لکھاری لکھاری » لکھاری » بیت المقدس ! کیا فیصلہ کن مرحلہ آچکا ہے

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

بیت المقدس ! کیا فیصلہ کن مرحلہ آچکا ہے

  • 12
    Shares

المیہ یہ ہیکہ ہم نہیں جانتے ہمارا دشمن کون ہے اور وہ کیا چاہتا ہے، اس کے آئندہ کے منصوبے کیا کیا ہیں وہ کیسے زیر ہوسکتا ہے جبکہ وہ سب جانتا ہے کہ ہم کیا ہیں ہم کیسے زیر ہو سکتے ہیں اسی لئے وہ ہم پر بھاری ہے جب چاہے ہمیں لسانی فسادات میں ملوث کردے جب چاہے اپس میں کافر کافر کے شوشے چھڑوا دے اور ہمارے جذبات ہمیں سوچنے کی مہلت بھی نہیں دیتے اور ہم اس کے اشاروں کر چل پڑتے ہیں.

یہودیت میں آخری ایام یا خدا کا دن (یوم یہواہ) کی طرف بار بار اشارہ ہوا ہے اور یہ وہ دور ہے جب یہودی قوم کی عظمت اپنی انتہا تک پہنچے گی اور گنہگار نیست و نابود ہوجائیں گے اور یسی (داؤد کے باپ) کی نسل سے ایک بادشاہ جس پر خدا کی روح قرار پائی ہے ـ اور صاحب حکمت اور خدا کا خوف رکھنے والا ہےـ ظہور کرے گا اور دنیا کو عدل اور خیر و برکت سے پر کرے گا اور حالت یہ ہوگی کہ بھیڑیا دنبے کے ساتھ رہے گا اور چیتا بکرے کے ساتھ ایک مقام پر آرام کرے گا۔ یہودی عقائد کے مطابق مسیح بادشاہ داؤد کی نسل سے ہوگا اور ربی کے ادبیات میں “بن داؤد” کے نام سے مشہور ہے۔ مسیح کو بائبل میں مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے اور بائبل کی وہ آیات جو یہودی علماء کی تفسیر کے مطابق مسیح کی طرف اشارہ کرتی ہیں ـ

مسیح کے دور کے حالات
١. یروشلم کی تعمیر نو ہوگی۔
٢. ویرانیاں ختم ہونگی۔
٣. پورے عالمِ فطرت میں صلح و امن قائم ہوگا۔ یہاں تک کہ بدترین دشمن جانور بھی آپس میں دوست ہونگیں جیسے بیل اور شیر۔
٤. دنیا بھر میں غم اور جنگ کا خاتمہ ہوگا۔
٥. دنیا سے موت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائےگا۔

↑ بائبل: عہد نامہ قدیم (عہدِ عتیق)، یسعیاہ54:11 اور باب 12۔
↑ بائبل: عہد نامہ قدیم (عہدِ عتیق)، حزقی ایل 16:55۔
↑ بائبل: عہد نامہ قدیم (عہدِ عتیق)، یسعیاہ 8-11:6
↑ بائبل: عہد نامہ قدیم (عہدِ عتیق)، یسعیاہ 65:19۔
↑ بائبل: عہد نامہ قدیم (عہدِ عتیق)، یسعیاہ 25:8۔

علاوہ ازیں تالمود کی تعلیمات جن کے مطابق خدا نے یہودیوں سے تین عہد لئے تھے جن میں سے دو یہ ہیں
١. یہودیوں کو غیر یہودیوں کے خلاف بغاوت نہیں کرنی چاہئے اور
٢.مسیح کی آمد سے پہلے فلسطین کی طرف اجتماعی نقل مکانی نہیں کرنی چاہئے۔

١٥٠٠ سالہ ماضی کے دوران روایت پسندانہ یہودیت کے ربیوں کی اکثریت نے مذکورہ دونوں عہدوں کی یہی تعبیر کی ہے کہ جلاوطنی ( دربدری) یہودیوں پر لازمی ہے اور یہ دربدری خدا نے ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے عائد کر رکھی ہے
( اسرائیل میں بنیاد پرستی۔ ٥٣ -٥٢)

لیکن جیسا کہ تاریخ گواہ ہیکہ یہود ہمیشہ سے ایک سرکش قوم رہی ہے یہی وجہ ہیکہ یہود میں سے چند سرکشوں نے صیہونی نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا کام عہد شکنی کر کے تمام یہودیوں کو اکھٹا کر کے یروشلم کی طرف لوٹانا ہے صیہون یا زیون بیت المقدس یا یروشلم کا ایک حصہ ہے۔ انجیلمیں اسے حضرت داؤد کا شہر کہا گیا ہے۔ یہودی اسے حیات نو اور اسرائیلی حکومت کے مقام کی نشانی شمجھتے ہیں۔ 70 ق۔م۔ میں رومن سلطنت نے یہودیوں کی سلطنت کا خاتمہ کردیا اور یہودیوں کو جلاوطن کردیا تب ہی سے وہ فلسطین لوٹنے اور اپنی ریاست پھر سے قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

