لکھاری لکھاری » کالم » جیمزمیٹس کی پاکستان آمد اور سی آئی اے سربراہ کی دھمکی

ad

کالم لکھاری

جیمزمیٹس کی پاکستان آمد اور سی آئی اے سربراہ کی دھمکی


وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے بعد امریکہ کے وزیرِ دفاع جنرل جم میٹس بھی ‘ڈو مور’ کا ایک نکاتی ایجنڈا لیکر پاکستان آئے اور بات چیت کرکے واپس چلے گیے۔جیمز میٹس صدر ٹرمپ کی ٹیم کے سب سے سلجھے ہوئے اور خوش اخلاق فرد ہیں جنھیں بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے اور وہ بات چیت کے دوران دھونس اور دھمکی کے بجاے باہمی دلچسپی کے مشترکہ پہلووں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسکی وجہ سے متنازعہ امور پر بھی گفتگو خوشگوار رہتی ہے۔ ویسے تو ریکس ٹیلرسن بھی گفتگو اور تقریر کے ماہر ہیں اورتیل کی دنیا سے وابستگی کی بنا ہر انھیں ان معاملات پر بھی مدلل لیکن دلنشین بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے جہاں مقطع میں آ پڑی ہو سخن گسترانہ بات۔ ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق اپنے Bossکے اعتماد کا ہے۔

صدر ٹرمپ امریکی جرنیلوں سے بے حد متاثر ہیں اور اسوقت جنرل جیمز میٹس اور وہائٹ ہاوس کے چیف آف سٹاف جنرل جان کیلی صدر کے بے حد قریب سمجھے جاتے ہیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائک پومپیو بھی امریکی صدر کے منہہ اور طبیعتاًنک چڑھے ہیں۔ افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نکلسن کی طرح پومپیو بھی اپنی ذات کے گبند میں بند ہیں اور ان دونوں کا خیال ہے کہ مستندہے میرا فرمایا ہوا۔اسی عادت سے مجبور ہوکر جنرل میٹس کے دورے سے پہلے کیلی فورنیا میں ریگن نیشنل ڈیفینس فورم کی ایک تقریب میں بول اٹھے کہ جیمز میٹس پاکستانی قیادت کو صدر کے ارادوں سے آگاہ کرینگے اور انھیں باور کرایا جائیگا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم نہیں کریگا تو پھر انھیں تباہ کرنے کیلئے امریکہ خود قدم اٹھائیگا۔

جب سے یہ افواہ گرم ہوئی ہے کہ صدر ٹرمپ ریکس ٹیلرسن کو برطرف کرکے وزارت خارجہ کا قلمدان انھیں سونپنے والے ہیں مسٹر پومپیو نے خود کو ہنری کسنجر کے معیار کا سفارتکار سمجھنا شروع کردیا ہے۔اس نشست میں سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پانیٹا بھی موجود تھے جنھوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا ‘پاکستان ہمیشہ سے ہمارے لئے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جہاں سے یہ شدت پسند افغانستان جاتے ہیں اور حملہ کرکے واپس آجاتے ہیں’ کاش کوئی بھولے بادشاہ سے پوچھتا کہ جب یہ ساری نقل و حرکت حضرت کے علم میں ہے تو افغانستان میں تعینات کیل کانٹے اور قوت قاہرہ سے لیس امریکی فوج انھیں کیوں نہیں پکڑتی۔افغانستان میٓں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نکلسن کا انداز گفتگو بھی کچھ ایسا ہی تھا،فرمایا کہ ‘ہماری تنبیہ کے باوجود ہاکستان کا رویہ تبدیل نہیں ہوا اور دہشت گردوں کے ٹھکانے وہاں ویسے ہی موجود ہیں’۔

جناب پومیو کی دھمکی اور جنرل نکلسن کی گل افشانیوں کے مقابلے میں امریکی وزیر دفاع کا رویہ متوازن اور موڈ خوشگوار تھا۔ پاکستان روانگی سے پہلے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جیمز میٹس نےکہا کہ پاکستان علاقے کی ایک بڑی سیاسی، اقتصادی اور فوجی قوت ہے جس سے خوشگوار تعلقات ہمارے مفاد میں ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں اس دوستی سے دونوں ملکوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اپنے دورے کا مقصد بیان کرتے ہوئے جیمز میٹس نے بڑی وضاحت سے کہا کہ وہ پاکستانی رہنماوں سے بات چیت کے دوران مسئلہ افغانستان کے حل کیلئے مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنے کی کوشش کرینگے۔امریکی وزیردفاع نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کی قیادت نے بھی ملی امنگ اور قومی عزت ووقار کے مطابق مذاکرات کی تیاری کی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے مختصر سے عہد اقتدار میں عمدہ طرز حکمرانی کی بنیاد رکھی ہے۔ اہم معاملات پر مشاورت، اجلاس میں ٹیم کے ساتھ شرکت اور پروٹوکول کا پورا اہتمام انکی قیادت کا امتیازی نشان ہے۔ وہ اپنے پیشرو کی طرح خود کو عقل کل نہیں سمجھتے بلکہ پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ امریکی مہمان کا استقبال وزارت دفاع کے سینئر افسران نے کیا اور ماضی کی طرح امریکی وزیردفاع سے مصافحے کے لئے وزرا کی صفیں نظر نہیں آئیں۔ قومی لباس زیب تن کئے وزیراعظم انتہائی پراعتماد لگ رہے تھے۔

گفتگو کے دوران وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، وزیرِ دفاع خرم دستگیر، وزیرِ داخلہ احسن اقبال، قومی سلامتی کے لئے وزیراعظم کے مشیر ناصر جنجوعہ اور ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل نوید مختار نے شاہد خاقان عباسی کی معاونت کی۔ وائس آف امریکہ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ان روابط کو کثیر الجہتی بنانے کی ضرورت ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پرامن و مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گرد پاکستان آکر حملے کر تے ہیں اور یہ صورتحال پاکستان کیلئے قابل قبول نہیں جس پر جیمز میٹس نے پاکستانی قیادت کو یقین دلایا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔امریکی وزیردفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

ملاقات کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد سے جو اعلامئے جاری ہوئے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ بات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور پاکستان کا ‘مخصوص میڈیا’ وارننگ اور الٹی میٹم کا جو راگ الاپ رہاتھا امریکی رہنما کی باتوں کا اسکا شائیبہ تک نہ تھا۔ اسکی بنیادی وجہ وزیراعظم کا نرم، شائستہ و خوشگوار لیکن غیر معذرت خواہانہ دو ٹوک لہجہ، عمدہ ٹیم ورک اور باوقار طرز عمل تھا۔ نگہ بلندم سخن دلنواز جاں پرسوز