لکھاری لکھاری » لکھاری » ایم ایم اے بحالی اور جماعت اسلامی ! فائدہ کس کا

ad

لکھاری میرے مطابق

ایم ایم اے بحالی اور جماعت اسلامی ! فائدہ کس کا


جو لوگ ایم ایم اے کی مخالفت کررہے ہیں وہ زمینی حقائق سے ناواقف ہیں ۔اس وقت زمینی حقائق اس قدر ناموافق ہیں کہ اگر ایم ایم اے کے بجائے جماعت نے تن تنہا الیکشن لڑا تو جیتی ہوئی سیٹیں بھی ہاتھ سے جاسکتی ہیں ۔ جبکہ ایم ایم اے سے جمعیت علماء اور جماعت اسلامی اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے ساتھ مزید سیٹیں بھی لے سکتی ہیں ۔

اقتدار کے ایوانوں میں کچھ لوگوں کا ہونا کسی کے نہ ہونے سے کہیں بہتر ہے ۔ اس کی مثال طارق اللہ صاحب کا حالیہ ترمیم کے موقع پر کردار ہے ۔

تحریک اسلامی کو نظریے اور پاکستانی سیاست میں فرق کرنا ہوگا یہاں آپ کیلئے نظریہ بھی اہم ہے لیکن اسمبلیوں میں پہنچنا بھی اہم ہے ۔ آپ کے نظریے کی سب سے ذیادہ ترویج اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب آپ کے پاس پاور ہو اقتدار ہو۔

اس لئے بڑے مقصد کیلئے چھوٹی چھوٹی باتوں سے پہلوتہی کرنا کسی صورت مولانامودودی رح کی فکر سے روگردانی نہیں ہے اور نہ ہی تجربات در تجربات کا عنوان دیا جانا چاہیے

جب جماعت سیدمودودی رح کی قیادت میں بھٹو کے خلاف اتری تھی تو کلین سویپ ہار نے سب کو حیران کردیا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا کہ جماعت اتنے برے طریقے سے ہارے گی لیکن ایسا ہوا ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سید کی فکر میں مسئلہ تھا یا جماعت کے طریقہ کار میں
مسئلہ یہ ہے کہ جس معاشرے کے افراد سے آپ مخاطب ہیں وہ صدیوں غلام رہے ہیں وہ اسلام کے بنیادی فسلفے سے ہی دور ہیں اور آپ ان کی ضرورت اس وقت تک ہوہی نہیں سکتے جب تک اس عوام میں شعور کی سطح بلند نہ ہوجائے ۔ جماعت اپنی دوطرفہ کوششیں جاری رکھے ۔ نظریاتی بنیادوں پر بھی اور سیاسی بنیادوں پر بھی کسی بھی محاذ کو خالی نہیں چھوڑنا چاہیے ۔

میرا نقطہ نظر چند روز پہلے بالکل تبدیل ہوا ہے اور اب میرا ماننا ہے کہ بڑے اور نیک مقاصد کیلئے اجتماعیت کے مفاد کیلئے ہر اس چھوٹی چھوٹی بات کو نظر انداز کردیں جو وقتی طور پر غلط نظر آرہی ہوتی ہے ۔ ہمیشہ مقصد سے موازنہ کریں کہ جو آپ کرنے جارہے ہیں وہ آپ کے مقصد کے الٹ تو نہیں ہے اگر ایسا نہیں تو ایم ایم اے کیا ہر ایسا اتحاد قائم کرنا چاہیے جو جتنی ذیادہ سیاسی قوت فراہم کرسکے ۔