لکھاری لکھاری » انتخاب » جمعیت : تعلیمی ادارے اور قوم کی امید

ad




ad




اشتہار




انتخاب لکھاری

جمعیت : تعلیمی ادارے اور قوم کی امید

  • 7
    Shares

جمعیت  ! — کسی بھی قوم کی سربلندی،سرفرازی کیلئے اس کے اپنے نظریات سے گہری وابستی ایک ضروری عنصر ہے۔کوئی ایک فرد اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے اگر حالات کے جبر اور سختی کا مقابلہ کرتا ہے تو اس کی اس استقامت کے نتیجہ میں ایک قوم وجود میں آسکتی ہے لیکن اگر کوئی قوم اپنے نظریات کو چھوڑ کر کسی دوسرے نظریہ کے زیر سایہ پروان چڑھنا چاہے تو یہ مشکل ہی نہیں ایک ناممکن امر ہے جس کے نتیجہ میں ایسی اقوام کے وجود کا مٹ جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ایسے ہی کسی تنظیم کے وجود کیلئے اس کے لائحہ عمل،دستور،پروگرام،روایات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔

لکھاری ڈاٹ کام

تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ بڑے بڑے نعرہ لگانے والے،مستقبل میں دنیا پر اپنی چھاپ کو ثابت کرنے کی آرزو لئے اپنی تنظیموں اور جماعتوں سمیت اس دنیا سے صرف اس لئے رخصت ہوئے کہ انہوں نے اپنے ابتدائی پروگرام اور نصب العین کو وقت کے ساتھ ساتھ پس پشت ڈالا تو وقت نے ان کوماضی کا حصہ بنا دیا۔لیکن ہمارے پاس ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ مختصر افراد سے آغاز کرنے والی تنظیمیں اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے مشکل سے مشکل ترین حالات سے گزری ہر طرح کے نشیب وفراز کا سامنا کیا۔اس کو چلانے والے افراد اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے اس کا ایندھن بنے اور اسی ایندھن کی بدولت وہ تنظیمیں کندن کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ایسا کندن جس کی چمک اور روشنی سے اس کے خیر خواہ اپنی آنکھیں منور کرتے ہیں اور اس کے نہ چاہنے والوں کی آنکھیں اس سے چندیا جاتی ہیں۔دنیا بھر کی تنظیموں اور جماعتوں میں ایک ایسی ہی خوبصورت مثال اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی ہے۔

 

پاکستان کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی محب وطن اور اسلام پسند طلبہ نے ہجرت کر کے آنے والے طلبہ اور اس کے خاندانوں کی آباد کاری میں معاونت کے ساتھ ساتھ طالب علموں کے تعلیمی مستقبل کے بچانے کیلئے کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے طلبہ خدمت اور تعلیمی معاونت کے سفر کا آغاز کیا۔وطن عزیز کے وجود میں آتے ہی یہاں کے اداروں کو چلانا ایک چیلنج تھا ایسی صورتحال میں یہ اسلامی جمعیت طلبہ کی قیادت ہی تھی جس نے ملک کی ترقی،بقاء کی خاطر وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے1949ء میں تعلیم کے فروغ اور استحکام کیلئے شعبہ تحقیق قائم کیا تاکہ آنیوالے وقت میں پاکستان کو تمام شعبوں میں لائق،ذہین اور باصلاحیت افراد میسر آ سکیں۔جس میں اُن کو خاطر خواہ کامیابی نصیب ہوئی۔تعلیمی اداروں میں فرسٹ ائیر فولنگ پر طلبہ و طالبات کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ،جس کی وجہ سے تعلیمی نظام کئی دن معطل رہتا۔سینئرز صرف اپنی تفریح کیلئے نئے آنے والے جونیئر زکو بہت تنگ کرتے۔

 

 

