لکھاری لکھاری » لکھاری » بے مثال شوہر نامدار

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

بے مثال شوہر نامدار

  • 1
    Share

میں ایک آئیڈیل قسم کا شوہر ہوں ۔ نہی جی میں اپنے منہ میاں مٹھو نہی بن رہا ہوں بلکہ جو حقیقت ہے وہ ہی بیان کر رہا ہوں اور یہ بات صرف میں نہی کہتا بلکہ میری جان سے پیاری بیوی اور میرے ملنسار سسرالی رشتہ دار بھی میری اس خاصیت کونہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ سراہتے بھی ہیں اور جو میرے اپنے رشتہ دارمیرے بارے میں کہتے ہیں اسکا ذکر کرنے کی یہاں کوئی ضرورت نہی ہے ۔ مجھے پوری طرح اندازہ ہے ہر اس مشکل کا جس سے میری اکلوتی بیوی گزرتی ہے اور ہر اس مشکل کا حل نکالنا میں اپنا اولین فرض سمجھتا ہوں ۔

شادی کے فورا بعد مجھے اندازہ ہوگیا کہ میری حسین بیگم کے لیے اپنے گھر سے دور رہنا انتہائی دکھ کی بات ہے ۔ اگر چہ میری بیگم نے کبھی اس خواہش کا اظہار دبے لفظوں میں بھی نہی کیا تھا پر میں اسکے اماں کے گھر سے واپسی پر اسکا چہرہ دیکھا کرتا تھا ۔ جہاں مجھے اکژغم کی پرچھائیاں دکھا کرتی تھی ۔جیسے اسکا میرے ساتھ واپس جانے کا موڈ نہی ہے ۔ وہ وہیں اپنی اماں کے گود میں سر رکھ کہ لیٹنا چاہتی ہے ۔اپنے باپ بھائی کہ کاندھوں پر جھول کہ اپنی بات منوانا چاہتی ہے۔ اپنی بہن سے محبت بھری نوک جھوک میں مشغول رہنا چاہتی ہے ۔ آپ خود اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جہا ں جانو نے اپنا حسین بچپن گزارا اپنی سکھیو ں کے سنگ جس آنگن میں کھیلا اسے چھوڑ کر آناانکی حسین آنکھوں میں آنسو لانے کا باعث بنتا ہوگا یا نہی۔اس بات کا اندازہ ہونا تھا کہ میں بے چین ہوگیا کہ کیا کروں کے میری بیوی کو سکون ملے ۔

پہلے پہل میں نے سوچا کہ چلو سسرال چل کے رہا جائے ۔ ساتھ رہیں گیں تو سسرال والوں سے اچھے تعلقات اور اچھے بلکہ خوشگوار حد تک اچھے ہوجائینگے ۔مگر پھر ایک دم سے ابا مرحوم کا جلالی رخسار مبارک انکے مشہور زمانہ قول کے ساتھ یاد آگیا ۔مرحوم فرمایا کرتے تھے سسرال میں رہتے داماد اور گلی میں پھرتے کتے میں سے میں کتے کوزیادہ قابل احترام اور با عزت سمجھتا ہوں ۔مرحوم کے خیالات اتنے شدت پسندانہ تھے کہ پورے 40سالہ ازدواجی کیریر میں مجال ہے جو کبھی کسی سسرالی رشتہ دار سے سیدھے منہ بات کی ہو۔انکا ریکارڈ تھا کہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک سسرال کے نمک کے ذائقہ سے بھی اپنی زبان کو محروم رکھا ۔ وہ تو ٓآخری ایام علالت میں ہماری نانی مرحومہ ,ﷲ انہے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے, ابا کے لیے یخنی بنا کے لے آتی تھی اور خدا رسول کا واسطہ دے کر انہیں کسی نہ کسی طرح پلا دیا کرتی تھیں۔ابا مرحوم کے ان خیالات کے با وجود میں ذاتی طور پر تو سسرال میں رہنے میں کوئی مضائقہ نہی سمجھتا ہوں مگر قبر میں موجود ابا محترم کے جسد خاکی کی بے چینی کے خیال سے اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا

آپ سب یقیناًاس بات پر حیران ہونگے کہ ایک ایسے سخت مزاج باپ کا بیٹا اس قدر درد دل رکھنے والا کیسا ہوسکتا ہے ۔ بس جیسے فرعون کے گھر موسی پروان چڑھے تھے ویسے ہی اپنے ابا جی اور انکی حد سے بڑھی خاندانی ناک کو کاٹنے کا فریضہ میرے رب نے میرے ہاتھوں لکھا تھا۔ میں نے شدت سے اپنی ماں کے وہ غم محسوس کیے تھے جو ابا جی کی بے اعتنائی اور انکی سختی نے انکو پہنچائے تھے ۔ یہ بات نہ تھی کے ابو نے کبھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی کی ہو بس انہوں نے اماں سے تعلق ہمیشہ فرض کی طرح ہی نبھایا تھا۔ اماں کی لاکھ کوششوں کے با وجود اس تعلق میں کبھی محبت شامل نہی ہوسکی تھی۔ ابا جی کے بقول بیوی جتنی بھی اچھی ہو ، ہوتی پاؤں کی جوتی ہی ہے ۔اسے اس کی اوقات میں رکھنے میں ہی بھلائی ہے

