لکھاری لکھاری » انتخاب » دعائیں دے رہی ہے جمعیت بیدار مودودیؒ

ad

انتخاب لکھاری

دعائیں دے رہی ہے جمعیت بیدار مودودیؒ


 سید مودودی ؒ کی شخصیت کے بے شمار امتیازی پہلو ہیں جن پر اس تحریک کا ہر کارکن اورسید کی شخصیت کے شگوفوں سے پھوٹنے والی دیگر شخصیات اور پھر ان کی بھی تحریکات کو فخر ہے۔ مولانا مودودی نے جہاں اپنی فکر کے ایک نئے زاویے کے تحت اسلام کو بحیثیت نظام پیش کرتے ہوے دور جدید میں اس کے قیام کی ضرورت کو محسوس کیا وہیں انہوں نے جب یہ دیکھا کہ لوگ اس فکر اور رائے سے اتفاق تو کر رہے ہیں مگر اس کام کو کرنے کے لیے کوئی پہلا قدم اٹھانے کو تیار نہیں تو مولانا نے خود اس کام کو تنہا انجام دینے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کے اس اقدام کے نتیجے میں مجموعی ہندوستان سے چند فکرمند نفوس اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ایک ایسی جماعت کی تاسیس کی جس کا مقصد اللہ رب العالمین کے دین کو بحیثیت نظام دنیا میں نافذ کرنا تھا۔ یہ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے خلوص، اسلام سے محبت اور نیک نیتی کی علامت تھی کہ ان کی آواز صرف قلم کی آواز نہ رہی بلکہ یہ ایک زندہ تحریک بن گئی۔کچھ ہی عرصے بعد اسی تحریک کے جلو میں جنم لینے والی اسلامی جمعیت طلبہ صرف ۲۵ افراد کے عزم ، ارادے اورخلوص کے نتیجے میں ایک ننھی سی کلی کی صورت میں کھِلی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان سے لے کر عالمی سطح پر اسلام پسند طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک شجر سایہ دار بن گئی۔
اس اعتبار سے اسلامی جمعیت طلبہ سید مودودی کی طرف سے دیا ہوا ایک انمول تحفہ ہے جو ملت اسلامیہ اور وطن عزیز پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
ہم نے جب جمعیت کو دیکھا اور اس میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت سید کی ہم عصری تو میسر نہ تھی مگر ان کی یہ تحریک اور اس کے شگوفوں سے جنم لینے والی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کو مولانا کی وراثت کے طور پر پایا ہے۔ اس اعتبار سے ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اسی قافلہ کے راہی ہیں کہ جس کا آغاز سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے کیا تھا۔ جمعیت کا یوم تاسیس جب بھی آتا ہے مولانا کی خدمات کا اعتراف کرواتا ہے، ان کے مشن کو ذہن میں تازہ کرتا ہے اور غلبہ اسلام کی جدوجہد کے راستے میں ہمارے لیے سنگ میل ثابت ہوتا ہے۔
 یہ بھی پڑھیں   : جمعیت، اور پاکستان
اللہ رب ذول الجلال کا احسان ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ اس سال ۲۳ دسمبر کو اپنا اکھترواں (۷۱) یوم تاسیس منا رہی ہے۔یہ اس زندہ تحریک کا ہی خاصہ ہے کہ اس میں ہر سال بے شمار افراد آتے ہیں اور اپنی مختصر سی تعلیمی زندگی گزار تے ہوئے نئے افراد کی صورت میں اس تحریک کو نیا خون فراہم کرتے ہیں ۔ اس گلشن کی آبیاری کرتے ہیں ۔ اس گلشن کو اگر کسی خطرے کا سامنا ہوتا ہے تو اس کے آگے بند باندھتے ہیں۔ اس میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو خود احتسابی کے عمل کے نتیجے میں دور کرتے ہیں۔ محض رضائے الٰہی کی خاطر اپنی عمر کا عزیز ترین حصہ، جوانی کو اس کام کے لیے صرف کرتے ہیں۔ تب جا کر اس گلشن میں کلیاں چٹختی ہیں، ان سے پھول بنتے ہیں، پھر یہ پھول جب مہکتے ہیں تواپنی خوشبو اوررنگوں کی مانند اپنی فکر،مزاج اور طبیعت میں منفرد اور اپنے خلوص، جذبے اور مقاصد کے حصول میں گویا ایک چمن کی مانند دل فریب منظر پیش کرتے ہیں۔اسی گلشن میں کچھ ایسے بھی پھول کھلتے ہیں جو اس گلشن کی آبیاری کے لیے اپنا مقدس لہو پیش کر کے اس چمن کو سینچتے ہیں۔ اس گلشن کے لاکھوں پھول اب تک اپنی خوشبو سے پورے معاشرے کو مہکا رہے ہیں اور اسی طرح اس گلشن کی آبیاری کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