فولنگ میں کئی دفعہ ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے جس میں شرم وحیاء کے تمام دائروں کو پامال کیا جاتا جس کی وجہ سے طالبات کی بڑی تعداد اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہوتی۔شریف خاندان ان حالات کی وجہ سے طالبات کو اعلیٰ تعلیم کیلئے بھیجنے سے مجبوراً گریز کرتے۔ایسے حالات میں اسلامی جمعیت طلبہ نے1950ء میں فولنگ کو روکنے کی کوشش کی۔وقت کے ساتھ ساتھ ناصرف اس تکلیف دہ عمل کو تعلیمی اداروں سے ختم کیا بلکہ اس کی بجائے راہنمائے داخلہ سٹالز کا انعقاد عمل میں لایا گیا تاکہ طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو مکمل راہنمائی فراہم کی جائے اور دوران داخلہ پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ کر کے ان کو سہولت فراہم کی جائے صرف یہی نہیں بلکہ پہلے دن نئے طلبہ وطالبات کی آمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ان کو عزت اور وقار کے ساتھ تعلیمی اداروں کی روایات سے آگاہ کیا۔ان کے ہاسٹل کی الاٹمنٹ سے لے کر کلاس روم اور یہاں سے لے کر گراؤنڈ تک اور خصوصی طور پرپڑھائی میں ان سے تعاون کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔

 

یہ روایت آج بھی پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں پوری آب وتاب سے جاری ہے۔نئے آنے والے طلبہ وطالبات کے استقبالیہ جات کے پروگرامات کا انعقاد بھی اسی طلبہ تنظیم کی ایک خدمت ہے جو آج بھی تعلیمی اداروں میں موجود ہے۔لائق،ذہین اور مستحق طلبہ کیلئے امداد طلبہ کے شعبہ کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں ایسے طلبہ کی معاونت کا ایک نظام آج بھی موجودہے۔ہر تعلیمی ادارے میں کارکنان جمعیت یہ خدمت سر انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
1954ء میں پنجاب میں سیلاب کا مسئلہ ہو۔1963ء میں مشرقی پاکستان میں طوفان کی آفت کا سامنا،1973ء میں پنجاب اور سندھ میں قیامت خیز بارشوں کا معاملہ ہو،1975ء میں صوبہ سرحد میں زلزلے کی تباہ کاریاں ہوں،اس طلبہ تنظیم نے صف اوّل میں بھر پور کردار ادا کیا اور ریلیف میں ملکی اداروں کے ساتھ مل کر گراں قدر خدمات سرا نجام دیں۔جب8اکتوبر2005ء کو آزاد کشمیر وصوبہ سرحدمیں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس سے پوری قوم سخت آزمائش میں مبتلا تھی اسی جمعیت کے کارکنان سینوں پر اللہ اکبر کا بیج لگائے متاثرہ علاقوں میں پہنچے۔وحدت کی عملی تصویر بنے، سینکڑوں ٹرک سامان لئے عید متاثرہ علاقوں میں منائی۔ خیمہ سکولز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اقامتی اسٹڈی کیمپس سمیت دیگر سرگرمیوں سے ہزاروں طلبہ و طالبات نے استفادہ کیا۔گزشتہ برس ایک بار پھر سیلاب سے پوری قوم آزمائش کا شکار ہوئی تو جمعیت کا کردار اپنے ماضی سے مختلف نہ تھا۔اس موقع پر ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے اس کے کردارکو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ قوم نے اس کے کارکنان کی تقلید کی اور جمعیت کے عید کارواں میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت ہزاروں طلبہ کی شرکت اور پانچ لاکھ راشن پیکٹ کی تقسیم اس کی خدمات پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عزم نو خیمہ سکولز کا قیام ،اسکالرز شپ پروگرام اور نئی آباد کاری میں تاریخی کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں  دعائیں دے رہی ہے جمعیت، بیدار مودودی رح

