لکھاری لکھاری » تازہ ترین » جمعیت اور پاکستان

ad




ad




اشتہار




بلاگ تازہ ترین لکھاری

جمعیت اور پاکستان


اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ وطن عزیز پاکستان کی ہے دونوں ہی ۱۹۴۷ء میں معرض وجود میں آئے ۔ پاکستان کا نام برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی شبانہ روز امنگ ، جدوجہداور لازوال قربانیوں کا ثمر تھا۔ اور اس خطے کے مسلمانوں نے ایک خاص نظریاتی پس منظر میں اس کے قیام اور حصول کے لیے جدوجہد کی تھی ۔ اس کی جدوجہد کی بنیادوں میں دوقومی نظریے کا کلیدی کردار رہاہے۔ اور اس سوچ کے تحت کہ پاکستان مسلمانوں کی ایک آزاد اسلامی ریاست ہوگی جہاں ہر مسلمان کو ہر طرح کی مذہبی ، سماجی ، معاشی اور سیاسی آزادی حاصل ہوگی اور اسلام کے درخشاں اصولوں کے تحت وہ اس مملکت میں اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کی تعمیر کریں گے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد جہاں مختلف سیاسی معاشرتی و معاشی بحرانو ں کی طویل فہرست تھی اُن سب میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ یہ تھاکہ کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیے گئے اس ملک میں اسلامی اقدار ،نظریہ تعلیم ،طرز معاشرت کہیں بالکل اجنبی نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے ۲۳دسمبر ۱۹۴۷ء کو پورے ملک سے اس جذبے اور سوچ سے سرشار ۲۵ طالب علم لاہور میں جمع ہوئے اور انہوں نے ایک تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیاد ڈالی کہ اس ملک کے اصل سرمائے اور اثاثے اس کے نوجوانوں اور طالب علموں کو مغربی تہذیب کے چنگل اور ذہنی مرعوبیت سے نکال کر رب کی غلامی میں پروتے ہوئے اُن کی ذہنی اور فکری آبیاری قرآن اور حضرت محمد ﷺکی سیرت کے مطابق کرے اور ان کو اقامت دین کے تصور سے ہمکنار کرتے ہوئے عملی میدان اور معاشرے میں ایک مثبت اور تعمیری کردار اداکرنے کے لیے تیار کیا جائے۔
الحمدللہ اللہ رب العالمین کی تائید و نصرت کے سائے تلے یہ تنظیم پروان چڑھتی رہی اور قرآن پاک کی سورۃ الفتح کی آیت نمبر۲۷کے مصداق نئی کونپل مضبوط ہوتے ہوئے اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی ، اور سایہ دار شجر کی صورت اختیارکرگئی ۔ لاکھوں طالب علم اس سے وابستہ ہوئے ۔ اس کے ذریعے دین کا حقیقی فہم زندگی کامقصد اور اعلیٰ و ارفع نصب العین اپنے ذہنوں میں سجاتے ہوئے ایک حقیقی انقلاب اپنی زندگیوں میں پیداکیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے قیام کابنیادی مقصد یہی تھاکہ تعلیمی اداروں سے ایسے باصلاحیت طالب علم تیار ہو کر نکلیں جو ایک طرف قرآن و حدیث کا گہرا علم اور فہم رکھتے ہوں ، دین کے حقیقی تصور سے آگاہ ہو کر کردار کے اسلحے سے آراستہ ہو ں ۔ بندگی رب کے تقاضے پوراکرنا جانتے ہوں ۔ دوسری طرف اپنی فیلڈ اور اپنے شعبے میں اعلیٰ درجہ کی مہارت کے حامل ہوں اور اس جدید دنیا میں اسلام کو بطور نظام حیات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے گذشتہ۷۱ برسوں میں متفرق شعبہ جات دعوت ،تربیت ، خدمت، طلبہ حقوق کی جدوجہد ،ملکی اور بین الاقوامی ایشوز پر موقف کے ذریعے سیاست میں اپنا ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ہر دور میں حالات کو سمجھتے ہوئے اپنے لیے چیلنجز کا تعین کرتے ہوئے اسی مناسبت سے حکمت عملی ترتیب دی اور اپنے لیے اہداف کاتعین کرتے ہوئے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہ واحدطلبہ تنظیم ہے جو کہ پورے ملک میں ایک ملک گیر تنظیم کے طور پر موجود ہے ، ہر طرح کے علاقائی ، قومی ، لسانی اورفرقہ وارانہ تعصبات سے پاک ہے اور ایک واضح نصب العین اور پروگرام کے حصول کے لیے ایک دستوری دائرے کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کر رہی ہے۔
آج کے دور میں جب وطن عزیز پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ دہشت گردی ،بدامنی ، لاقانونیت ،مہنگائی ، بے روزگاری ، لوڈ شیڈنگ ، میرٹ کی پامالی ، کرپشن ،ایسے بے شمار مسائل ہیں جن کی وجہ سے عوام بالعموم اور نوجوان بالخصوص مایوسی اور نااُمیدی کاشکار ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں گذشتہ کئی سالوں سے اسلامی جمعیت طلبہ انہی نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر اجالوں اور ترقی کی سمت طے کرتے ہوئے ان کو وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی اور استحکام کے اندر ایک جاندار کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں سرگرم عمل ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات کے تحفظ کی امین ہے اور ان شاء اللہ اپنی جدوجہد اور کاوشوں کے ذریعے سے اس ملک کو حقیقی معنوں میں اقبال اور قائد اعظم کی اُمنگوں اور ارادوں کے مطابق ایک خوشحال ،فلاحی ،ترقی یافتہ اور اسلامی پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
(سید صہیب الدین کاکاخیل : اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے   ناظم اعلیٰ ہیں )