۔اپنی اماں کی زندگی بھر کی محرومی نے میری شخصییت پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔ جوانی میں قدم رکھتے ہی میں نے اپنے آپ سے یہ وعدہ کیا کہ میں اپنی بیوی کو دنیا بھر کی خوشیاں اور سکون دینے کے لیے ہمارے تعلق کی بنیاد پیار اور محبت پر رکھونگا۔

یہ ہی مقصد زہن میں رکھتے ہوئے میں یہ مسئلہ حل کرنا چاہتا تھا ۔ میں نے سوچا سسرال نہی جا سکتے توکیا ہوا چلو سسرال کے پاس چل کر رہتے ہیں۔اپنا گھر بھی کوچہ ساس میں بنا لیتے ہیں ۔ تاکہ بیگم ہماری جب بھی اپنی اما ں ابا کی شفقت اور بہن بھائیوں کی بے لوث محبت سے خود کو محروم محسوس کرے تو بنا کسی مشکل کے اپنی اماں کی آغوش میں جا کے قلبی سکون پا سکے ۔مگر اس خیال کے ساتھ ہی میری پانچ عدد شادی شدہ بہنوں کے مسکین چہرے میری نظر کے سامنے باری باری گھوم گئے۔ جو اماں ابا کے جانے کے بعد سے جب بھی گھر آتیں، گھر کا کوئی نہ کوئی کونہ پکڑ کر روتی پائی جاتیں۔گھر کی ہر منڈیر ہر چوکھٹ سے انہے اماں ابا کی خوشبو آتی تھی ۔اس گھر سے انکی جذباتی وابستگی نے مجھے اس کام سے بھی باز رکھا۔

اب یہ مسئلہ میرے حواسوں پر حاوی ہوچکا تھا ۔میں کسی بھی حال میں اسکا حل نکال کر اپنی بیوی کی نظروں میں تشکر کے جذبات دیکھنا چاہتا تھا۔ میں اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے اسی مسلہ پر غور و فکر کرنے لگا۔ ہر صورت اپنی بیگم کی نظر میں سرخرو ہونا میرامقصدبن گیا ۔

پریشانی اتنی بڑھی کہ اس نیک بخت کی نظروں سے بھی چھپ نہ سکی۔کہنے لگی سرتاج آپ آج کل کافی پریشان لگ رہے ہیں؟ خیریت تو ہے نا؟ اگر کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائیے۔میں اسے دور کرنے کی ہرممکن کوشش کرونگی۔پہلے پہل تو میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی کہ میں اپنی پریشانی کیوں اس تک منتقل کروں۔کیوں خوامخوہ اسکی پریشانی کا با عث بنوں۔ مگر اس کے بیحد اصرارنے مجھے زیادہ دیر تک خاموش نہ رہنے دیااور میں نے اپنی ساری سوچ، ساری پریشانی اسکے گوش گزار کردی۔وجہ کا سننا تھا کہ ایک زوردارقہقہ اسکے حلق سے برآمد ہوا وہ اتنا ہنسی کہ اسکے آنکھوں میں آنسوں کے موتی چمکنے لگے۔جب ہنستے ہنستے تھک گئیں تو محترمہ بولیں سرتاج ایک وعدہ کریں آپ کبھی بدلیں گیں نہی۔ ہمیشہ ایسے ہی میری فکر کریں گیں۔ ایسے ہی میرے چین اور سکون کیے لیے ہر ممکن کوشش کریں گیں۔

میں نے کہا ہاں میری جان نہی بدلونگا مگر مجھے تو بتاؤ ایسا کیا لطیفہ سنا دیا میں نے جو تم اتنا دل کھول کر ہنسی ہو۔
لطیفہ ہی تو سنایا ہے آپ نے۔ بیگم اپنے ہاتھوں میں میرا ہاتھ تھام کر بولیں۔کسی بیٹی کو ماں کا گھر بس تب تک اچھا لگتا ہے جب تک اسکا اپنا گھر نہی ہوتا۔ جب اپنے پیا کے سنگ وہ اس دہلیز کو پار کرلیتی ہیں پھر بس اپنی ماں کے گھر میں اس کی حیثیت ایک مہمان سی رہ جاتی ہے۔ ایک ایسا مہمان جس کی خوب آو بھگت تو کی جاتی ہے مگر کبھی گھر کا فرد نہی سمجھا جاتا۔ اسکا اپنا گھر بسا رہے بس یہ دعا کی جاتی ہے۔اور جہاں تک میرے افسردہ ہونے کی بات ہے تو ہاں وقتی طور پر دل چاہتا ہے کہ کچھ اور وقت اپنے والدین کے گھر گزار لوں مگر سکون اپنے گھر آ کر ہی ملتا ہے۔ یہ میرا گھر اور آپ جیسے پیار کرنے والے شوہر کا ساتھ ہی میری جنت ہے جسے مجھے ہمیشہ قائم رکھنا ہے۔
آگے بڑھ کر میں نے اسے اپنی بانھوں میں قید کرلیا اور مجھے ایسا لگا جیسے میں مکمل ہوگیا ہوں۔


  • 1
    Share