لکھاری لکھاری » لکھاری » خواتین ڈرائیور !

ad

لکھاری میرے مطابق

خواتین ڈرائیور !


آج سے کوئی 10 یا 15 سال قبل کی بات ہے ، ہم بھائی گھر کے صحن میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ اچانک دھماکے دار ” دھڑام ” کی آواز سنائی دی ، باہر نکل کر دیکھا تو لان کی دیوار گری ہوئی تھی اور ایک ہائی روف گاڑی آدھی ہمارے گھر کے اندر اور آدھی باہر گلی میں کھڑی ہوئی تھی . اسی اثنا ابو جی بھی آگئے تو گاڑی کے اندر جھانکا ، سامنے تو دونوں سیٹیں خالی تھیں پر پیچھے ایک محترمہ ہاتھ باندھے بیٹھی ہوئی تھیں ، ابو نے غصے سے پوچھا کہ یہ کس نے کیا ہے تو محترمہ کمال معصومیت سے گویا ہوئیں ” مجھے نہیں معلوم ، پتا نہیں کیسے ٹکرا گئی ”
اچھا تو ڈرائیور کہاں ہے ؟ ابو نے پوچھا
ڈرائیو تو میں کر رہی تھی .. محترمہ اب بھی نہایت پرسکون تھیں
تو پھر پیچھے کیا کر رہی ہیں آپ ؟ اب ابو کا پارہ چڑھنے لگا تھا
” سوچ رہی ہوں کہ یہ دیوار کیسے بیچ میں آگئی ؟ ”
یعنی ان محترمہ کے بقول غلطی دیوار کی تھی جو وہ پھدک کر اچانک سامنے آگئی ورنہ گاڑی تو وہ بلکل ” سیدھی ” چلا رہی تھیں ..
دو سال قبل لاہور جانا ہوا . بیچ سڑک سے سروس روڈ کی طرف جانے کے لئے کٹ بنا ہوا تھا اور ہمیں اسی سروس روڈ پر جانا تھا لہٰذا اس موڑ کی طرف رخ کردیا لیکن ایک گاڑی پہلے سے بیچ سڑک پر سروس روڈ کی جانب رخ کئے کھڑی تھی ، نا آگے جارہی تھی اور نا ہی پیچھے آنے کا نام لے رہی تھی ، ڈرائیور دوست کے 3،4 بار ہارن مارنے کے باوجود جب گاڑی ٹس سے مس نا ہوئی تو مجبورا مجھے اتر کر جانا پڑا ، شیشہ بجانے پر ایک خوبصورت محترمہ نے شیشہ نیچے کیا اور کمال بے نیازی سے پوچھا ” جی کیا مسئلہ ہے ؟ ”

مسئلہ یہ ہے کہ آپ بیچ روڈ میں گاڑی موڑ کر کھڑی ہوئی ہیں جس سے ٹریفک جام ہورہا ہے ، میں نے حسب توفیق شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
” اچھا یار I will call you later ” خاتون گویا ہوئیں اور میں خوش ہوا کہ شاید وہ مجھ سے میرا نمبر مانگنا چاہ رہی ہیں ، اس سے قبل کہ میں اپنا نمبر بتانا شروع کرتا وہ میری طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں ” جب بندہ فون پر بات کر رہا ہو تو تھوڑی دیر صبر کرلیتا ہیں انسان ، ایسی کونسی قیمت آگئی ؟ ”

یعنی کہ وہ محترمہ کٹ کے بلکل درمیان گاڑی کھڑی کرکے فون پر کسی سے محو گفتگو تھیں ، اور قصور تو سارا میرا تھا جو میں انکی کال کو ڈسٹرب کرنے کا باعث بنا اور سب سے حیرت کی بات تو یہ کہ میں انہیں ” سوری ” کہ کر واپس گاڑی میں آ بیٹھا اور اپنے دوست کو خون آلود نظروں سے گھورنے لگا کہ اسکی وجہ سے اس حسینہ کی نظروں میں میری ذات بدتمیز قرار پائی :/

اب بھی اگر دوستوں کے ساتھ کہیں باہر جانا ہوتا ہے تو خاتوں ڈرائیور آس پاس دیکھ کر ہی ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں کہ اب ہمیں گاڑی بھی سنبھالنی ہے ، روڈ پر بھی نظر رکھنی ہے اور اس خاتوں ڈرائیور سے بھی محفوظ رہنا ہے کیوں کہ وہ کہیں سے بھی اور کیسے بھی فزکس کے تمام اصولوں کو جوتی کے نیچے مسلتے ہوئے آپکی گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتی ہے .
حکومت وقت سے درخواست ہے کہ وہ خاتون ڈرائیور کو لائسنس جاری کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائے کہ اس گاڑی کے پیچھے سرخ الفاظ میں واضح لکھا ہوا ہو کہ
احتیاط کیجئے ڈرائیور ایک ” مادہ ” ہے !!