لکھاری لکھاری » انتخاب » جمعیت کیوں بنی ؟ اور اب تک کیا کردار اداکیا

ad




ad




اشتہار




انتخاب لکھاری

جمعیت کیوں بنی ؟ اور اب تک کیا کردار اداکیا


اسلامی جمعیت طلبہ ‘ وطن عزیز کے پاکیزہ صفت نوجوانوں کے ایسے گروہ کا نام ہے جو گزشتہ67برسوں سے ملک و قوم کو قیادت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت و راہنمائی اور تعلیم کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہمہ تن جدوجہد میں مصروف ہیں ۔جمعیت کے بجا طور پر سو نام اور سو عنوان ہیں اور تما م شعبہ ہائے زندگی میں اس کی پہچان ایک قائد اور راہنما کی سی ہے ۔

لکھاری ڈاٹ کام

جمعیت ‘علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر اور قائد اعظم ؒ کے پیغام کا مظہر ہے ۔گزشتہ نصف صدی میں اس نے ایسی تابندہ روایات ترتیب دی ہیں کہ وطن عزیز سے محبت کرنے والا ہر شخص جمعیت کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔تعلیم کا میدان ہو یا بین الاقوامی کردار کی بات‘ طلبہ کی تربیت کا ایجنڈہ ہو یا تحقیقی پسماندگی کے خاتمے کی جدوجہد ‘ سا لمیت پاکستان کی جنگ ہو یا ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کا کام ‘انسدادِ فحاشی کی جدوجہد ہو یا ملک و قوم کو باصلاحیت قیادت کی فراہمی ‘ اسلامی جمعیت طلبہ نے ہر میدان میں جوکارہائے نمایاں سرانجام دئے ہیں اُن پر بلاشبہ کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں تا ہم ان عنوانات کے تحت جمعیت کی سرگرمیوں کی مختصر تاریخ ذیل میں دی جا رہی ہے ۔

اپنے قیام سے اب تک اسلامی جمعیت طلبہ نے تعلیمی مسائل کے حل کو اپنے ایجنڈے میں سرِ فہرست رکھا ۔ خصوصاََ اسلامی نظام تعلیم کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ۔1960ء اور70ء کی دھائیوں میں بننے والے نورخان تعلیمی کمیشن اور حمود الرحمن تعلیمی کمیشن کو اپنی سفارشات پیش کی گئیں۔جنرل ضیاء الحق کو تعلیمی مسائل کے حل کے لئے میمورنڈم پیش کیا گیا ۔1982ء سے لے کر 96ء تک کا عرصہ مسلسل تعلیم بچاؤ مہم، ہفتہ اسلامی نظام تعلیم ،طلبہ مسائل مہم اور اصلاح نظام تعلیم مہم کی صورت جمعیت تعلیم اور طلبہ مسائل کے حل کے لئے مصروف عمل رہی۔1998ء میں ملک بھر میں 11نکاتی مطالباتی مہم چلائی گئی اور صدر مملکت سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی گئی ۔

حال ہی میں تعلیمی اداروں کی نجکاری اور پھر نصاب تعلیم میں شرمناک تبدیلیوں کے خلاف تمام طلبہ اور اساتذہ تنظیموں کے ساتھ مل کر تاریخی احتجاج کیا اور حکمرانوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اپنے تعلیم و طلبہ دشمن فیصلے واپس لیں ۔2002ء میں ملک بھر میں 182فری ٹیوشن سنٹرز میں 8,350طلبہ کو تعلیمی امداد فراہم کی گئی ۔2005ء میں جب زلزلے نے ملک بھر میں قیامت صغریٰ بپا کردی تھی ، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے ریلیف آپریشن کے ساتھ ساتھ متاثرہ اضلاع کے ہزاروں طلبہ کے لئے فری اسٹڈی سینٹرز کا آغاز کیا اور ان کا تعلیمی مستقبل تباہی سے بچانے میں کردار ادا کیا ۔کسی فرد کے نظریات کچھ بھی ہوں لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کی تعلیمی خدمات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بھی اسی کا اعجاز ہے کہ فری کوچنگ سنٹر اور پریکٹیکل سنٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔تعلیمی اداروں میں خصوصاًجامعات وپروفیشنل تعلیمی اداروں میں طلبہ کو مفت کتب کی سہولت فراہم کی گئی۔ذہین اور باصلاحیت طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیلنٹ ایوارڈز کا اہتمام بھی اس کی خوبصورت روایت بن چکا ہے۔طلباء وطالبات میں ذوق کتب بینی کو پروان چڑھانے اور معیاری سستی کتب تک آسان رسائی کیلئے تعلیمی اداروں میں’’کتب میلہ اور کمپیوٹر نمائش‘‘کا اہتمام کرنے کی روایت کا اعزاز بھی جمعیت کو ہی جاتاہے۔

