لکھاری لکھاری » تازہ ترین » اے کعبہ کو جانے والے

ad




ad




اشتہار




تازہ ترین لکھاری

اے کعبہ کو جانے والے


عام چلن ہے کہ عمرہ یا حج پر پہلی بار جانے والے احباب کو دیگر مسلمان اپنے واقعات سنا کر بتاتے ہیں کہ انہیں خانہ کعبہ دیکھ کر یا حرم پاک جا کر یا روضہ مبارک کی جالیاں دیکھ کر کیسا محسوس ہوگا؟ دوسرے الفاظ میں وہ اپنے ذاتی تجربات کو بنیاد بناکر اپنےمخاطب کی سوچ سے کچھ توقعات وابستہ کردیتے ہیں. راقم کی دانست میں ایسا کرنا درست روش نہیں. ہر انسان اپنا ایک جداگانہ شعوری وجود رکھتا ہے اور قطعی لازمی نہیں کہ ایک انسان کا تجربہ دوسرے انسان کے تجربے کے مماثل ہی ہو. لہٰذا اگر کوئی انسان، دوسروں کے تجربات کی بناء پر پہلے سے اپنے لاشعور میں کچھ توقعات سجا لے اور بوقت عمرہ و حج اس کا ذاتی تجربہ ان توقعات سے مختلف نکلے تو فطری نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایک روحانی صدمے یا نفسیاتی ہیجان سے دوچار ہو جائے گا.

لکھاری ڈاٹ کام

ظاہر ہے کہ ایسی کسی ناخوشگوار کیفیت کا طاری ہونا اس انسان کی حالت عبادت کے پورے تجربے کو متاثر کرے گا. مثال لیجئے کہ آپ پہلی بار عمرہ کو جارہے ہیں اور آپ کا کوئی قریبی دوست آپ کو بتاتا ہے کہ جب اس نے خانہ کعبہ کو پہلی بار دیکھا تو بے اختیار زمین پر گرگیا یا بیہوش ہوگیا یا زار و قطار رونے لگا. ساتھ ہی وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آپ کے ساتھ بھی کم و بیش یہی کیفیت ہونے والی ہے. اب آپ اسی توقع کو سینے سے لگائے خانہ کعبہ کو ادب و خوف سے پہلی بار دیکھتے ہیں مگر اس دوست جیسی کیفیت سے محروم رہتے ہیں. نہ بیہوش ہوتے ہیں، نہ فرش بوس ہوتے ہیں اور نہ ہی آنکھیں فوری بھیگتی ہیں.

یہ وہ لمحہ ہے کہ جب توقعات کے ٹوٹنے سے ایک شدید اضطراب آپ کو گھیر سکتا ہے اور آپ اس لمحے میں موجود اپنی انفرادی روحانی کیفیت کو محسوس کرنے سے محروم ہوسکتے ہیں. وجہ یہی ہے کہ آپ کی نظر تو اپنی حقیقی کیفیت پر تھی ہی نہیں بلکہ آپ کی ساری تلاش اپنی کیفیت میں دوسرے کی کیفیت ڈھونڈھنے میں تھی. کسی دوسرے کا آپ سے پہلے یا آپ سے زیادہ رونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا تجربہ کامل ہے اور آپ کا ناقص. مجھ احقر کا ماننا ہے کہ اس بارگاہ میں ہر مخلص عبد روحانی تجربات سے گزرتا ہے مگر ان تجربات کی کیفیت یکساں نہیں ہے بلکہ ہر فرد کے مزاج و ضرورت کے مطابق ہے. لہٰذا ضروری ہے کہ نہ تو آپ کسی دوسرے کے کہنے پر توقعات کا محل تعمیر کریں اور نہ ہی کسی نئے جانے والے کو اپنے واقعات اس انداز میں سنائیں کہ اس کا انفرادی تجربہ متاثر ہو. اپنی کیفیات بتانے میں حرج نہیں مگر اس تلقین کے ساتھ کہ ہر فرد کا تجربہ مختلف ہے.
.

