لکھاری لکھاری » لکھاری » مسلم لیگ کے 5ارکان اسمبلی مستعفی-مشکلات میں اضافہ

ad

لکھاری

مسلم لیگ کے 5ارکان اسمبلی مستعفی-مشکلات میں اضافہ


حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے 2 ایم این ایز ، 3 ایم پی ایز اور 30 چیئرمینوں نے ختم نبوت ﷺکے معاملے پر مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کی زیر صدارت فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ میں تحفظ ختم نبوتﷺ کانفرنس جاری ہے جس میں لیگی ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی شریک ہیں اور اپنے استعفوں کا باری باری اعلان کر رہے ہیں۔ ختم نبوت کانفرنس کے دوران اب تک ن لیگ کے ایم این ایز غلام بی بی بھروانہ اور ڈاکٹر نثار جٹ اپنے استعفے دے چکے ہیں۔

علاوہ ازیں ایم پی اے نظام الدین سیالوی نے بھی اپنی نشست سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ہزار سیٹیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں، یہ میرے لیے بڑی سعادت ہے، ختم نبوت کیلئے میں اپنی جان ، مال اور ہر چیز قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔ ارکان پنجاب اسمبلی مولانا رحمت اللہ خان اور محمد خان بلوچ نے بھی کانفرنس کے دوران استعفوں کا اعلان کیا ہے۔صاحبزادہ حامد رضا جو کہ ختم نبوت ﷺ کانفرنس میں میزبانی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، کی طرف سے ارشد قمر گرواہ صدر مسلم لیگ ن علماء ونگ پنجاب اور ملک عاصم شہزاد سمیت 30 یونین کونسلز کے چیئرمینوں کے استعفوں کا اعلان سامنے آچکا ہے۔

جبکہ ابھی کانفرنس جاری ہے اور امید کی جارہی ہے کہ مزید رہنماء بھی استعفیٰ دیں گے۔مسلم لیگ ن مولوی خادم حسین رضوی کے اسلام آباد دھرنے کے بعد سے مشکلات کا شکا ر ہے ۔مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہی ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی جس کے بعد ملک بھر سے عوام نے بڑی تعداد میں ممتازقادری کے جنازے میں شرکت کی۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے خلاف سخت احتجاج بھی کیا گیا اور کئی شہروں میں میاں نوازشریف کے پتلے بھی جلائے گئے ۔جس کے بعد صورتحال معمول پر آتی گئی ۔ لیکن حالیہ انتخابی اصلاحاتی بل میں ترمیم کے موقع پر مسلم لیگ ن کے وزیر قانون زاہد حامد نے جب ترمیم اسمبلی میں پیش کی تو اس میں ختم نبوت ﷺ کی شق میں حلف کے الفاظ کو خذف کردیا گیا تھا۔جس پر ملک بھر میں احتجاج کیا گیا جس کے بعد ترمیم تو واپس لے لی گئی اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کام تھا کہ وہ ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کاروائی کی سفارشات مرتب کرے گی لیکن اس کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر نہ آسکی۔

جس کے بعد تحریک لبیک یارسول اللہ نے اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے دیا۔یہ دھرنا دو درجن سے زائد دن رہا جس کے بعد اس دھرنے پر آپریشن کیا گیا جس کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا اور حکومت کو آپریشن روکنا پڑا جبکہ میڈیا 24گھنٹوں کے لئے آف ایئر رہا ۔اس دوران حکومت اور مظاہرین کے درمیان فوج کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے اور حکومت نے دھرنا مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرلئے وزیر قانون نے استعفیٰ دے دیا۔اور یوں دھرنا ختم کردیا گیا لیکن اس دھرنے کے بعد اشرف آصف جلالی نے لاہور میں دھرنا جاری رکھا جبکہ پیر حمید الدین سیالوی نے رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ کردیا اورانہوں نے مزید کہا کہ رانا ثنا ء اللہ ان کے پاس آکر دوبارہ کلمہ پڑھیں اور قادیانیوں سے متعلق اپنے ریمارکس پر معافی مانگتے ہوئے تسلیم کریں کہ قادیانی بلا شک و شبہ کافر ہیں ۔جس کے بعد پہلے تو مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ اس معاملے پر پیرصاحب کی بات پر عمل کیا جائے گا لیکن بعدازاں حکومت نے پیر صاحب کو کسی بھی قسم کی لفٹ کرانے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد پیر حمیدالدین سیالوی نے آج فیصل آباد میں جلسے اور استعفوں کا اعلان کیا تھا۔اس جلسے کو ختم نبوتﷺ کانفرنس کا نام دیا گیا تھا۔اس وقت یہ پروگرام جاری ہے ۔