کسی فرد کے نظریات کچھ بھی ہوں لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کی تعلیمی خدمات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بھی اسی کا اعجاز ہے کہ فری کوچنگ سنٹر اور پریکٹیکل سنٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔تعلیمی اداروں میں خصوصاًجامعات وپروفیشنل تعلیمی اداروں میں طلبہ کو مفت کتب کی سہولت فراہم کی گئی۔ذہین اور باصلاحیت طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیلنٹ ایوارڈز کا اہتمام بھی اس کی خوبصورت روایت بن چکا ہے۔طلباء وطالبات میں ذوق کتب بینی کو پروان چڑھانے اور معیاری سستی کتب تک آسان رسائی کیلئے تعلیمی اداروں میں’’کتب میلہ اور کمپیوٹر نمائش‘‘کا اہتمام کرنے کی روایت کا اعزاز بھی جمعیت کو ہی جاتاہے۔تعلیمی اداروں میں ماہرین تعلیم کے لیکچرز اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا کیرئیر کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنا جیسے اقدامات بھی اسی طلبہ تنظیم کا خاصا ہیں۔ملک بھرکے دور دراز علاقوں گلگت،چترال ، مری کوئٹہ ،زیارت ،گوادر ،مینگورہ،تیمر گرہ ،کالام کوہستان مالاکنڈ ایجنسی سمیت دیگر جگہوں پر ہزاروں طلبہ ہر سال جمعیت کے ونٹر ایجوکیشنل کیمپس سے استفادہ کر تے ہیں۔

نشے اور دوسری فضول سرگرمیوں سے بچانے کیلئے طلبہ کیلئے سپورٹس فیسٹیول کا آغاز ہو یا طلبہ میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کی بات،طلبہ مسائل کو حل کروانے کی جدوجہد ہو یا فاٹا اور مالاکنڈ آپریشن کے لاکھوں متاثرین کی مدد،ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا مرحلہ درپیش ہویا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے باک انداز میں پاکستان کے طلبہ کی نمائندگی کا چیلنج،تعلیمی اداروں میں پر امن تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری ہو یا تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کی بہتری کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ماڈل کلاس رومز کا قیام،اسلام اور پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے کا کارنامہ ہو یا اسلام کے پرچم کی سربلندی، وطن عزیز پاکستان کے وقار کو بڑھانے اور دشمن سے بچانے کا مسئلہ ہو ،طلبہ برادری کے حقوق کی بات ہواسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اپنے نصب العین ،دستور، پروگرام اور روایات کی پابند رہ کر تعلیمی خدمات کے میدان اورایسی تمام مہمات،تحریکات اور جدوجہد کی جان رہی ہے۔طلبہ یونین کے انتخابات اس کی بے مثال کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔دوسری طرف اساتذہ کی تکریم کا مسئلہ ہو ان کے حقوق کی بات کرنے ہو یا مجموعی طور پر مل کر تعلیمی ماحول اور تعلیمی صورت حال کوبہتر کرنے کا مرحلہ درپیش ہو یہی طلبہ تنظیم بھر پور کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔

 

آج بھی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اپنی تمام تر تنظیمی قوت کے ساتھ طلبہ کی سیرت اور کردار کو سنوارنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔جب قوم مایوسیوں کا شکار تھی تو لاہور کے اندر ایک لاکھ طلبہ کو جمع کر کے انہیں ’’امید بنو تعمیر کر سب مل کر پاکستان کی ‘‘ کا نعرہ دیا۔دہشت گردی کی فضاء کے اندر اسلامی جمعیت طلبہ نے’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘ کا پیغام پوری قوم کو دیا۔جب پوری قوم کوسیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں اس وقت جمعیت نے قوم کو ’’تعمیر ، تعلیم سے ‘‘کے سلوگن کے تحت جمع کیا۔اس سال بھی ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ نے’’عزم عالیشان ہمارا پاکستان ‘‘ کے سلوگن کے تحت ایک مہم چلائی جس میں ٹیلنٹ ایوارڈ شوز، سٹوڈنٹس فیسٹیول، سیمینارز، مباحثے ، تقریری اور تحریری مقابلے، آگاہی واکس اور دیگر اہم سرگرمیوں کا انعقاد کیا جس میں تقریباََجمعیت نے بیس لاکھ سے زائد طلبہ تک رسائی رسائی حاصل کی اور انہیں تعمیر پاکستان میں کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا۔ جب کہ جمعیت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے یکساں نصاب تعلیم ریفرنڈم میں اٹھارہ لاکھ افراد نے حصہ لیا۔ جو یقیناًاسلامی جمعیت طلبہ کے لئے ایک اعزاز اور قوم کی جانب سے مثبت پیغام بھی ہے۔

 

محمد عامر   اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کےسیکریٹری جنرل ہیں


  • 7
    Shares