نفرت کے جذبے کو پالنے سے پہلے

ad



ad

لکھاری میرے مطابق

نفرت کے جذبے کو پالنے سے پہلے


نفرت کے جذبے کو پالنے سے پہلے یہ ضرور مدِنظر رکھنا چاہیے کہ وہ نفرت کسی انسان سے نہ ہو……..بلکہ وہ انسان جن گناہوں میں مبتلا ہے ان سے ہو…..
•انسان کی انسان سے نفرت اس کو تخریب کار اور دہشتگرد بناتی ہے……جو معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے…
•انسان کو ان گناہوں سے نکالنے کے لیے ہمیں اخلاقیات اور برداشت سے کام لینا ہو گا………… نہ کہ طنز و تنقید سے،،،
اگر ہمارا رویہ طنز و تنقید والا ہوا تو وہ اس انسان میں مزید بگاڑ پیدا کرے گا،،،،!!

یہ بھی پڑھیں یہی پیغام محبت ہے

اپنے رویے اور برداشت پر محنت کرنا ہر داعی کے لیے ضروری ہے۔۔۔!!
•داعی کے ذمے ہے ہی پیار اور محبت سے پیغام پہچانا……داعی کو جنت یا جہنم کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں..
•پیار و محبت سے پیغام پہچانتے رہیے……خود کو بھی گناہوں سے بچانے کی کوشش کیجیے اور دوسروں کو بھی دعوت دیجیے…!!!
یاد رہے نیکی کرنا تو بہت آسان ہے____اور اصل کام تو گناہوں سے بچنا ہے____زیادہ توجہ گناہوں سے بچنے پر رکھیں گے تو ہم انشاءاللہ ایک دن متقی بن جائیں گے…!!!