ایک اور روش یہ بھی ہے کہ سارا زور یہ سمجھانے میں لگا دیا جاتا ہے کہ کون سا رکن کیسے ادا کرنا ہے؟ اسکی باریک سے باریک ترین تفصیلات بیان کی جاتی ہیں. کیسے کھڑا ہونا ہے؟، کہاں کھڑا ہونا؟، کتنا فاصلہ رکھنا ہے؟ کس چکر میں کیا پڑھنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ. فرائض اور سنتوں کے ساتھ ساتھ مستحبات کی تلقین بھی اس سختی و تاکید سے کی جاتی ہے کہ جانے والے کو فرض و مستحب کی تخصیص ہی سمجھ نہ آتی اور وہ بوقت حاضری خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی مستحب عمل نہ کیا تو شائد عمرہ و حج ہی قبول نہ ہو. اس مقام پر کوئی قاری اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ راقم فقہی ضوابط کا منکر ہے. قطعی نہیں بلکہ حج و عمرہ سمیت کسی بھی عبادت کی فقہی تفصیل نہ جاننا تو بڑی حماقت ہے. عرض صرف دو باتیں کرنا چاہتا ہوں.

یہ بھی پڑھیں  عشق رسول ﷺ اور عقیدت کا مقام

پہلی یہ کہ ان ظاہری قوائد کی غیرضروری باریک تر تفصیل میں نہ جایا جائے اور دوسری یہ کہ ظاہر سے بھی زیادہ اس عظیم عبادت میں مضمر روحانی پہلوؤں کا حصول سیکھایا جائے جو جانے والے کا قلبی تعلق رب کریم سے قائم کردے. کیسی عجیب حقیقت ہے کہ حج و عمرہ کے ظاہری طریق سیکھانے کیلئے تو ان گنت ادارے ہیں اور بیشمار ورکشاپس کا اہتمام موجود ہے مگر طواف و سعی سمیت دیگر مظاہر عبادت کے روحانی پہلو کیا ہیں؟ ان کیفیات کا حصول کیسے ہو؟ کیا سوچنا ہے اور کیا نہیں سوچنا ہے ؟ ایسے سوالات کے کوئی شافی جواب نہیں دیئے جاتے. حد تو ہے کہ جہاں ایک جانب ظاہری طریقے پر سینکڑوں کتب موجود ہیں، وہاں حج و عمرہ میں تزکیہ نفس اور اس سے منسلک روحانیت پر کوئی باقاعدہ کتاب مقبول عام نہیں. صرف ایک ایسی روداد موجود ہے، جسے راقم واقعی اس ضمن میں معاون سمجھتا ہے.

وہ کتاب کسی دینی عالم یا صوفی کی نہیں بلکہ معروف یا بدنام مصنف ‘ممتاز مفتی’ کی تحریر کردہ ہے. کتاب کا نام ہے ‘لبیک’ اور اس میں ممتاز مفتی صاحب نے اپنی حج کی روداد جس میں ان کے مرشد و دوست قدرت اللہ شہاب ساتھ تھے ، تفصیل سے بیان کی ہے. کوئی ممتاز مفتی صاحب کی ذات و کردار کو کتنا ہی نشانہ کیوں نہ بنائے، میرا ناقص فہم یہی گواہی دیتا ہے کہ اس کتاب کے الفاظ کسی انشاء پرداز کے قلم سے نہیں بلکہ قلب سے نکلے ہوئے ہیں. یہ بلاشبہ ان چند کتب میں شامل ہے جنہیں پڑھ کر میں جانے کتنی بار رویا ہوں. یہ مختصر کتاب آپ پر مصنف کے تجربات تھوپے گی نہیں، یہ کتاب آپ کو شریعت کے مسائل بھی نہیں سمجھائے گی، یہ کتاب آپ کو پارسا بننے کا درس بھی نہیں دے گی مگر یہی کتاب اپنے قاری میں محبت کی ایک چنگاری ضرور سلگا دے گی. ان شاء اللہ
.

