قصور میں بے قصور بچی کا قتل

  • 10
    Shares

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک سال میں 12 واقعات ایک ہی طرز کے رونما ہوجانے کے بعد پنجاب جیسے چاک و چوبند پولیس کا کردار کیا رہا۔ زینب کو کیا یہ حق حاصل نہیں کیا زینب نے یہ جرم عظیم کرلیا کہ وہ اپنے ایک قریبی مسجد یا ایک گھر میں پارہ یا قاعدہ پڑنے کیوں چلے گئی ، کیا اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمان بچے قاعدہ پڑھنے کے لیے بھی گھر سے نہ نکلے۔

زینب کی نیلی آنکھیں اس کے بچپن کی شوخی اس کے کھیل کود کا دور یقینا وہ اس جرم کے نہ تو مستحق تھی اور نہ ہی ایسا گناؤنا جرم ایسے بچے کے ساتھ کیا جانا ممکن تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ 7 سالہ معصوم زینب کے ساتھ کیا جانے والا اندوہناک عمل کسی انسان نے کیا ، ابتدا آپ کا ذہن شائد اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو لیکن جس ملک میں روز روز اور جس شہروں میں ہر ماہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہوں تب آپ کا ماؤف ذہن تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے گا کہ انسان وحشی درندوں سے بھی گیا گذرا ہے۔ انسانیت اب مرگئی ہے ، جب انسان ہی کو جینے کا حق نہیں دیا جانے لگے تب سمجھ لینے چاہیے کہ انسانیت مرچکی ہے۔

جو ہوا نہایت افسوس جتنا غم و افسوس اس واقعے پر کیا گیا وہ بھی کم لیکن اس سے اہم بات یہ کہ ایسے واقعات کا روک تھام کیسے اور کب ہوگا کیا یہ واقعہ بھی سیاست کے نظر ہوجائے گا۔ اور کیا پنجاب پولیس اس واقعے کو بھی معمول اور روزنامچہ کے ڈائری میں درج کرنے تک محدود کردے گی یا عملاً بھی کچھ ہوسکتا ہے ۔ یہ سوال مجھ جیسے کروڑوں پاکستانیوں کے لب و لہجہ سے نمایاں ہیں۔

آخری بات یہ کہ ہم قومی شعور اور انسانیت کے ناطے اس ظلم کے خلاف نکل کھڑے ہوں حکمرانوں کو اپنے اوپر ہونے والے ان مظالم کا احساس دلائیں اور ارباب اقتدار و اختیار کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ ہمارے محافظ ہیں وہ ہمارے حفاظت پر مامور ہونے کے وجہ سے دنیا بھر کی عیاشیوں کے مزے لوٹتے ہیں ہمارے نام پر ان کے بینک بیلنس میں ماہانہ کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں۔ تاکہ اس ظلم اور ظالم کا سدباب ممکن ہوسکے۔ اللہ ہم سب کی اورہمارے بچوں کی حفاظت فرمائیں۔ آمین


  • 10
    Shares