 

تعلیمی اداروں میں ماہرین تعلیم کے لیکچرز اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا کیرئیر کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنا جیسے اقدامات بھی اسی طلبہ تنظیم کا خاصا ہیں۔نشے اور دوسری فضول سرگرمیوں سے بچانے کیلئے طلبہ کیلئے سپورٹس فیسٹیول کا آغاز ہو یا طلبہ میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کی بات،طلبہ مسائل کو حل کروانے کی جدوجہد ہو یا فاٹا اور مالاکنڈ آپریشن کے لاکھوں متاثرین کی مدد،ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا مرحلہ درپیش ہویا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے باک انداز میں پاکستان کے طلبہ کی نمائندگی کا چیلنج،تعلیمی اداروں میں پر امن تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری ہو یا تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کی بہتری کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ماڈل کلاس رومز کا قیام،اسلام اور پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے کا کارنامہ ہو یا اسلام کے پرچم کی سربلندی، وطن عزیز پاکستان کے وقار کو بڑھانے اور دشمن سے بچانے کا مسئلہ ہو یا طلبہ برادری کے حقوق کی بات ہو، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اپنے نصب العین ،دستور، پروگرام اور روایات کی پابند رہ کر تعلیمی خدمات کے میدان اورایسی تمام مہمات،تحریکات اور جدوجہد کی جان رہی ہے۔

 

طلبہ یونین کے انتخابات اس بے مثال کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔آج بھی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اپنی تمام تر تنظیمی قوت کے ساتھ طلبہ کی سیرت اور کردار کو سنوارنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ نے ملک بھر کے ذہین اور باصلاحیت طلبہ کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انٹر یونیورسٹیز مقابلہ جات کا آغاز کیا جو ہر سال باقاعدگی کے ساتھ جاری ہیں ، ان مقابلہ جات میں جیتنے والے طلبہ و طالبات کو ہر سال لاکھوں روپے انعامات میں د ئیے جار ہے ہیں، امسال بھی اسلامی جمعیت طلبہ نے ملک میں جاری طلبہ مسائل کے لئے ایک مہم ’’ تعمیر تعلیم سے ‘‘ کا آغاز کیا جس میں ملک بھر میں طلبہ کے لئے ٹیلنٹ ایوارڈز، مختلف مقابلہ جات، کتاب میلے ، طلبہ عدالت،فیملی فیسٹیولز اور طلبہ ریلیوں جیسے بڑے پروگرامات کا انعقاد کیا گیا۔اس مہم کے دوران پانچ سو کے قریب ٹیلنٹ ایوارڈ شوز کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں دس ہزار طلبہ و طالبات کو اعزازی شیلڈز دی گئیں ، جن کہ اسی مہم کے دوران دس فیسٹیولز کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں طلبہ و طالبات اور والدین نے شرکت کی، بین الاقوامی افق پر اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ پاکستان کے طلبہ کے جذبات کی ترجمانی کی ۔

الجزائر اور جنوبی افریقہ میں فرانسیسیوں کے مظالم ، نہر سویز کا مسئلہ، اراکان میں برمی مسلمانوں پر برمی کیمونسٹ حکومت کے مظالم ،اخوان المسلمون پر مصر، عراق اور شام میں مظالم اور آزادی کشمیر کے لئے اپنے مؤقف کا ڈٹ کر اظہار کیا ۔بھارتی مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام ،ایران میں امریکی گماشتہ شہنشاہ کی وحشت پر بھی اسلامی جمعیت طلبہ نے سب سے آگے بڑھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔جمعیت نے اجتماعی مہمات چلائیں ، رائے عامہ کو بیدار کیا اور بین الاقوامی اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے۔پاکستان جب سیٹو اور سینٹو کا رکن بنا تو اس پر احتجاج کیا اور امریکی و روسی بلاک کا حاشیہ بردار بننے کی مخالفت کی ۔اعلان تاشقند اور شملہ معائدے کی مذمت کی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بھرپور حمایت کی ۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف تحریک بیداری ملت برپا کی ۔امریکہ کے افغانستان اور عراق پر حملوں کے خلاف ملک بھر میں بھرپور مہمات چلائی گئیں۔ا سلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے لئے ایک انعام ہے جو نوجوانوں کی فکری اور روحانی تربیت کرتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کررہی ہے۔حالات کچھ بھی ہوں امیدیں ہمیشہ جوانوں سے ہی وابستہ رہی ہیں۔

