لکھاری لکھاری » لکھاری » یہ غازی یہ تیرے پرسرار بندے

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

یہ غازی یہ تیرے پرسرار بندے

  • 13
    Shares

آج ایک محفل میں ایک فوجی دوست جو جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں شریک رہا اور چھٹی پر لاہور آیا ہوا ہے اسنے وہاں کا ایک ایمان افروز واقعہ سنایا جو کچھ یوں ہے کہ ایک رات جب ہم اگلی صبح دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور کاروائی کی پلاننگ کررہے تھے اور یہ کاروائی انکے ایک بہت بڑے کمپاؤنڈ پر کرنا تھی جو کہ عسکری اعتبار سے بہت مشکل اور خطرناک آپریشن تھا۔دہشتگردوں کے بڑی تعداد مہلک ہتھیاروں سے لیس اپنی کمین گاہ میں چھپی ہوئی تھی۔
پلاننگ کے دوران ہمارے ایک ساتھی سپاہی امداد حسین نے انتہائی جذبے اور شوق سے کمانڈر کو کہا کہ سر مجھے آپ سے ایک اجازت لینا ہے کہ مجھے اس مشن پر اپنی مرضی سے ایمونیشن لے جانے اور سب سے آگے چلنے کی اجازت دی جائے کل آپ دیکھیے گا کہ میں ان شاء اللہ کیسے ان ظالم خوارج کی اینٹ سے اینٹ بجاتاہوں جو ہمارے نہتے اور معصوم شہریوں پر موت بن کر مسلط ہوتے ہیں۔

جب اسنے یہ الفاظ کہے تو اسکی آنکھوں کی چمک اور چہرے کی لالی دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے دشمن اسکے بالکل سامنے ہو اور وہ بس ابھی انھیں کچا ہی چبا جائے گا۔ کمانڈر نے اس جوان کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ اللہ تمھارے اس عزم میں تمھیں کامیاب کرے کل تمھیں ایمونیشن لے جانے اور آگے رہنےکےحوالے سے کھلی آزادی ہے۔

صبح تہجد کے بعد ہماری ٹکڑی نے مشن پر روانہ ہونا تھا، وہ جوان نماز کے بعد آیا اور اپنے ساتھ اسنے تقریباً تین جوانوں کے برابر ایمونیشن لے لیا جسمیں بڑی تعداد دستی بموں کی تھی۔ ہم نے سوچا کہ یہ دشوار گذار پہاڑی علاقے میں اتنے وزن کے ساتھ کیسے چل پائے گا لیکن ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اسکی چال ہم سب سے تیز تھی اور وزن کا ہلکا سا اثر بھی اسکے چہرے سے عیاں نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ جوان ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔

ابھی ہم اپنی منزل سے دور ہی تھے کہ اچانک ہمیں دور سے زبردست جھڑپ کی آوازیں آنے لگیں، یوں لگتا تھا کہ ہم سے پہلے ہی جیسے ہمارے سے بھی بڑی ٹکڑی نے دشمن پر ہلا بول دیا ہو۔ ہمارے کمانڈر نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا کہ جب تک آگے جاری جھڑپ کی آوازیں مدہم نہیں پڑینگی ہم آگے نہیں بڑھینگے۔کافی دیر زبردست جھڑپ کے بعد دھماکوں اور مشین گن کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں تھوڑی مدہم پڑیں تو ہم دشمن کے کمپاؤنڈ کی طرف آگے بڑھے۔ اللہ کے فضل سے کمپاؤنڈ ستر فیصد تباہ ہو چکا تھا اور انکو پوری طرح نیست ونابود کرنے میں ہمیں زیادہ دیر نہیں لگی۔
اسی اثناء میں پوپھٹنا شروع ہوچکی تھی جب ذرا روشنی پھیلی تو ہم نے دیکھا کہ دشمن کو ستر فیصد تباہ کرنے والی کوئی دوسری ٹکڑی نہ تھی بلکہ وہ ہمارا اکیلا ساتھی تھا جسنے اپنا رات کا وعدہ سچا کر دکھایا اور اللہ نے اسکے جذبے کو قبول کرتے ہوئے نہ صرف اسکو اتنی ہمت دی کہ وہ اپنا قول نبھا پایا

بلکہ انعام کے طور پر اسکو شہادت کے درجہ پر بھی سرفراز کیا۔ جب ہم شھید کا جسد خاکی اٹھا رہے تھے تو اسکے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جو لائٹ مشین گن کی گولی سے چھلنی نہ ہو جبکہ اسکا مکمل ایمونیشن لڑائی کی نظر ہوچکا تھا اور وہ پورا کمپاؤنڈ جگہ جگہ سے اسکے دستی بموں سے کھنڈر بن چکا تھا۔

یہ واقعہ ہمارا وہ دوست یوں سنا رہا تھا جیسے یہ کسی بہترین فلم کی کہانی ہو جسمیں ہیرو کا کردار لازوال ہو اور سنانے والا یوں رشک سے سنائے کہ کاش اس ہیرو کی بجائے میں ہیرو ہوتا۔ سچ ہے جبتک ہماری دھرتی کی مائیں ایسے سپوت جنتی رہیں گی کوئی دشمن ہمیں شکست نہیں دے سکتا، ان شاء اللہ بیرونی اشاروں اور امداد پر چلنے والا یہ خوارج کا ٹولہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہے گا اور ہماری دھرتی ایکدفعہ پھر امن اور خوشیوں کا گہوارہ بنے گی۔ آمین


  • 13
    Shares