 

صدیوں وہ مختلف قوموں کے ظلم و ستم کا نشانہ رہے اور یہ خواب وہ اپنے دلوں میں چھپائے رہے۔ ہر جگہ اپنے مذہب اور اپنی علاحدہ شخصیت سے چمٹے رہے۔ یورپ میں صنعتی انقلاب اور ابھرتی روشن خیالی کی وجہ سے وہ اپنے حصہ سے باہر نکلنے لگے اور اٹھارویں اور انیسویں صدی میں وہ اپنے آپ کو کسی قدر ان قوموں سے وابستہ کرنے لگے جن میں وہ رہتے تھے۔ یہودیوں نے ویسے کبھی بھی اپنے وطن کا خواب ترک نہیں کیا تھا ان میں سے بعض اب یہ کہنے لگے تھے کہ چونکہ وہ ایک علاحدہ قوم ہیں اس لیے ان کے واسطے ایک علاحدہ وطن ضروری ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ لیکن مشرقی یورپ کے یہودی اپنی اسی پرانی ہٹ پر قائم تھے یعنی ان کا وطن سوائے فلسطین کے اور کہیں نہیں ہوسکتا۔
شروع می صیہونیت یا یہودی وطن کی تحریک سیاسی نہیں تھی صرف تہذیب تک محدود تھی۔ تھیوڈور ہرزلی نے پہلی مرتبہ یہ باقاعدہ تجویز پیش کی کہ قوموں کی یہودی دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک یہودی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ چنانچہ اس نے ١٨٩٧ میں بیل (سوئٹزرلینڈ) میں پہلی صیہونی کانفرنس منعقد کی۔ اس کی شاخیں ان تمام ملکوں میں قائم کی گئیں جہاں یہودی کافی تعداد میں موجود تھے۔ ان سرگرمیوں میں امریکا کے یہودیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس تحریک میں پہلی دراڑ اس وقت پڑی جب انگلستان کے یہودیوں نے ١٩٠٥ کی کانگریس میں یہ تجویز پیش کی کہ یہودیوں کا وطن لازمی نہیں کہ فلسطین میں ہی قائم ہو، کہیں اور بھی قائم ہوسکتا ہے۔ برطانیہ کی طرف سے اس کے لیے یوگانڈا (مشرقی افریقہ) کا علاقہ پیش کیا گیا جو اس وقت انگریزوں کے قبضہ میں تھا لیکن بڑی اکثریت نے یہ تجویز رد کردی۔ اکثریت کےرہنما ویزمان کی سرکردگی میں تحریک تیزی کے ساتھ منظم ہوتی رہی، اس نے سلطان ترکی سے فلسطین میں یہودیوں کے کچھ حقوق بھی حاصل کر لیے۔

پہلی جنگ عظیم میں ترکی، اتحادیوں کے خلاف جرمنی کا حلیف تھا۔ برطانیہ کا وزیر خارجہ اس وقت بالفور تھااور برطانویسیاست میں نہایت بااثر تھا چنانچہ اس نے ایک اعلان نامہ شائع کیا جس میں اس کا وعدہ کیا گیا کہ یہودیوں کی اس میں مدد کی جائے گی کہ وہ اپنا وطن فلسطین میں قائم کریں۔ اس جنگ میں جرمنی کے ساتھ ترکی کو شکست ہوئی اور مشرققریب کا بڑا علاقہ فرانس اور انگلستان نے آپس میں بانٹ لیا۔ فلسطین پر انگریزوں کو تولیت حاصل ہوئی اور اس کے ساتھ بڑی تعداد میں یہودی فلسطین میں آکر بسنے لگے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد

صیہونیت کی تحریک نے اور زور پکڑا اور برطانیہ کی مدد سے اسرائیل کی ریاست قائم کر دی گئی۔ اس کے بعد صیہونیت کی تحریک نے اسرائیل سے بظاہر اپنے آپ کو الگ کرلیا اس لیے کہ اسرائیل اب ایک آزاد ریاست تھی اور اس تحریک کا تمام دنیا کے یہودیوں سے تعلق ہے۔ اب یہ نہ صرف ساری دنیا کے یہودیوں کی تہذیبی و تعلیمی سرگرمیوں میں تال میل پیدا کرتی ہے اور انھیں منظم کرتی ہے، ساتھ ہی مالی امداد بھی جمع کرتی ہے اس کا ایک بڑا مقصد اسرائیلی ریاست کو اتنا وسیع کرنا ہے جس میں ساری دنیا کے یہودی آکر بس سکیں۔ اس توسیع بندی کے نتیجہ میں فلسطین کے لاکھوں عرب بے وطن ہوگئے
ایک وہ لوگ ہیں جو پچھلے سوا سو سالوں سے پلاننگ کر رہے ہیں اور ایک ہم جو بائیکاٹ کر رہے ہیں


  • 12
    Shares