 

جمعیت قیام پاکستان سے اب تک جوانوں کے ساتھ قدم بہ قدم ہے۔جس نے ہر آزمائش میں نوجوانوں کی رہنمائی اور حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو مثبت اور بہترین ماحول فراہم کیا ۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے اسلام کے عالم گیر تصور کو سمجھتے ہوئے اسلامی نظام زندگی کو طلبہ کے دلوں میں اجاگر کرکے انہیں اسلام کے نفاذ کے لئے تیار کیا ہے اور ہر شعبے میں یہ طلبہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے نظام اسلام کے نفاذ کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم ملکی اور بین الاقوامی حالات میں جمعیت اپنے نظرئیے کے مطابق حالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنا کردارادا کرتی ہے۔محض ملکی معاملات میں طلبہ کی رہنمائی اور رفاعی اور فلاحی کام ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اُٹھنے والے ایشوز پر بھی طلبہ کی رہنمائی کی ہے۔
اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ دنیا میں طلبہ تنظیموں کی فیڈریشن(وفاق) کا باقاعدہ حصہ ہے۔ انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (IIFSO) کی ممبر ہے۔جو کہ1969ء سے دُنیا بھر میں اسلامی فکر و خیال رکھنے والے طلبہ و طالبات کو امت مسلمہ کی رہنمائی کے لئے مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔یہ ادارہ جس میں سو سے زائد ممالک کی طلبہ تنظیمیں ممبر ہیں درحقیقت اسلام کے عالمگیر تصور کو اجا گر کررہا ہے۔حسن البناء،سید قطب ، سید ابولاعلیٰ مودوی اورنجم الدین اربکان کے بتائے ہوئے تصور اسلام کی روشنی میں،دنیا بھر میں اسلام پسند طلبہ کی فکری اور ذہنی نشو ونما ہو رہی ہے۔قیادت کی تیاری اور میڈیا کے محاذ پر نظریاتی افراد کی فراہمی اس وقت (IIFSO) ککا سب سے اہم ہدف ہے۔اس ہدف کے حصول کے لئے پاکستان سمیت دُنیا بھر میں یہ وفاق تربیتی کیمپس،ورکشاپس اور گروپ ڈسکشن کے ذریعے طلبہ اور طالبات میں مؤثر کام کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :تعلیمی ادارے اور جمعیت،

اسلامی جمعیت طلبہ اوائل ہی سے IIFSOسے الحاق شدہ ہے،اور اس وقت IIFSOکی میڈیا کی ذمہ داری بھی ادا کررہی ہے۔جبکہ جنوبی ایشیاء ریجن کے تمام ممالک اسلامی جمعیت طلبہ کی ذمہ داری میں ہیں۔جنوبی ایشیاء ریجن میں سید ابولاعلیٰ مودودی کے بتائے ہوئے تصور اسلام اور احیائے اسلام کی تحریک سے وابستہ نوجوانوں کا ایک مضبوط بلاک بنایا جا رہا ہے۔جس میں بنگلہ دیش ،نیپال ، سری لنکا، مالدیپ،بھارت،پاکستان اور افغانستان میں موجود یہ طلبہ اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔اس خطہ میں سید مودودی کے فکری خیالات کی ترویج کے لئے پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ اکیڈمی قائم کی جارہی ہے۔جس سے دُنیا بھر کی طلبہ تنظیمیں اور بالخصوص جنوبی ایشیاء کے طلبہ مستفید ہوں گے۔

حال ہی میں جنوبی ایشیاء میں ہونے والی کانفرنس میں جمعیت نے بطور چیف آرگنائزر خطہ میں اسلامی نظریات کی ترویج اور مسلم یوتھ بلاک کے قیام کے لئے اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔انھی سفارشات میں جنوبی ایشیاء کی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے قیادت کی تیاری اور میڈیا کے محاذ پر نظریاتی افراد کی فراہمی کے لئے ابتدائی کام مکمل کیا جائے گا۔جنوبی ایشیاء کی بڑی جامعات کے طلبہ و طالبات کا ایک ورگنگ گروپ خطہ میں میڈیا اور اس کے کردار کے حوالے سے اپنا کام مکمل کرے گا۔یوں ابتدائی طور پر اسلامی جمعیت طلبہ کی قیادت ہی یہ تمام سرگرمیاں جنوبی ایشیاء ممالک میں کی جائیں گی۔جس کے لئے آئندہ تین سال کا ہدف طے کیا گیااور ابتدائی پراجیکٹ میں کامیابی کے بعد مزید اقدامات کئے جائیں گے۔