میری ہر عمرہ و حج پر جانے والے کو دو ہی نصیحتیں ہوا کرتی ہیں. پہلی یہ کہ وہ جانے سے قبل اس کتاب ‘لبیک’ کو سکون سے ضرور پڑھے اور دوسرا یہ کہ وہ مندرجہ ذیل جملے کو اپنے دل و دماغ پر ثبت کرلے. جملہ یہ ہے کہ “حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران حج و عمرہ آپ ہر وقت خود کو یاد دلاتے رہیں کہ “حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”. اصل حاصل یہی ہے کہ آپ وہاں ہمہ وقت اللہ کے سامنے حضوری کی کیفیت میں رہیں. یقین مانیئے کہ درجہ احسان میں بیان کردہ حضوری کی اس کیفیت کا حصول مکہ و مدینہ میں جتنا ممکن ہے، اتنی کہیں اور ممکن و آسان نہیں.

شرط فقط اتنی ہے کہ بندہ حصول کی کوشش کرے. افسوسناک امر یہ ہے کہ عین حج و عمرہ کے درمیان اور عین مکہ و مدینہ کے بیچ آپ کو لوگ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہوئے بھی ملیں گے. کسی کو شدید غصہ ہے کہ قطار میں بدنظمی کیوں ہے؟ کوئی سخت ناراض ہے کہ اسے اس کا مطلوبہ کمرہ کیوں نہیں ملا؟ کسی کو شکایت ہے کہ ٹیکسی والے نے پیسے زیادہ کیوں مانگ لئے؟ اور کسی کو شکوہ ہے کہ اسے صحیح سے کھانا کیوں نہ ملا؟ ایسے مواقع بھی ہوتے ہیں جب لوگ دست و گریبان ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور میری گنہگار سماعت نے تو غلیظ گالیاں بھی دیتے ہوئے کسی اللہ کے بندے کو سنا ہے.

ان سب کی یہ شکایات یکلخت ختم ہوجائیں اگر یہ اس حقیقت کو جان لیں کہ یہاں تو بس “حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”. اچھا بستر نہیں ملا؟ غیر اہم ہے. مناسب کھانا نہیں ملا؟ غیر اہم ہے. کسی نے دھکا مار دیا؟ غیر اہم ہے. کوئی آپ کا جوتا پہن گیا؟ غیر اہم ہے. اگر کچھ اہم ہے تو صرف حضوری اہم ہے. کچھ صاحبان تقویٰ تو حضوری بھلا کر اس بات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں کہ یہ عورتیں اور مرد اتنے اختلاط کیساتھ کیوں طواف کررہے ہیں؟ میں نے تو حضوری کے ساتھ بہت ڈھونڈھا مگر مجھے دوران طواف نہ کوئی ایک عورت نظر آئی اور نہ کوئی ایک مرد .. وہاں تو ہر سو بس عبد اللہ ہی عبد اللہ تھے. شائد کوئی میرے کان میں سرگوشی کر رہا تھا “حضوری


About the author

عظیم الرحمٰن عثمانی

میرا نام عظیم الرحمٰن ہے. میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا
-----

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مسلم نوجوان نسل میں مقبول اسکالروں کی اکثریت آج روایتی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں ہیں. ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر جاوید احمد غامدی تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر شیخ احمد دیدات تک، مولانا مودودی سے لیکر پرفیسر احمد رفیق تک، یاسر قاضی سے لیکر نعمان علی خان تک. یہ سب اور بہت سے مزید مقبول اشخاص جو مسلم نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہ سب جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں---
روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسا احقر طالبعلم اپنی تمام تر ناقص العلمی کے اعتراف کے باوجود یہ کاوش کرنے پر مجبور ہے کہ ان جدید فلسفیانہ شکوک کے جوابات دے، دین کی گم گشتہ حکمت کو کھوجنے کی کوشش کرے اور پھر اہل علم کو اپنی اس کوشش پر علمی تنقید و اصلاح کی دعوت دے.

Add Comment

Click here to post a comment