جہاں ہمیں اس تحریک پر فخر ہونا چاہیے وہیں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جمعیت محض ایک طلبہ تنظیم نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے۔ نظریاتی تحریکیں محض دعوں، نعروں اور روایات کے سہارے زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان کا نظریاتی لٹریچر ان کے اندر زندگی کی حرارت پیدا کرتا ہے۔ انہیں ٹھہرے پانی کا جوہڑ بننے سے بچاتا ہے اور دریا کی سی تیزی عطا کرتا ہے۔ نظریاتی تحریک کا نظریاتی کارکن اپنی فکر کی مضبوطی کے لیے، اپنے فیصلوں کی نظیر کے لیے اور اپنی پالیسی سازی کے عمل کے لیے قرآن و سنت اور لٹریچر کی بنیادوں سے ایسے گوہر و موتی تلاش کرتا ہے جو اس کو ، اس کو سوچ کو اس کی تحریک کو گلنے، سڑنے اور پھپوند لگنے سے بچاتے ہیں اور تحریک کو صحیح رخ پر لے کر جاتے ہیں۔ ہماری محسن جمعیت کی تاسیس کے موقع پرمیں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں ہمیں اس لازوال سفر کی داستانوں پر فخر کرنا چاہیے وہیں مستقبل کا سفر طے کرنے کے لیے اپنے لٹریچر سے کچھ تراشے نکال کر ان سے اپنے راستوں کو مزید روشن کرنا چاہیے۔
شجر سایہ دار جمعیت کے بانی سید ابوالاعلیٰ نے اس تنظیم کی تاسیس ہی نہیں کی بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کو قیمتی نصیحتوں سے بھی نوازا ہے۔ آئیے چند قندیلوں کو روشن کرتے ہوئے اپنے سفر کو آگے بڑھاتے ہیں۔
سید مودودی کے جانشین جب اپنے نوشتہ دیوار بعنوان ’’سحر‘‘ کے لیے ان سے پیغام لکھوانے گئے تو انہوں نے جو نصیحت کی وہ دہرانے کے قابل ہے۔ لکھتے ہیں
’’اسلامی جمعیت طلبہ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے نوشتہ دیوار کا نام’’سحر‘‘ رکھے۔ جس نظام تعلیم کی درس گاہوں کو دیکھ کر اکبر چیخ اٹھے کہ
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
اس کی کوکھ سے موسیٰ ؑ صفت نسل جنم لینے لگے ، تو یہ واقعی ایک سحر کی علامت ہے۔ لیکن خبردار!آپ کی یہ سحر کہیں صبح کاذب ثابت نہ ہو ، اسے صبح صادق بنایئے!سحری کھا کر سو نہ جایے،پو پھٹتے ہی نماز کی تیاری کیجیے!دوران تعلیم دین کا چرچا کرنا اور تعلیم سے فارغ ہوتے ہی دنیا کی طلب میں گم ہوجانا، ایسا ہی ہے جیسے کوئی سحری کھا کر سوجاے۔آپ کی نماز یہ ہے کہ جو تیاری آپ نے زمانہ طالب علمی میں کی ہے ، اسے کالجوں سے نکلنے کے بعد پوری طرح اقامت دین کی سعی میں استعمال کیجیے۔اس طرح آپ رات کی تاریکی کو دن کی روشنی میں بدل سکیں گے۔ اس طرح آپ کی صبح ،صبح صادق ہوگی۔‘‘
*۔۔۔*
جمعیت کے انگریزی جریدے اسٹوڈنٹ وائس کے لیے ایک انٹرویو میں نمائندے نے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ کس کتاب نے متاثر کیا؟
سید نے جواب میں کسی فلسفے کی کتاب یا کسی انشاء پرداز کے قلمی شاہکار کا نام نہیں لیا بلکہ اپنی زندگی بھر کے مطالعہ کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے فرمایا
’’ میں نے بے شمار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔۔۔ ہر قسم اور ہر موضوع کی کتابیں، لیکن جس کتاب نے فی الواقع مجھے متاثر کیا ہے وہ قرآن ہے ۔۔۔ اور صرف قرآن۔‘‘