حال ہی میں IIFSOکے زیر اہتمام عرب ممالک میں انقلاب اور تبدیلی کی لہر کے اور مسلم ممالک میں انقلاب اور تبدیلی کی لہر کے لئے کے لئے اسلامی تحریکوں کے جائزہ کے لئے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے اس میں اسلامی جمعیت طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔جبکہ گزشتہ سال میڈیا کے محاذ پر تبدیلی ،تعلیمی میدان میں مؤثر کردار اور رواں سال عرب ممالک میں انقلاب کا غیر عرب ممالک پر اثر کے عنوان کے تحت جمعیت ترکی میں ہونے والے سالانہ یوتھ کنونشن میں مکالے پیش کر چکی ہے۔طلبہ تنظیموں کے وفاق کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ جمعیت(IYF)انٹرنیشنل یوتھ فورم کا بھی حصہ ہے جس کا قیام آج سے6سال قبل ترکی میں لایا گیا۔اسی طرح جمعیت ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ(WAMY)کی بھی ممبر ہے۔جو تربیت اور ورکشاپس کے انعقاد کے لئے نوجوانوں میں بہت مؤثر کردارادا کررہی ۔

تحقیق کے میدان میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ادارہ سنٹر فار ایجوکیشن ریسرچ اینڈ پالیسی انالیسز( سراپا) اہم کردار اداکر رہا ہے ۔یہ پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر رفیق جیسے ماہرین تعلیم کی نگرانی میں حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان میں نقائص کی نشاندہی کر کے انکی اصلاح کے لئے تجاویز دیتا ہے ۔اسکے علاوہ اسٹڈی ایڈ پروجیکٹ کا شعبہ بھی1995ء سے کام کر رہا ہے ۔ ایک اور ادارہ اسٹڈی ایڈ فاؤنڈیشن فار ایکسی لینس(سیف) کے تحت گزشتہ2سالوں سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’’آل پاکستان انٹر یونیورسٹیز کمپی ٹیشن ‘‘کروا رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ PHDسپانسر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ سال20باصلاحیت طلبہ کے داخلے بھی کروائے گئے ہیں ۔

 

اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے قیام سے اب تک طلبہ کے محاذ پر جس بے مثال سیاسی و جمہوری کردار کا ثبوت دیا ہے وہ اس ملک کی سیاسی جماعتوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔یہ تنظیم محض طلبہ کی فلاح و بہبود اور انکے مسائل حل کرنے کے لئے ہی کوشاں نہیں رہی بلکہ اس نے ہر نازک موڑ پر پوری قوم کی راہنمائی کافریضہ بھی انجام دیا ۔ طلبہ یونینز کے پلیٹ فارم سے تعلیمی اداروں میں منفی روایات کا خاتمہ اور مثبت سرگرمیوں کا فروغ جمعیت کا کارنامہ ہے ۔تعلیمی اداروں میں کتاب میلے ، بُک بینک ، ہفتہ کُتب، پکنک ٹورز ،ٹورنامنٹ ،سیمینارز،مذاکرے،طلبہ عدالتیں ، استقبالیہ جات ،داخلہ سٹالز اور مختلف نوعیت کی سرگرمیاں جمعیت کی پہچان بن چکی ہیں ۔مخالفین کی طرف سے جمعیت پر تشدد کا الزام بہت پرانا ہے ۔جمعیت نے ہمیشہ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کیا ۔

 

اگر تعلیمی اداروں کے انتخابات میں اس کو شکست سے دوچار ہونا پڑا تو اس نے اپنے مخالفین پر دھاندلی کے الزامات لگانے یا اس کا راستہ روکنے کے بجائے ہمیشہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کی طرف توجہ دی ۔یہی وجہ ہے کہ پھر اُس تعلیمی ادارے میں جمعیت اپنے مثبت طرز عمل، تعمیری اور خدمت کے جذبے سے سرشار کردار کی وجہ سے جلد کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔جمعیت نے جمہوریت کی اصل روح کیمطابق اپنی قیادت کو ہمیشہ دیانت ، خلوص اور خدمت کے زریں اصولوں پر عمل پیرا رکھنے کی کوشش کی ۔

