لکھاری لکھاری » بلاگ » جمعیت ! تعمیر و ترقی کے ستر سال

ad

بلاگ لکھاری

جمعیت ! تعمیر و ترقی کے ستر سال


جمعیت  – وطن عزیز پاکستان ،قدرت کی حسین ترین وادیوں اورسبزہ زاروں کا وطن، معدنیات کے بیش بہازخائر کا وطن ،باصلاحیت اور حوصلہ مند طلباء کا وطن ،ہنر مند اور جفاکش نوجوانوں کا وطن۔ پاکستان اپنے جغرافیائی اعتبار سے دنیاکے اہم ترین ممالک میں سے ہے ہی ۔مگراپنے پر جوش اور باصلاحیت نوجوانوں کی کثرت میں بھی کوئی ثانی نہیں رکھتا اور اسلام سے محبت اس ملک کے باسیوں کا خاصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلامی اپنی مکروہ چالوں کے ذریعے یہاں کے سادہ لوح عوام کے اسلامی جذبہ کو غلط رخ میں بہا لے جاتے ہیں۔ یہ اسلام سے محبت ہی ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کی شر انگیز طاقتیں مملکت خداداد کے در پہ ہیں ۔
آج سے کوئی سولہابرس قبل ایک سانحہ پاکستان کی سرحدوں سے ہزاروں میل دور کی سرزمین امریکہ پ رونما ہوتا ہے۔ لیکن اس کا خمیازہ پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ امریکہ بہاددراپنا لاؤ لشکر لیے افغانستان پر آ دھمکتا ہے ۔
اور اس پورے خطے کے امن و امان کو تباہ کر دیتا ہے ۔ اس سب صورتحال میں پاکستان آج بھی مشکلات سے دوچار ہے ۔ گزشتہ چند روز قبل پشاور میں زرعی یونیورسٹی پر حملہ اسی کی ایک کڑی ہے ۔ امریکہ بہادر کی پالیسیوں اور عالم اسلام پر مسلط صلیبی جنگوں کے پیش نظراسلامی جمعیت طلبہ نے گزشتہ سولہا سال میں تعمیری صلاحیتوں کے نکھار اور امید کی کرن روشن کرنے کے لیے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ اتحاد امت کا درس لیے اور اپنے جلو میں بیش بہاجذبات سمیٹے 2003 کا اجتماع عام ہو یا امید کی کرن اور جواں جذبوں کی بیداری کا سامان لیے 2011 کا اجتماع عام ۔ جمعیت نے اپنی تمام تر کوششیں پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ یقین محکم اور عمل پیہم کا پیغام عام کرنے میں صرف کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں  : جمعیت، کیوں بنی
2003 میں جب دنیا مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھنے اور کہنے میں کوئی تامل نہیں برت رہی تھی اسلامی جمعیت طلبہ نے ملک بھر میں طلبہ کو اس بات پر تیار کیا کہ اس وقت امت کو اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ جمعیت نے اپنا ملک گیر اجتماع ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘ عنوان سے منعقد کیا۔ اسی نعرے کو عنوان بنا کر اپنی تمام تر سرگرمیاں ترتیب دیں۔ اسی نعرے کے نہج پر طلباء کی ذہن سازی کی۔ اسلام اور مسلمانوں سے محبت، اور اخوت کا درس عام کیا۔
اسی طرح مملکت خداداد جب ایک مرتبہ پھر مایوسی و نا امیدی کے اندھیروں کی لپیٹ میں تھا ۔ یہاں کا نوجوان اپنے مستقبل کو پاکستان کے ساتھ وابستہ دیکھ کر دل برداشتہ ہوا چاہتا تھا۔ جمعیت نے ایک اور فلک بوس نعرہ اور حیات بخش پیغام پاکستان کے نوجوان کو دیا۔ اور 2011میں ایک اور ملک گیر اجتماع، اجتماع عام ’’ امید بنو تعمیر کرو، سب مل کر پاکستان کی‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔
اس ملک نے پھر دیکھا امید توڑتا نوجوان پھر سے منزلوں نشان پانے لگے۔مایوس لوگ امید کی کرن دیکھنے لگے۔ تھکے ماندے قدم منزل کی جانب تیزگام ہونے لگے۔ اور پھر جمعیت کی پوری تحریک ہے جو گزشتہ چھ سالوں میں ملک بھر میں چلی۔ بڑے پیمانے پر باصلاحیت طلباء کی صلاحیتوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ انہیں حوصلہ دیا۔ انہیں ہمت دلائی اور اس بات کو ذہن نشین کروایا کہ پاکستان کا نوجوان دنای کے باصلاحیت ترین نوجوانوں میں سے ہے۔ وہ تعلیم کے کسی بھی میدان میں اپنا لوہا منوانا چانتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو تعمیر کاموں میں استعمال کرکے پاکستان کو پر لحاظ سے مظبوط ریاست بنا سکتا ہے۔
غرض اسلامی جمعیت طلبہ گزشتہ 70برس میں بدلتے ہوئے حالات و واقعات سے بھر پور ہم آہنگی کے ساتھ پاکستان کے لیے تعمیری خدمات سر انجام دیتی رہی ہے۔ اور امید دلاتی رہی ہے کہ
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے
انیق احمد تابش  اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے سیکریٹر اطلاعات، ہیں