انگریزی بچوں کو گونگا بنانے کی کوشش تو نہیں

ad



ad

انتخاب لکھاری

انگریزی بچوں کو گونگا بنانے کی کوشش تو نہیں


انگریزی  ! آج صبح ایک استاد میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ میرے شاگردوں کا دماغ بہت کمزور ہے

(زبیدہ مصطفی) آپ بتائیں کہ میں کیا کروں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس زبان میں پڑھاتے ہیں ، وہ بولے کہ انگلش میں پڑھاتاہوں ۔میں نے کہا کہ آپ اردو میں پڑھائیں اور پھر دیکھیں کہ وہی بچے بہت ذہین ہو جائیں گے ، جب ان کو زبان سمجھ نہیں آئے گی تو وہ بیالوجی ،فزکس یا پھر دوسرے مضامین کو کیسے سمجھ سکیں گے ۔زبان ایک ذریعہ ہے جس کو بروئے کار لا کرکسی بھی مضمون کے متعلق سمجھایا جاتا ہے ۔ ذریعہ وہ ہونا چاہیے جو بچہ سمجھ سکتاہو ،اس لئے بہت ضروری ہے کہ اساتذہ اس حوالے سے آواز اٹھائیں، مجھے تو لگتا ہے کہ سب اس پر خامو ش ہیں حالانکہ کئی اساتذہ کو بھی انگلش نہیں آتی لیکن وہ یہ بتانے میں شرم محسوس کرتے ہیں ،اگرچہ اس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جب یہ آپ کی زبان ہی نہیں تو آپ اسے کس طرح پڑھا سکیں گے اور نہ ہی بچہ پڑھ سکے گا ۔بچے کو ابتدا میں مادری زبان میں تعلیم دی جائے تاکہ اسے سمجھ میں آئے کہ وہ پڑ ھ کیا رہا ہے ۔

انگریزی کو دیگر مضامین کی طرح پڑھائیں۔کراچی میں جیسے سندھی پڑھائی جاتی ہے ،اسی طرح انگریزی بھی پڑھائیں۔ یوں کالج جانے تک طالبعلم کو اتنی انگریزی آ چکی ہو گی کہ وہ آگے بھی پڑھ سکے گا ۔ اگر پڑھانے کے پورے نظام پر نظر ڈالی جائے تو اردو آپ کالج میں بھی پڑھا سکتے ہیں ۔ ایک زمانے میں کراچی یونیورسٹی میں اردو اور انگریزی میں کلاسز ہوا کرتی تھیں۔پنجاب حکومت نے 4سال قبل جب یہ اعلان کیا تھا کہ اب سب کچھ انگریزی میں ہو گا ، انگریزی میں ہی بچوں کو پڑھایا جائے گا، اساتذہ کو 6ہفتوں میں انگریزی سکھا ئی جائے گی تاکہ وہ بچوں کو آگے انگریزی میں پڑھا سکیں ،اس میں برٹش کونسل بھی ان کے ساتھ تھی ،میں وہاں کے اساتذہ کو داد دیتی ہوں کہ وہ اس کے خلاف کھڑے ہو ئے اور ہڑتال کر دی کہ ہم انگلش میں نہیں پڑھا سکتے ،مجبوراََحکومت کو بات ماننا پڑی ،مجھے خود پنجاب کے ایک افسر نے بتایا کہ بہت سی خواتین باقاعدہ رو رہی تھیں کہ وہ نہیں پڑھا سکتیں۔ مجھ کو انگریزی سیکھنے میں کتنے سال لگے ،معلوم نہیں ، حکومت ان کو 6ہفتوں میں کونسی انگریزی سکھا سکتی تھی ،اب تک سمجھ نہیں آ سکی۔

جہاں کہیں بھی یہ ہو رہا ہے ، نہ صرف بچوں بلکہ اساتذہ پر بھی ظلم ہے ۔غریب کو غریب رکھنے کیلئے بھی زبان کا استعمال کیا جارہا ہے تاکہ ان کو مواقع نہ مل سکیں ،وہ آگے بڑھ نہ سکیں کیونکہ جب آپ یہ پابندی لگا دیں گے کہ جب تک انگریزی، نہیں آئے گی تو آپ کچھ نہیں کر سکتے ،امتحان نہیں دے سکتے تو پھر وہ کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ بھارت میں بھی پہلی زبان ہندی ،دوسری علاقائی اور ان کیساتھ انگریزی ہے ۔ ہم ان سے مقابلہ لوگوں کو زبردستی انگریزی سکھانے کے بجائے دوسرے شعبوں میں کر سکتے ہیں ،آپ اردو میں سائنسدان بنائیں ،پھر انگریزی بھی سکھادیں تو اس سے بہتر اور کیا ہے ۔بھارت میں وہ جس طرح انگریزی بولتے ہیں مجھ کو سمجھ تو نہیں آتی لیکن ان کو معلوم ہے کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں اور کیا سیکھ رہے ہیں ۔یہ بات بھی بلاجواز ہے کہ دوسرے ممالک میں ملازمتوں کیلئے انگریزی ضروری ہے اور اس کے بغیر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تو سوال یہ ہے کہ کیا آپ پہلے مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ؟اگر نہیں تو پھر اس کا مطلب یہی ہے کہ کہیں نہ کہیں خرابی ہے ۔

جب آپ کمپیوٹر سائنس کی تعلیم ایک طالب علم کو اردو میں اچھی طرح دینگے اور وہ انگریزی کو بھی بطور مضمون پڑھ رہا ہو گا تو جب وہ فارغ ہو گا ، اسے انگریزی بھی آتی ہو گی اور وہ کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں بھی انگریزی میں پڑھنے والوں سے زیادہ قابل ہو گا لیکن اب تو اسے نہ کمپیو ٹر سائنس کا کچھ پتا چل رہا ہے اور نہ ہی انگریزی آرہی ہے ۔ہمارا یہی مسئلہ ہے کہ لو گ یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے ۔میرے بچے جو اردو میں پڑھتے ہیں وہ انگریزی میں پڑھنے والوں سے ہزار گنا بہتر ہیں کیونکہ ان کو سمجھ آرہی ہے کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔دوسرا نظام تعلیم چلانے والے انگریزی کو رائج کرکے اسے طلبا و طالبات کا منہ بند کرنے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں کیونکہ جب ان سے کہا جائے گا کہ انگریزی میں بات کریں تو وہ نہیں کر سکیں گے ،دوسری طرف اگر انہیں اردومیں کہا جائے گاتوپھر وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے اورسوالات بھی پوچھیں گے جوہماری حکومت اور نظام تعلیم چلانے والے نہیں چاہتے ،وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ بس جو وہ چاہتے ہیں، وہ ہو ،دوسرا اس پر سوال نہ اٹھائے ۔

یہ بچے کو گونگا بنانے کے مترادف ہے کیونکہ اگر شروع سے بچے کی یہ عادت ہو جا ئے کہ وہ سوال کرے اور ہر چیز سے متعلق پوچھے تو پھر ان کو جواب دینے پڑیں گے جو یہ لوگ نہیں چاہتے ،ہماری جمہوریت بھی ایسے ہی چل رہی ہے کہ کسی کو پوچھنے کا حق نہیں ،جو لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں ،بس وہی اپنی مرضی چلاتے ہیں ۔

یہ مضمون یہاں شائع ہوا تھا

بشکریہ  : روزنامہ دنیا