1954ء میں پنجاب میں سیلاب کا مسئلہ ہو،1963ء میں مشرقی پاکستان میں طوفان کی آفت کا سامنا،1973ء میں پنجاب اور سندھ میں قیامت خیز بارشوں کا معاملہ ہو،1975ء میں صوبہ سرحد میں زلزلے کی تباہ کاریاں ہوں،اس طلبہ تنظیم نے صف اوّل میں بھر پور کردار ادا کیا اور ریلیف میں ملکی اداروں کے ساتھ مل کر گراں قدر خدمات سرا نجام دیں۔جب8اکتوبر2005ء کو آزاد کشمیر وصوبہ سرحدمیں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس سے پوری قوم سخت آزمائش میں مبتلا تھی اسی جمعیت کے کارکنان سینوں پر اللہ اکبر کا بیج لگائے متاثرہ علاقوں میں پہنچے۔طلبہ برادری کوساتھ ملایا،پاکستان سے تمام رنگ ونسل اور زبانوں کے نوجوان وحدت بنے اور ملک بھر میں امدادی سرگرمیاں ہوئیں،300سے زائد ٹرکوں پر امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا گیا۔

طلبہ کے مستقبل کو تباہی سے بچانے کیلئے خیمہ سکولز کا قیام عمل میں آیا۔اسلام آباد،کھاریاں،میر پور،سیالکوٹ اور چڑھوئی میں متاثرہ طلبہ کیلئے اقامتی اسٹڈی کیمپس کا انعقاد کیا گیا۔امتحانات کی تیاری کیلئے6000سے زائد طلبہ کو تین ماہ تک تمام سہولیات بہم پہنچائی گئیں۔اپنی ماؤں،بہنوں،بزرگوں،بچوں کے دکھ کو بانٹنے کیلئے ناظم اعلیٰ،مرکزی شوریٰ کے اراکین اورکارکنان کی بڑی تعداد نے زلزلے کے بعد عیدالفطر زلزلہ زدگان کے ساتھ باغ،مظفر آباد،بالا کوٹ میں منائی۔2010ء میں جب ایک بار پھر سیلاب کی صورت میں پوری قوم آزمائش کا شکار ہوئی تو اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی شوریٰ نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے عمل کو بحال کرنے کیلئے اور طلبہ کے مستقبل کو بچانے کیلئے عزم نو خیمہ سکولز کا اعلان کیا۔خیبر،پنجاب جنوبی اور سندھ میں ان سکولز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ایسے حالات میں جب پورا نظام ان علاقوں میں معطل تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ نے کوٹ مٹھن ضلع راجن پور میں پہلے عزم نو خیمہ سکول کا افتتاح کر کے طلبہ اور ان کے والدین کے زخموں پر مرہم رکھا۔کالجز اور یونیورسٹی کے طلبہ کیلئے خصوصی سکالر شپ کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔عید الفطر کے موقع پر’’عید مناؤ اپنوں کے ساتھ‘‘کے سلوگن کو لئے’’عید کارواں‘‘کا اہتمام کیا گیا۔

جس میں متاثرہ علاقوں میں5لاکھ راشن پیکٹ اور باقی ضروری اشیاء کے تحائف تقسیم کئے گئے۔کارکنان جمعیت نے عید اپنوں کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں منائی۔اس سال بھی ضرب عضب آپریشن کے متاثرین جب ملک بھر کی جانب نگاہیں لگائے بیٹھے تھے تو اس وقت بھی اسلامی جمعیت طلبہ میڈیکل کیمپس، سٹڈی کیمپس اور خوراک کے ہمراہ ان کی مدد کو پہنچی۔ کارکنان جمعیت نے عید کے پر مسرت لمحات متاثرین کے ساتھ گزار کر انہیں اپنائیت کا احساس دلایا۔ سیلاب متاثرین کی خدمت کے لئے بھی جمعیت کے نوجوان صف اول میں شامل رہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس سال متحدہ طلبہ محاذ کی صدر بھی منتخب ہوئی ہے جس کے بعد سے تمام طلبہ تنظیموں کو متحد کر کے طلبہ حقوق کی جدو جہد جاری ہے۔

یہ اسلامی جمعیت طلبہ کی تاریخ اور جدوجہد کا مختصر خاکہ ہے ۔جس کا سفر آج بھی جاری ہے ۔گزشتہ سڑسٹھ سالوں میں جمعیت نے وطن عزیز کے تعلیمی اداروں میں جن تابندہ روایات کو فروغ دیا ہے ۔وہ یقیناًہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