وہ کم سنی میں ہی باشعور ہوگئی تھی


وہ اپنی بیٹی کو یک ٹک گھور رہا تھا.کتنی معصوم تھی وہ.دنیا جہاں سے بے خبر.اپنے کھیل میں مگن.اس پر جو قیامت ٹوٹ چکی تھی کتنی آسانی سے وہ اسے بھول گئی تھی.بچے ایسے ہی ہوتے ہیں پل میں تولہ پل میں ماشہ.لیکن وہ بے چین تھا.وہ ڈر رہا تھا کہ کل وہ بڑی ہو جائیگی.شعور کی منزل تلک پہنچ جائیگی.تب اس کیلئے جینا اتنا آسان نا ہوگا.اس کے پاس لوگوں کی چبھتی نگاہوں کا جواب نہ ہوگا.وہ گھٹ گھٹ کر جئے گی.

اسے یاد تھا ایک دن وہ اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی.تب وہ بولی تھی
“ابو!میں نے گڑیا کی رخصتی کردی ہے.رخصتی کے بعد گڑیا گڑے کے گھر میں کیا کرتی ہے“
اس نے کہا تھا”بیٹی! وہ گھر کے کام کرتی ہے کھانا پکاتی ہے.کپڑے استری کرتی ہے“اسکی بیٹی مطمئن ہوگئی تھی اور گڑیا کو گھر کے کاموں میں مشغول کرنے لگی تھی….

آج جب کہ اس پر قیامت گزر چکی تھی.ہوس کے درندے اس سے اپنی ہوس مٹا چکے تھے وہ پھر بھی کھیل رہی تھی.اسے کچھ پرواہ نہیں تھی کہ اس کے گھر والوں پر کیا گزر رہی ہے.اسے فکر تھی تو صرف اپنی گڑیا کی جس کی آج وہ رخصتی کرنے والی تھی.پر آج وہ مختلف دکھائی دے رہی تھی.شاید اسے پتا چل گیا تھا کہ گڑیا رخصتی کے بعد کیا کرتی ہے.وہ کم سنی میں ہی باشعور ہوگئی تھی.اس کے ابو کا دل اچھل کر حلق میں آگیا اور آنکھوں سے اندوہ کے آنسو ٹپکنے لگے. کیونکہ اسکی بیٹی گڑیا اور گڑے کے کپڑے اتار رہی تھی!


You may also like...