مولانا کی نظر صرف حالات حاضرہ پر ہی نہیں رہتی تھی بلکہ وہ ان شعبوں پر بھی گہری نظر رکھتے تھے جو معاشرے کے مستقبل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یعنی معاشرے میں لٹریچر کی اہمیت اور نظام تعلیم میں لکھنے والوں کا کردار مولانا کی نظروں سے اوجھل نہ تھا۔جب جمعیت میں موجود ادیب مزاج افراد نے مولانا سے ادب میں اخلاقی اقدار کی اہمیت سے متعلق سوالات کیے تو مولانا نے ہدایت فرمائی کہ
’’ہمیں اہل قلم کا یک ایسا لشکر تیار کر لینا چاہیے جو علوم و فنون اور ادب کے ہر پہلو سے نظامِ حاضرہ پر حملہ آور ہوسکے۔ ضرورت ہے کہ ایک لمحہ کا انتظار کیے بغیر ہم میں سے ہر شخص اٹھے اور جس سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرے۔جو اہل علم ہیں وہ تخریب و تعمیر افکار کی مہم میں مصروف ہوں، جو اہل تعلیم ہیں نئی نسل کی تیاری کے لیے مستعد ہوجائیں۔ جو ادیب ہیں وہ ادب کی مختلف راہوں سے نظام حاضرہ پر حملہ آور ہوں اور نظام اسلامی کی دعوت پھیلائیں، جو مضمون نگار ہیں وہ اخباروں اور رسالوں سے اظہار خیال شروع کردیں۔ ‘‘
مزید کہتے ہیں کہ ’’معاش کے لیے کوئی ادب پیدا کرنا میرے نزدیک غلط چیز ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ آدمی معاش کے لیے اینٹیں ڈھو لے۔ ادب دماغوں کو ڈھالنے والی چیز ہے۔ یہ کام محض معاش کے لیے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کو تو بالکل اپنے نظریے و مسلک کے مطابق کرنا ہوگا۔‘‘
کارکنان جمعیت کی سوچ کو صحیح رخ فراہم کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ ’’اگر ایک طالب علم نماز کو جان بوجھ کر ترک کرتا ہے تو اس صورت میں آپ کو اس طالب علم کو ملامت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس نظام تعلیم کو ملامت کرنی چاہیے جس نے اول روز سے اس کو یہ سکھا یا کہ فرض ایک ایسی چیز ہے جس کو فرض جاننے کے بعد بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو خدا سے بے وفائی سکھانے کے بعد آپ ہر گز یہ امید نہ رکھیں کہ وہ قوم، ملک، ریاست کسی بھی چیز کے مخلص اور وفادار ہوں گے۔‘‘
اس تحریک کو مزید توانا اور مضبوط بنانے کی غرض سے مولانا کایہ جواب آخری نصیحت کے طور پر ہمارے لیے قابل تقلید ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے تربیتی کیمپ میں ایک ساتھی نے مولانا سے سوال کیا کہ ’’تحریکی مزاج کیسے پیدا کیا جاے؟‘‘مولانا نے مختصر مگر جامع الفاظ میں تحریک کا پورا مفہوم ذہن نشین کردیا۔
کہتے ہیں ’’مزاج کی خاص قسم کو لفظ ’’تحریکی‘‘ نے خود واضح کر دیا ہے۔تحریکی مزاج یہ ہے کہ آپ جس تحریک کو لے کر اٹھے ہیں اس تحریک میں آپ پوری طرح سے پختہ ہوں، اس کے اندر مستغرق ہوں، اس کے لیے آپ کے دل میں لگن پیدا ہوجاے، اس کو آپ دنیا کی تمام چیزوں سے عزیز رکھنے لگیں اور اپنے ذہن کی، اپنے جسم کی اور اپنی ساری طاقتیں۔۔۔ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہیں ، اس کے راستے میں استعمال کرنے پر تل جائیں۔آپ میں یہ عزم پیدا ہو جاے، کہ آپ اپنا سب کچھ اس کام میں لگا دیں۔ یہ ہے تحریکی مزاج۔‘‘
یہ محض چند اقتباسات نہیں بلکہ ان کی حیثیت اسلامی تحریک کی دعوت کے راستے میں روشن قندیلوں کی ہے جن کے نور کی روشنی میں ہم اس سفر کو طے کر کے اپنی منزل کو پا سکتے ہیں۔ آیئے ایک بار پھر اپنے محسنین کی تقریرات اور تحریرات سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنے حال کو مزیدبہتر بنائیں اور ہمارے بعد آنے والوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی عمارت تعمیر کریں۔